شعبہ تعلیم میں اصلاحات کے حوالے سے اہم اجلاس، صوبے میں انٹر ڈسپلنری ریسرچ سینٹر کے قیام کے لیے 50 کروڑ روپے جاری کرنے کی ہدایت
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت شعبہ تعلیم میں اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس وزیر اعلیٰ ہاو س پشاور میں منعقد ہوا جس میں شعبہ تعلیم میں جاری اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مجوزہ اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی غور و خوص کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو صوبے میں انٹر ڈسپلنری ریسرچ سینٹر کے قیام کے لیے 50 کروڑ روپے جاری کرنے کی ہدایت کی جبکہ شرح خواندگی میں تیز رفتار اضافے کے لیے دور افتادہ علاقوں میں کمیونٹی سکولوں کے قیام کی تجویز سے اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں ڈبل شفٹ اسکول پروگرام میں توسیع، آئی ٹی اور اے آئی کورسز کے اجرا سے بھی اتفاق کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے پیش کردہ تجاویز پر تفصیلی اجلاس طلب کرنے اور آئندہ کے لائحہ عمل کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت بھی جاری کی۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ پانچ چھ ماہ سے تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز ہے اور اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم براہ راست عوام سے منسلک ہیں۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے وڑن کے مطابق انسانوں پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شعبہ تعلیم کو ہمہ گیر تبدیلی سے ہمکنار کرنا حکومت کا حتمی ہدف ہے اور کوشش ہے کہ ایک بھی بچہ تعلیم کے بنیادی حق سے محروم نہ رہے۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے متفقہ تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فالواپ اجلاس کے انعقاد اور متعلقہ حکام پر مشتمل رابطہ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی۔اجلاس کے شرکاءنے ای ٹرانسفر پالیسی، یکساں نصاب تعلیم، سیمسٹر سسٹم، مانیٹرنگ، ٹیچرز ٹریننگ، سکول بیسڈ اسسمنٹ، ورچوئل سکولنگ اور اے آئی کورسز پر اطمینان کا اظہار کیا۔
مزید برآں شرح خواندگی میں اضافے، جدید رجحانات کے فروغ اور بچوں کو تعلیم تک یکساں رسائی کے لیے مجوزہ فریم ورک پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا، صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب، ماہرین تعلیم اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
