دنیا کثیر قطبی ہو چکی ہے! اور جنگیں آنے والے دور کا معمول بنتی جا رہی ہیں- اقبال عیسیٰ خان
جب میں خبریں دیکھتا ہوں اور اخبار کے اوراق پلٹتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے کاغذ نہیں، کفن کے ٹکڑے میری انگلیوں میں آ گئے ہوں۔ ہر سطر سے بارود کی بو آتی ہے اور ہر تصویر کے پیچھے ایک سسکتی ہوئی چیخ چھپی ہوتی ہے۔ غزہ کا معصوم بچہ ملبے تلے سانس لینے کی کوشش کر رہا ہے، یوکرین کی ماں اپنے جوان بیٹے کی پیشانی کو آخری بار چوم رہی ہے، سوڈان کا بوڑھا اپنی جلی ہوئی جھونپڑی کی راکھ پر بیٹھا آسمان سے سوال کر رہا ہے۔ یہ خبریں نہیں، یہ انسانیت کے تازہ زخم ہیں۔
اور اب ایران… جب حالیہ حملوں میں اسرائیل اور امریکہ کی بمباری نے ایرانی شہروں کو ہلا کر رکھ دیا تو صرف عمارتیں نہیں گریں، بستیاں اجڑ گئیں، خواب بکھر گئے۔ ہزاروں بے گناہ شہری، اسکول جاتے بچے، سفید بالوں والے بزرگ، مائیں اور بیٹیاں، اس آگ میں جھلس گئے جو اقتدار کے ایوانوں میں بھڑکائی گئی تھی۔ ان کے ہاتھوں میں نہ بندوق تھی نہ بارود، صرف کتابیں، دعائیں اور امیدیں تھیں۔ مگر جنگ امید کا چہرہ نہیں دیکھتی، وہ صرف نشانہ دیکھتی ہے۔
تحریری وعدے ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے ان پر طاقتور کی سیاہی اور کمزور کا لہو ثبت ہو۔ انصاف کا ترازو جھکا ہوا دک
اقتدار کی لالچ انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔ جب وسائل سے مالا مال سرزمینیں طاقتوروں کی نظر میں آتی ہیں تو اصول پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور مفادات آگے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ تیل، گیس، معدنیات اور جغرافیائی اہمیت، یہ سب وہ چمک ہیں جو بعض رہنماؤں کی آنکھوں میں جنون بھر دیتی ہیں۔ پھر حملوں کے جواز تراشے جاتے ہیں، بیانیے گھڑے جاتے ہیں، اور جنگ کو ضرورت کا نام دے دیا جاتا ہے۔ طاقت کا نشہ بعض اوقات رہنماؤں کو اس حد تک لے جاتا ہے جہاں انسان نہیں، صرف وسائل دکھائی دیتے ہیں۔
دل چاہتا ہے چیخ کر کہوں، بس کرو! مگر تاریخ کی ٹھنڈی آواز یاد دلاتی ہے کہ جب طاقت کئی حصوں میں بٹتی ہے اور ہر قوت اپنی برتری ثابت کرنا چاہتی ہے تو زمین اکثر شعلوں میں لپٹ جاتی ہے۔
دنیا کا توازن بدل چکا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب عالمی فیصلوں کا محور ایک ہی قوت تھی، مگر اب نئی طاقتیں ابھر رہی ہیں اور پرانی طاقتیں اپنی گرفت مضبوط رکھنے کی جدوجہد میں ہیں۔ عالمی جنوب اپنی خودمختاری کا اعلان کر رہا ہے۔ یہی کثیر قطبیت ہے، اور یہی کشمکش کی جڑ ہے۔ جب کئی طاقتیں بیک وقت اپنی جگہ بنانے نکلتی ہیں تو تصادم جنم لیتا ہے۔ یوکرین، مشرقِ وسطیٰ، بحیرہ جنوبی چین، یہ سب اسی عالمی شطرنج کے خانے ہیں جہاں اصل قیمت عام انسان ادا کرتا ہے۔
اب جنگ صرف بارود سے نہیں لڑی جاتی۔ معیشت کو ہتھیار بنایا جاتا ہے، پابندیاں مسلط کی جاتی ہیں، اطلاعات کو مسخ کیا جاتا ہے، سائبر حملے کیے جاتے ہیں۔ اور جب براہِ راست بم گرتے ہیں، جیسے ایران پر گرے، تو ان کی بازگشت صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ نسلوں کے شعور میں اتر جاتی ہے۔
میں دنیا کے رہنماؤں سے پوچھتا ہوں، کیا اقتدار کا مطلب صرف غلبہ ہے؟ کیا عظمت کا پیمانہ صرف عسکری طاقت ہے؟ حقیقی قیادت وہ ہے جو جنگ کو ٹالنے کی بھرپور کوشش کرے اور اگر خطرہ سر پر آ جائے تو اپنی قوم کو محفوظ رکھنے کی دانائی بھی رکھے۔ اندھی طاقت تباہی لاتی ہے، مگر بصیرت امن کی راہیں نکال سکتی ہے۔
کیا جنگ ہماری تقدیر ہے؟ کیا کمزور ہمیشہ قیمت چکاتا رہے گا اور طاقتور فیصلے سناتا رہے گا؟ تاریخ میں تباہی بھی آئی ہے اور تعمیر بھی ہوئی ہے۔ ہر تاریکی کے بعد روشنی نے جنم لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس روشنی کے لیے جدوجہد کریں گے یا اندھیرے کو مقدر مان لیں گے؟
نوجوانوں کے لیے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ خوف میں جکڑ جانا آسان ہے، مگر شعور کے ساتھ کھڑے رہنا مشکل۔ جنگ کا جواب نفرت نہیں بلکہ علم، تحقیق، مکالمہ اور انصاف ہے۔ اگر ذہن بیدار ہوں تو بارود کی گھن گرج بھی مستقبل کا راستہ نہیں روک سکتی۔
ہاں، دنیا کثیر قطبی ہو چکی ہے۔ ہاں، جنگوں کے بادل گہرے ہو رہے ہیں۔ ہاں، ایران کے بچے بھی اسی آگ میں جل رہے ہیں جس میں غزہ اور یوکرین کے بچے جل رہے ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ تقدیر صرف میزائل نہیں لکھتے، کردار بھی لکھتے ہیں۔ تاریخ صرف طاقت سے نہیں بنتی، فیصلوں اور ضمیر سے بنتی ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ جنگ ہوگی یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس ہنگامہ خیز دنیا میں اپنی انسانیت کو زندہ رکھ پائیں گے یا نہیں۔ ہم خاموش تماشائی بنیں گے یا بیدار ہو کر امن، انصاف اور توازن کی آواز بلند کریں گے۔
انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے، اور وقت تیزی سے ہمارے سامنے سے گزر رہا ہے۔
خدا پاکستان، ایران، فلسطین اور پوری انسانیت کی حفاظت فرمائے۔

