دروش میں بارہ گھنٹے کی ناروالوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع، جمعیت العلمائے اسلام کی طرف سے احتجاج کا اعلان، ڈپٹی کمشنر سے مداخلت کی اپیل
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) جمعیت علماء اسلام تحصیل دروش ضلع چترال لوئر کے امیر مولانا انعام الحق نے ضلعی امیر مولانا عبدالشکور اور نائب امیر صوبیدار عبدالصمد اور دروش کابینہ کے اراکین کو لیکر ہنگامی طور پر ڈپٹی کمشنر لوئر چترال سے ملاقات کی۔
جس میں دروش ٹاؤن میں یکدم تین سے بارہ گھنٹہ ناروا غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے بارے امیر جے یوآئی نے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا۔کہ پیسکو والے اپنی نااہلی کی سزا عوام دروش کو دے رہے ہیں۔جو کہ اخلاقا،قانونا اور شرعاً غلط ہے۔
اگر فوری طور پر پیسکو کا قبلہ درست نہ کیا گیا۔اور فوری طور پر اس غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ نہ کیا گیا۔اور آج رات اگر دوبارہ لوڈ شیڈنگ کی گئی تو کل صبح نو بجے اپنے جائز آئینی اور قانونی حق کے لیے دروش چوک میں جمعیت علماء اسلام عوام دروش کو لیکر پیسکو(واپڈا) کے ظلم وستم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریے گا۔
اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام ضلع چترال لوئر کے امیر مولانا عبدالشکور نے ڈپٹی کمشنر لوئر چترال کو واپڈا کے ظلم وستم اور چترال کے مخصوص حالات کے بارے میں تفصیل سے بریف کیا۔
ڈپٹی کمشنر لوئر چترال نے وفد کا شکریہ ادا کیا ۔اور فوری طور پر ریلیف کا وعدہ کرتے ہوئے تمام تر حالات کے بارے میں فوری لیٹر ایشو کیا۔
آخر میں اس امر پر اتفاق ہو گیا۔کہ آج رات اگر لوڈ شیڈنگ ہو گئی تو کل احتجاج ہو گا۔اگر آج رات لوڈ شیڈنگ نہ ہو گی۔اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی گئی تو انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائیگا۔
جے یوآئی تحصیل دروش کا یہ جائز اور قانونی مطالبہ ہے کہ جب تک مسائل حل نہ ہوں۔دروش میں تین گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ برقرار رکھی جائے۔اس سے زیادہ ایک منٹ بھی قابل قبول نہیں۔
جن لوگوں کے اوپر جائز بقایاجات ہیں۔اور چھے مہینوں تک بل ادا نہیں کیے ہیں۔ان کے کنکشن فوری طور پر کاٹ دیے جائیں۔ان بیس فیصد ڈیفالٹروں کی وجہ سے اسی فیصد صارفین پر ظلم نہ کیا جائے۔
