خودکشی یا چھپا ہوا تشدد – تحریر:ـ نورالہدیٰ یفتالی
.
کیا ہم چترال میں جینڈر بیسڈ تشدد کو خودکشی کا نام دے رہے ہیں کیا ہم اصل مجرموں کو خودکشی کے لفظ کے پیچھے چھپا رہے ہیں چترال ہمیشہ امن، تہذیب، تعلیم اور باہمی احترام کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، مگر گزشتہ چند برسوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے اس خوبصورت خطے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہر چند ہفتوں بعد ایک نئی خبر سامنے آتی ہے، چند دن سوشل میڈیا پر افسوس کا اظہار ہوتا ہے، پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ لیکن اصل سوال وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے کیا ہر خودکشی واقعی خودکشی ہوتی ہییا کہیں ہم جینڈر بیسڈ تشدد، گھریلو ظلم، نفسیاتی استحصال اور سماجی دباؤ کو خودکشی کا نام دے کر اصل حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں۔
یہ سوال صرف ایک فرد کا نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کا سوال ہے۔ اگر کوئی لڑکی یا نوجوان برسوں ذہنی دباؤ، گھریلو تشدد، سماجی تضحیک، جبر یا بے بسی کا شکار رہنے کے بعد اپنی جان لے لے، تو کیا صرف اس کی موت خود کشی قرار دینا کافی ہے زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہر خودکشی صرف ایک لمحے کا فیصلہ نہیں ہوتی بلکہ اکثر یہ برسوں کے ظلم خاموش تشدد سماجی دباؤ اور بے حسی کا انجام ہوتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ بیشتر واقعات کو صرف خودکشی قرار دے کر فائل بند کر دی جاتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس المناک انجام تک پہنچانے والے اسباب کی بھی اتنی ہی غیرجانبداری شفافیت اور سنجیدگی سے تحقیقات کی جاتی ہیں
اگر واقعی کسی خودکشی کے پیچھے جینڈر بیسڈ تشدد یا کسی دوسرے جرم کے شواہد موجود ہوں، تو حقیقت سامنے لانے کی ذمہ داری کس کی ہے۔اس کا جواب واضح ہے۔ سب سے پہلے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ہر غیر فطری موت کی غیرجانبدار، سائنسی اور جامع تحقیقات کریں۔ صرف ابتدائی بیان یا ظاہری منظر کو کافی نہ سمجھا جائے بلکہ ڈیجیٹل شواہد، فرانزک معلومات، گواہوں کے بیانات، سابقہ شکایات اور سماجی حالات کا بھی جائزہ لیا جائے۔ پراسیکیوشن اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ اگر کسی شخص نے ذہنی یا جسمانی تشدد، بلیک میلنگ یا مسلسل استحصال کے ذریعے کسی کو خودکشی پر مجبور کیا ہے تو قانون کے مطابق اس کا احتساب یقینی بنایا جائے۔ صحت کے شعبے اور ماہرینِ نفسیات کی ذمہ داری ہے کہ ذہنی صحت کو صرف فرد کا مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ اس کے سماجی اسباب پر بھی روشنی ڈالیں۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ سنسنی خیزی کے بجائے ذمہ دار صحافت کرے، متاثرہ خاندانوں کی عزتِ نفس کا خیال رکھے، اور بغیر ثبوت کسی پر الزام عائد نہ کرے۔ ساتھ ہی یہ سوال ضرور اٹھائے کہ آیا اس واقعے کے پیچھے گھریلو تشدد، جینڈر بیسڈ وائلنس، ہراسانی یا کسی اور قسم کا استحصال تو موجود نہیں تھا۔
اور سب سے بڑھ کر، معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ خاموش تماشائی نہ بنے۔ اگر ہم ظلم دیکھ کر خاموش رہتے ہیں، متاثرہ فرد کو سہارا نہیں دیتے، یا لوگ کیا کہیں گیکے خوف سے سچ چھپا دیتے ہیں، تو ہم بھی اس خاموش نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ بات بھی اتنی ہی ضروری ہے کہ کسی بھی خودکشی کو بغیر ثبوت جینڈر بیسڈ تشدد کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں۔ ہر واقعے کی اپنی نوعیت ہوتی ہے، اور انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ نہ کسی بے گناہ پر الزام لگایا جائے اور نہ کسی مجرم کو صرف اس لیے بچنے دیا جائے کہ معاملے کو جلدی میں ذاتی مسئلہ یا خودکشی قرار دے دیا گیا۔
چند متاثرہ خاندانوں کسیاتھ میری گفتگو میں وہ کہانی سامنے آئی تو
ایک خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا میری بیٹی نے خودکشی نہیں کی وہ خودکشی کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی، کیونکہ وہ انتہائی مضبوط اعصاب کی مالک تھی۔ وہ تو ہمیشہ مجھے حوصلہ دیا کرتی تھی۔ میں یہ ماننے کے لیے آج بھی تیار نہیں کہ اس نے خودکشی کی ہے۔ ایک اور ماں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہامیری بیٹی خودکشی نہیں کر سکتی، یہ میرا پختہ ایمان ہے۔ البتہ میری لختِ جگر کو اس سماج نے نگل لیا۔ ایسے بے شمار جملے اور درد سے بھرے اعترافات ہیں، مگر اکثر مائیں اور اہلِ خانہ کھل کر کچھ کہنے سے ڈرتے ہیں۔ انہیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں یہی سماج ان پر ہی کیچڑ نہ اچھال دے اور ان کے زخموں کو مزید گہرا نہ کر دے۔
چترال کو آج صرف افسوس کے پیغامات کی ضرورت نہیں، بلکہ سچ بولنے کی ہمت، شفاف تحقیقات، متاثرین کے تحفظ، ذہنی صحت کی سہولیات اور ایسے معاشرتی ماحول کی ضرورت ہے جہاں کوئی بھی ظلم سہہ کر خاموش رہنے پر مجبور نہ ہو۔ کیونکہ اگر ہم ہر سوال کو خاموشی میں دفن کرتے رہے، تو شاید ہم صرف خودکشیوں کی تعداد گنتے رہ جائیں گے، مگر ان وجوہات کو کبھی نہیں سمجھ سکیں گے جو لوگوں کو موت کے دہانے تک لے جاتی ہیں۔ سچائی سے فرار کبھی بھی انصاف کا متبادل نہیں بن سکتا۔ اگر کہیں جینڈر بیسڈ تشدد کو خودکشی کا نام دیا جا رہا ہے تو اسے بے نقاب کرنا صرف پولیس، عدالت یا میڈیا کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انصاف اسی وقت ممکن ہے جب ہر غیر فطری موت کی غیرجانبدار، شفاف اور سائنسی بنیادوں پر تحقیقات ہوں، اور نتائج شواہد کی روشنی میں عوام کے سامنے لائے جائیں۔
خاموشی بعض اوقات صرف خاموشی نہیں ہوتی، بلکہ ناانصافی کی سب سے مضبوط ڈھال بن جاتی ہے۔
