تعلیم یافتہ اور صحت مند مائیں: عظیم قوم – تحریر: قریش خٹک
.
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ معاشرے کی بنیادی اکائی خاندان ہے، اور خاندان کی بنیاد ماں پر قائم ہے۔ ایک قوم کا مزاج، اس کی اقدار، اس کا طرزِ فکر اور اس کا مستقبل بڑی حد تک اس تربیت کا مرہونِ منت ہوتا ہے جو بچوں کو ان کی ماؤں سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے عظیم مفکرین نے ہمیشہ عورت کی تعلیم اور تربیت کو قوم کی ترقی کے لیے بنیادی شرط قرار دیا ہے۔ نپولین بوناپارٹ کا یہ مشہور قول کہ: “مجھے تعلیم یافتہ مائیں دو، میں تمہیں ایک عظیم قوم دوں گا”، محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک گہری سماجی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے۔
ہر معاشرے میں روایات اور اقدار کا انتقال نسل در نسل ہوتا ہے۔ یہ منتقلی کسی نصابی کتاب سے نہیں بلکہ گھر کے ماحول سے ہوتی ہے، جہاں والدین خصوصاً ماں کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی برسوں میں جو دیکھتا، سنتا اور محسوس کرتا ہے، وہی اس کی شخصیت کا محور بن جاتا ہے۔ جہاں ماں کی گفتگو، اس کا رویہ، عدل و انصاف کا تصور، اور برداشت یا عدم برداشت کا انداز بچے کے لاشعور میں نقش ہو جاتے ہیں۔ اگر ماں اپنے بچوں کو برداشت، احترام، ایمانداری اور محنت کی تعلیم دے، تو وہی بچے ایک مستحکم معاشرے کا اثاثہ بنتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر خدانخواستہ نفرت، تعصب، نسلی برتری یا تشدد کے رجحانات پروان چڑھائے جائیں، تو یہی بچے معاشرتی بگاڑ اور تقسیم کا سبب بنتے ہیں۔
پاکستان جیسے معاشروں میں یہ حقیقت اور بھی زیادہ اہم ہو جاتی ہے، جہاں بچوں کی ابتدائی تربیت کا تمام تر بوجھ ماؤں پر ہوتا ہے۔ والد اکثر معاشی ذمہ داریوں کے باعث بچوں کو وقت نہیں دے پاتے، جس سے ماں کی تعلیم اور شعور کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ جب ماں اپنے بیٹے کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ بیٹیوں سے برتر ہے، یا کسی مخصوص گروہ سے نفرت کرنا سکھاتی ہے، تو وہ دراصل ایک ایسا ذہن تیار کر رہی ہوتی ہے جو مستقبل میں سماجی تقسیم کو مزید گہرا کرتا ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں، جیسے جاپان، جنوبی کوریا اور فن لینڈ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں خواتین کی تعلیم کو قومی ترجیح بنایا گیا۔ نتیجتاً ان معاشروں میں نہ صرف معاشی خوشحالی آئی بلکہ قانون کی پاسداری اور سماجی ہم آہنگی بھی فروغ پائی۔
اس کے برعکس، پاکستان میں صورتحال کا جائزہ لیں تو اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق مردوں کی شرح خواندگی تقریباً 73 فیصد ہے، جبکہ خواتین کی شرح خواندگی تقریباً 52 فیصد ہے۔ یعنی ملک کی تقریباً نصف مائیں بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔ اسی طرح، پاکستان میں دو کروڑ سے زائد بچے اسکول جانے سے محروم ہیں، جن میں ایک بڑی تعداد لڑکیوں کی ہے، اور عالمی اقتصادی فورم کی تازہ ترین گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ کے مطابق پاکستان صنفی مساوات کے لحاظ سے دنیا کے نچلے ترین درجات میں شامل ہے، جو ایک قومی المیہ ہے۔
یہ صرف حقوقِ نسواں کا مسئلہ نہیں، بلکہ قومی بقا کا تقاضا ہے۔ جب ایک ماں خود محرومی، ناانصافی اور بنیادی طبی سہولتوں کی کمی کا شکار ہو گی، تو ہم اس سے ایک مہذب نسل کی تربیت کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟ زچگی کے دوران اموات کی شرح، غذائی قلت اور کم عمری کی شادیوں جیسے مسائل براہِ راست بچوں کی صحت اور ان کی ذہنی نشوونما کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں روشن خیال، برداشت کرنے والی اور قانون کا احترام کرنے والی ہوں، تو ہمیں سڑکوں اور پلوں کی تعمیر سے پہلے ماؤں کی زندگیوں میں بہتری لانے پر توجہ دینی ہوگی۔ ہمیں خواتین کی تعلیم، صحت اور معاشی خودمختاری کو اولین قومی ترجیح بنانا ہوگا۔
درحقیقت قوموں کی تقدیر اقتدار کے ایوانوں یا سیاست کے میدانوں میں نہیں بلکہ گھروں کی آغوش میں طے ہوتی ہے۔ اگر ہمیں ایک مہذب اور ترقی یافتہ پاکستان کی تعمیر کرنی ہے تو آج کی ماں کو اس پورے عمل کا مرکزی محور بنانا ہوگا۔ ایک تعلیم یافتہ اور صحت مند ماں صرف اپنے خاندان کی نہیں بلکہ پوری قوم کی معمار ہوتی ہے۔ قوموں کا مستقبل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ گھروں کے اندر اس ماں کے کردار سے تشکیل پاتا ہے جو نسلوں کو علم، شعور اور وقار کے ساتھ پروان چڑھاتی ہے۔ یاد رہے، آج کی باشعور اور صحت مند ماں ہی کل کی ایک عظیم، مہذب اور مضبوط قوم کی حقیقی ضمانت ہے۔
