اٹھارہویں ترمیم: سولہ سال بعد بھی اختیارات کی منتقلی کا ادھورا وعدہ – تحریر: قریش خٹک
،
اقتدار کے ایوانوں میں ان دنوں اس بات پر گرما گرم بحث جاری ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کو برقرار رکھا جائے یا اس میں تبدیلی کی جائے۔ دونوں جانب سے دلائل دیے جا رہے ہیں، لیکن اس سیاسی کشمکش میں ایک بنیادی حقیقت نظرانداز ہو رہی ہے: پارلیمنٹ کی جانب سے اس تاریخی ترمیم کی منظوری کے سولہ سال بعد بھی اختیارات کی منتقلی کا وعدہ مکمل طور پر پورا نہیں ہوا۔
پاکستان کا وفاقی نظام آج بھی ایک بنیادی تضاد کا شکار ہے۔ اسلام آباد میں وفاقی حکومت ان شعبوں میں اپنی مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے جن کی ذمہ داریاں آئین کے تحت صوبوں کو منتقل کی گئی ہیں۔ اس کے برعکس، وفاقی انتظامی ڈھانچے کو ان تبدیلیوں کے مطابق ڈھالنے اور غیر ضروری اداروں کو کم کرنے میں وہ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہے۔
دوسری طرف، صوبائی حکومتوں کو 2010ء سے زیادہ مالی وسائل اور قانون سازی کے اختیارات حاصل ہیں، لیکن وہ ان وسائل کو بہتر عوامی خدمات اور انسانی ترقی میں مؤثر طور پر تبدیل نہیں کر سکیں۔ نتیجتاً، ایک طرف ضرورت سے زیادہ پھیلا ہوا وفاقی ڈھانچہ ہے، دوسری طرف کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی صوبائی حکومتیں، جبکہ مقامی حکومتیں بدستور اختیارات اور وسائل کی منتظر ہیں۔ اس انتظامی بے ترتیبی کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے، جسے بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی پر بھی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جواب دہ کس حکومت کو ٹھہرایا جائے۔
اختیارات کی منتقلی کا یہی نامکمل ایجنڈا اب پارلیمنٹ میں زیرِ بحث ہے۔ 14 اکتوبر کو سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے اختیارات کی منتقلی کی ذیلی کمیٹی نے ان شعبوں میں وفاقی اخراجات کا جائزہ لیا جن کی ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی جا چکی ہیں۔ عوامی اخراجات کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے، کمیٹی نے گزشتہ سولہ برسوں کے دوران وفاقی وزارتوں اور محکموں کی جانب سے صحت اور تعلیم پر خرچ کیے گئے تقریباً 2.6 ٹریلین، یعنی 26 کھرب روپے، کی آئینی اور قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا۔
کمیٹی نے آڈیٹر جنرل پاکستان سے ان اخراجات کی باضابطہ تصدیق طلب کی تاکہ ان کی قانونی بنیاد، منظوری کے طریقۂ کار اور حساب کتاب کے نظام کو واضح کیا جا سکے۔ اس کارروائی نے ایک اہم سوال کو پھر سامنے لا کھڑا کیا ہے: جب آئین نے بعض شعبوں کی بنیادی ذمہ داری صوبوں کو سونپ دی ہے تو وفاقی حکومت ان شعبوں میں اپنا انتظامی ڈھانچہ کیوں برقرار رکھے ہوئے ہے؟ اگر صحت، تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں کی ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل ہو چکی ہیں تو وفاقی حکومت نے اپنے اداروں، اخراجات اور ترجیحات کو اس تبدیلی کے مطابق کیوں نہیں ڈھالا؟ یہ محض غیر ضروری سرکاری اخراجات کا معاملہ نہیں، بلکہ آئینی حکمرانی، مالیاتی وفاقیت اور عوامی احتساب سے بھی جڑا ہوا ہے۔
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے 2010ء کی اٹھارہویں آئینی ترمیم کے پس منظر اور مقاصد کو سمجھنا ضروری ہے۔ پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر اٹھارہویں ترمیم منظور کرکے صوبائی خودمختاری کو مضبوط بنانے اور طویل عرصے سے موجود علاقائی شکایات دور کرنے کی کوشش کی تھی۔ مشترکہ قانون سازی کی فہرست ختم کرنے کے نتیجے میں تعلیم، صحت عامہ، محنت، سماجی بہبود اور ماحولیاتی تحفظ سمیت متعدد شعبوں میں قانون سازی اور انتظامی اختیارات کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل ہوا۔
اس تبدیلی کو ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ نے مالی بنیاد فراہم کی، جس کے تحت وفاقی قابلِ تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ بڑھایا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ فیصلے عوام کے قریب ہوں، صوبے اپنی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق پالیسیاں بنا سکیں اور اسلام آباد میں اختیارات کا ارتکاز کم ہو۔ اس اصلاح کی بنیادی منطق واضح تھی: جس حکومت پر کسی شعبے کی ذمہ داری عائد ہو، اس کے پاس اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے مناسب وسائل بھی ہونے چاہئیں۔ ساتھ ہی، شہریوں کو یہ موقع ملنا چاہیے کہ وہ ہر سطح کی حکومت کو اس کی کارکردگی کا جواب دہ ٹھہرا سکیں۔
تاہم، آئینی ترمیم منظور کر لینا اور اس پر عملی طور پر عمل درآمد کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ آئین میں تبدیلی کے ساتھ اداروں، انتظامی ڈھانچوں اور مالی ترجیحات کو بھی بدلنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے سیاسی عزم، اداروں کے درمیان تعاون اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔ پاکستان میں اٹھارہویں ترمیم کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اختیارات کی آئینی منتقلی کو مکمل انتظامی اور ادارہ جاتی تبدیلی میں نہیں ڈھالا جا سکا۔
جولائی 2026ء میں شائع ہونے والی عالمی بینک کی رپورٹ Strengthening Fiscal Federalism in Pakistan اس ساختی تضاد کو واضح کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2010ء سے 2024ء کے درمیان صوبائی ٹیکس آمدنی جی ڈی پی کے 4 فیصد سے بھی کم کی سطح سے بڑھ کر اوسطاً 6.5 فیصد تک پہنچ گئی، لیکن جن شعبوں کے اختیارات صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے، ان میں وفاقی حکومت کے انتظامی اخراجات اسی تناسب سے کم نہیں ہوئے۔
رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ مالی سال 2023ء میں صوبائی اخراجات کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ جاری اخراجات، بالخصوص سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور انتظامی امور، پر صرف ہوا، جس کے باعث عوامی خدمات کی بہتری کے لیے ترقیاتی سرمایہ کاری کی گنجائش محدود رہی۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ مجموعی سرکاری اخراجات میں مقامی حکومتوں کا حصہ 2005ء میں تقریباً 10 فیصد تھا، جو 2024ء تک کم ہو کر 5 فیصد سے بھی نیچے آ گیا۔
یہ اعداد و شمار اختیارات کی منتقلی کے عمل میں دو بنیادی کمزوریوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت نے اپنے انتظامی ڈھانچے کو نئی آئینی تقسیمِ اختیار کے مطابق ڈھالنے میں مطلوبہ پیش رفت نہیں کی، جبکہ صوبائی حکومتیں بھی اپنے وسائل اور اختیارات کو مقامی سطح تک منتقل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ نتیجتاً، وفاقی سطح پر انتظامی اخراجات برقرار ہیں، صوبائی بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں اور روزمرہ امور پر صرف ہو جاتا ہے، اور مقامی حکومتیں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے درکار وسائل سے محروم رہتی ہیں۔
اس عدم توازن کے معاشی اثرات بھی ہیں۔ جب وفاقی اخراجات میں ضروری کمی نہیں آتی اور محصولات کی وصولی میں بھی مطلوبہ بہتری نہیں ہوتی تو عوامی مالیات پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اس لیے مالیاتی بحران کا حل صوبوں کو ان کے آئینی حصے سے محروم کرنے میں نہیں، بلکہ ریاستی ذمہ داریوں کی واضح تقسیم، ٹیکس کی بنیاد وسیع کرنے اور وفاقی، صوبائی اور مقامی، تینوں سطحوں پر مالی نظم و ضبط بہتر بنانے میں ہے۔
اس سلسلے میں مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 153 اور 154 کے تحت قائم یہ کونسل وفاق اور صوبوں کے درمیان مشترکہ مفادات سے متعلق معاملات پر مشاورت اور فیصلہ سازی کا اہم فورم ہے، خصوصاً وفاقی قانون سازی کی فہرست کے حصہ دوم میں شامل امور کے حوالے سے۔ اسے محض تنازعات کے وقت فعال ہونے والے ادارے کے بجائے تعاون پر مبنی وفاقیت کے مستقل مرکز کے طور پر کام کرنا چاہیے۔
وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم، توانائی کے معاملات اور مشترکہ معاشی وسائل سے متعلق اختلافات کو اسی آئینی فورم پر سنجیدہ مشاورت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ فیصلے شفاف ہوں، ان کا تحریری ریکارڈ موجود ہو اور ان پر عمل درآمد کی باقاعدہ نگرانی کی جائے۔
وفاقی اداروں کو مناسب حجم تک محدود کرنا صرف اخراجات میں کمی کا معاملہ نہیں، بلکہ حکومتی ذمہ داریوں کو واضح کرنے اور عوامی احتساب بہتر بنانے کے لیے بھی ضروری ہے۔ جب وفاقی حکومت ایسے شعبوں میں ادارے اور محکمے برقرار رکھتی ہے جہاں اس کا کردار واضح نہیں ہوتا تو سرکاری وسائل ضائع ہونے کے ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ذمہ داریوں کا ابہام بھی پیدا ہوتا ہے۔ نتیجتاً، جب شہریوں کو صحت، تعلیم یا دوسری بنیادی سہولتیں نہیں ملتیں تو ہر حکومت ذمہ داری دوسری حکومت پر ڈال سکتی ہے۔ اس طرح انتظامی تداخل صرف اخراجات نہیں بڑھاتا، بلکہ شہریوں کے لیے اپنی حکومت کو جواب دہ ٹھہرانا بھی مشکل بنا دیتا ہے۔
لیکن اٹھارہویں ترمیم کا دفاع کرنے کا مطلب صوبائی حکومتوں کو تنقید سے بالاتر سمجھنا بھی نہیں۔ صوبائی خودمختاری انتظامی نااہلی یا صوبائی دارالحکومتوں میں اختیارات کے ارتکاز کا جواز نہیں بن سکتی۔ آئین کے آرٹیکل 140A کے تحت صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات منتقل کریں۔ اس کے باوجود، مقامی ادارے اکثر صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر رہتے ہیں۔
یہ ایک بنیادی تضاد ہے: صوبائی حکومتیں اسلام آباد کی مرکزیت پر اعتراض کرتی ہیں، لیکن خود ضلعی اور مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی سے گریز کرتی ہیں۔ جب منتخب بلدیاتی اداروں کو اپنے علاقوں کی ضروریات کے مطابق فیصلے کرنے اور ان پر عمل درآمد کے لیے مناسب وسائل نہیں ملتے تو اختیارات کی منتقلی کا عمل صوبائی دارالحکومتوں تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس صورت میں عام شہری کے لیے حکومت کو اپنے قریب لانے کا وعدہ پورا نہیں ہوتا۔
پاکستان کو اب وفاقی اختیار اور صوبائی خودمختاری کے درمیان اس مصنوعی کشمکش سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ایک مؤثر ریاست کے لیے مضبوط وفاق بھی ضروری ہے اور بااختیار صوبے بھی۔ وفاقی حکومت کو قومی دفاع، خارجہ امور، معاشی استحکام اور بین الصوبائی رابطہ کاری میں اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنی چاہئیں، جبکہ صوبائی اور مقامی حکومتوں کو ان شعبوں میں فیصلے کرنے اور خدمات فراہم کرنے کا اختیار ہونا چاہیے جو ان کے دائرۂ کار میں آتے ہیں۔
اٹھارہویں ترمیم کے وعدے کی تکمیل کے لیے اسلام آباد میں انتظامی اصلاحات، صوبائی دارالحکومتوں میں مالیاتی ذمہ داری، مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات کی منتقلی اور پارلیمنٹ کی مؤثر نگرانی ناگزیر ہیں۔ اس عمل میں وفاقی اخراجات اور صوبائی کارکردگی، دونوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔
وفاقیت وسائل کی تقسیم پر جیت اور ہار کا کھیل نہیں، بلکہ ایک مشترکہ آئینی معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ اسلام آباد یا صوبائی دارالحکومتوں کے پاس کتنا اختیار ہے، بلکہ یہ ہے کہ ریاست کے وسائل کس حد تک عوام کی زندگی بہتر بنانے، بنیادی خدمات فراہم کرنے اور ہر سطح کی حکومت کو شہریوں کے سامنے جواب دہ بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ سولہ سال بعد اٹھارہویں ترمیم کے اصل وعدے کو پورا کرنے کا یہی راستہ ہے۔