ڈرائیونگ لائسنسوں کی تجدید کا بحران، ہزاروں شہری مشکلات کا شکار، حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) خیبر پختونخوا میں ڈرائیونگ لائسنسوں کے اجرا اور تجدید کے نظام میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث ہزاروں شہری، خصوصاً پیشہ ور ڈرائیور، شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ عوامی حلقوں نے حکومتِ خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ لائسنسنگ کے موجودہ نظام میں فوری اصلاحات لائی جائیں تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔
ذرائع کے مطابق ماضی میں تمام اقسام کے ڈرائیونگ لائسنسوں کا اجرا اور تجدید پولیس کے زیرِ انتظام ہوتی تھی اور لائسنسوں کا مکمل ریکارڈ بھی پولیس کے پاس موجود تھا۔ تاہم گزشتہ چند برسوں سے ایل ٹی وی ودیگر لائسنسوں کا اختیار ضلعی انتظامیہ (ڈپٹی کمشنر آفس ) کو منتقل کردیا گیا، جبکہ موٹرسائیکل اور موٹرکار لائسنس بدستور پولیس کے دائرہ اختیار میں ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایل ٹی وی اور ایچ ٹی وی لائسنسوں کی تجدید کے وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ متعلقہ ریکارڈ پولیس کے پاس موجود ہے جبکہ تجدید کا اختیار ڈپٹی کمشنر آفس کے پاس ہے۔ ریکارڈ کی عدم منتقلی کے باعث 15 سے 20 سالہ تجربہ رکھنے والے پیشہ ور ڈرائیوروں کو بھی نئے درخواست گزاروں کی طرح دوبارہ بنیادی ڈرائیونگ ٹیسٹ و دیگر مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف شہریوں کو ذہنی اذیت اور مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے بلکہ متعلقہ دفاتر کے لیے بھی اضافی بوجھ پیدا ہو رہا ہے۔
متاثرہ افراد کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرائی گئی “دستک ایپ” سے بھی شہریوں کو مطلوبہ سہولت نہیں مل سکی کیونکہ بیشتر پرانے ڈرائیوروں کا ریکارڈ اس نظام میں موجود ہی نہیں۔ نتیجتاً ہزاروں افراد لائسنسوں کی تجدید یا اجرا کے لیے دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔
پیشہ ور ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ لائسنس کی تجدید میں تاخیر کے باعث انہیں موٹرویز اور دیگر شاہراہوں پر جرمانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ بعض اوقات روزگار بھی متاثر ہوتا ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے حکومتِ خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو ڈرائیونگ لائسنسوں کے اجرا اور تجدید کا اختیار دوبارہ مکمل طور پر پولیس کے سپرد کیا جائے، یا پھر پولیس کے پاس موجود تمام ریکارڈ فوری طور پر ضلعی انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ کے آن لائن نظام میں منتقل کیا جائے تاکہ شہریوں کو بلاوجہ مشکلات، وقت کے ضیاع اور اضافی اخراجات سے نجات مل سکے۔
