جھوٹ کی معیشت، سچ کی قید میں – تحریر :نورالہدیٰ یفتالیٰ
حالات یہ ہیں کہ ایک روپے کی کرپشن چھپانے کے لیے ہزار روپے کا جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے ہزار جھوٹ تراشے جاتے ہیں۔ یہ وہ نظام ہے جہاں سچ صرف کمزور کا جرم بنتا ہے اور جھوٹ طاقتور کی ڈھال۔ ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں دیانتداری کمزوری، اور بددیانتی ایک ابلیت بن چکی ہے۔ یہاں فائلوں کی زبان کچھ اور ہوتی ہے، مگر اُن سے منسلک رقم کی کہانی بالکل مختلف۔ کاغذی کاروائی میں شفافیت کے قصیدے لکھے جاتے ہیں، مگر ان قصیدوں کے پیچھے لالچ کے ہاتھ چھپے ہوتے ہیں۔ سچ کہنے والا آج بھی تنہا ہے۔ عدالتوں کے دروازے اس کے لیے نہیں، بلکہ اُن کے لیے کھلتے ہیں جن کے پاس اثر و رسوخ اور سرمایہ دونوں موجود ہوں۔ غریب کے لیے قانون کی لکیر تلوار کی طرح تیز ہے، جبکہ امیر کے لیے وہی قانون نرم موم کی طرح ڈھل جاتا ہے۔
یہ وہ ملک ہے جہاں انصاف کے ترازو میں وزن کا فرق صرف دولت اور تعلقات سے ناپا جاتا ہے۔ جہاں ریاستِ مدینہ کے نعرے لگانے والے بھی اپنے مفادات کے لیے جھوٹ کو سچ اور باطل کو حق کا لبادہ پہنا دیتے ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جو فلاحی اور خیراتی اداروں کے سہارے اپنی ٹوٹی ہوئی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ یہ وہ بدقسمت سرزمین ہے جہاں چپڑاسی کا بیٹا اکثر چپڑاسی ہی رہ جاتا ہے، کیونکہ خواب دیکھنے کی اجازت تو ہے، مگر انہیں پورا کرنے کے راستے بند ہیں۔
یہ وہ معاشرہ ہے جہاں عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں لینے والے ہی اپنے محسن عوام کو ذلت اور محرومی کا سامنا کراتے ہیں۔ یہاں اسکول عوام کے لیے ہیں، مگر سرکاری استاد اپنے بچوں کو نجی اداروں میں پڑھاتا ہے۔ یہاں سرکاری ہسپتال عوام کے لیے بنائے جاتے ہیں، مگر حکمران اور افسر خود ان ہسپتالوں میں علاج کروانے سے گریز کرتے ہیں۔ یہاں ووٹ تو عوام سے لیے جاتے ہیں، مگر اقتدار میں آ کر انہی عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جاتا ہے۔ وعدے نعروں میں زندہ رہتے ہیں اور حقیقت محرومیوں میں دفن ہو جاتی ہے۔
بقول شیخ سعدی، ہم حق کی بات تو کرتے ہیں، مگر جب حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت آتا ہے تو ہم مصلحتوں کے اندھیروں میں راستہ بدل لیتے ہیں۔ یہ المیہ صرف نظام کا نہیں، ہماری اجتماعی خاموشی کا بھی ہےاور شاید یہی خاموشی سب سے زیادہ دل کو رُلا دیتی ہے۔
کبھی کبھی سوچتا ہوں، اگر سچ بولنا جرم بن چکا ہے تو کیا جھوٹ بولنا نئی عبادت ہے اگر دیانتداری پر ہنسنے والے کامیاب ہیں تو کیا ایماندار صرف کہانیوں کے کردار رہ گئے ہیں۔ یہ منافقت کا زمانہ ہےجہاں ہر دوسرا شخص سچ کا پرچار کرتا ہے مگر اس کے عمل میں جھوٹ کا سایہ چھپا ہوتا ہے۔ ہم نے اجتماعی طور پر جھوٹ کو اتنا دہرا لیا ہے کہ اب وہی سچ لگنے لگا ہے۔ لیکن یاد رکھیے، سچ کی راہ طویل ضرور ہے، مگر اندھیروں کے باوجود وہ راستہ منزل تک ضرور پہنچتا ہے۔ کیونکہ سچ کو جھوٹ کے شور میں دبایا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔