گلگت بلتستان میں انتخابی ماحول، اخلاقی بحران اور ہماری اجتماعی ذمہ داری ۔ اقبال عیسیٰ خان
گلگت بلتستان میں بھی وہی انتخابی فضا جنم لیتی دکھائی دے رہی ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی مجموعی سیاست کا حصہ بن چکی ہے۔ جیسے ہی انتخابات قریب آتے ہیں، سیاسی تلخی اپنی انتہا کو چھونے لگتی ہے۔ سیاست دان ہوں یا ان کے کارکن گفتگو میں شائستگی کی جگہ سخت الفاظ آ جاتے ہیں، خدمت کے بیانیے کی جگہ الزام تراشی چھا جاتی ہے، سچائی کا رواج کم اور بہتان کا چلن زیادہ نظر آتا ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف ناخوشگوار ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
پاکستان کی انتخابی سیاست بدقسمتی سے تقسیمِ ہند کے بعد سے ایک ایسے راستے پر چلی جس میں کئی بار نفرت، جھوٹ، بدزبانی، دباؤ، دھونس، حتیٰ کہ تشدد تک کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔ بعض انتخابی مہمات میں تو قتل و غارت گری تک دیکھی گئی۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ووٹ لینے کے لیے غیر اخلاقی ذرائع، جیسے منشیات، شراب اور دیگر منفی طریقے، بعض حلقوں میں معمول بن گئے، جس نے نہ صرف سیاست کو آلودہ کیا بلکہ نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت کو بھی متاثر کیا۔
آج انہی رویّوں کی بازگشت گلگت بلتستان میں سنائی دے رہی ہے, ایک ایسا خطہ جو اپنی شائستگی، امن پسندی، بھائی چارے اور سادگی کی مثال رکھتا تھا۔ مگر انتخابی موسم میں یہاں بھی تلخی، نفرت اور الزام تراشی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل کسی طور بھی اس خطے کے وقار، اس کے مستقبل یا اس کی نئی نسل کے لیے موزوں نہیں۔
خدا کے لیے انتخابات کو انتخابات رہنے دیں۔
انہیں جنگ نہ بنائیں، نہ دشمنی کا میدان، نہ بقا کی لڑائی۔ اختلاف کو دشمنی میں بدلنا کسی قوم کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ قومیں نفرت سے نہیں بنتیں۔
جھوٹ، گالی، الزام تراشی اور غیر اخلاقی ہتھکنڈے کسی مضبوط معاشرے کی بنیاد نہیں رکھتے۔ ایک قوم کی تعمیر میں دہائیاں نہیں بلکہ صدیاں لگتی ہیں, اخلاق، برداشت، کردار اور مثبت سوچ کے ذریعے۔
میری ذاتی اور مخلصانہ درخواست میں نہایت ادب سے گلگت بلتستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت سے گزارش کرتا ہوں کہ اس خطے کے لیے ایک مثال قائم کریں۔
خدارا اپنی انتخابی مہم کو اخلاقی، مہذب اور شائستہ رکھیں۔ نوجوانوں کو جمہوریت، برداشت، دلیل اور مکالمے کا سبق دیں۔ انہیں دکھائیں کہ سیاست گالی کا میدان نہیں، خدمت اور کردار کا سفر ہے۔
ہمارے نوجوان اکثر یہ جملہ کہتے ہیں کہ “سیاست ایک گندی چیز ہے” یہ سوچ ہمارے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ سوچ اسی وقت بدلے گی جب ہماری سیاسی قیادت اپنے کردار، اپنی گفتگو اور اپنے رویے سے ثابت کرے کہ سیاست ایک مقدس ذمہ داری ہے، کوئی گندا کھیل نہیں۔ ہماری نوجوان نسل آپ کو فالو کرنا چاہتی ہے، لیکن وہ آپ سے کردار، شائستگی، سچائی اور مہذب جمہوری رویوں کی توقع رکھتی ہے، نہ کہ گالم گلوچ، جھوٹ، بہتان اور انتقام کی سیاست کی۔
اگر آپ نے مثبت مثال قائم کی تو نوجوان آپ کی پیروی کریں گے؛ اگر آپ نے نفرت بوئی تو نوجوان سیاست سے بدظن ہوتے جائیں گے، اور یہ کسی خوشحال گلگت بلتستان کے لیے ہرگز اچھا نہیں۔ اختلاف رکھیے، مگر احترام کے ساتھ۔ مقابلہ کیجیے، مگر اخلاق کے دائرے میں۔ سیاست کیجیے، مگر انسانیت کے ساتھ۔
انتخابات تو گزر جائیں گے، لیکن آپ کا کردار، آپ کی زبان اور آپ کا رویہ تاریخ میں زندہ رہے گا۔
آئیے! ہم سب مل کر گلگت بلتستان کی سیاست کو نفرت سے نکال کر وقار، شائستگی اور شعور کے راستے پر چلائیں، کیونکہ یہی راستہ ایک مضبوط، روشن اور ترقی یافتہ گلگت بلتستان کا ضامن ہے۔

