دوغلے پن کی غسل گاہ – از قلم: نجیم شاہ
.
اگر معاشرے کی منافقت کا نوحہ لکھنے بیٹھوں تو قلم خون کے آنسو روتا ہے، مگر یہاں احساس کی بنجر زمین پر غیرت کی کوئی کونپل نہیں پھوٹتی۔ ہم وہ لوگ ہیں جو میت کے سامنے بیٹھ کر پارسائی کا ایسا ڈرامہ رچاتے ہیں کہ ابلیس بھی ہم سے ٹیوشن لینے پر مجبور ہو جائے۔ ذرا اِس ’’پاکباز‘‘ سوسائٹی کا دوغلا معیار ملاحظہ کریں، جس کی غلاظت چھپانے کیلئے مذہب اور روایت کی جھوٹی چادریں ہر وقت تیار رہتی ہیں۔ جب کسی گھر سے مرد یا عورت کا جنازہ اُٹھتا ہے، تو اچانک پورے خاندان پر ’’طہارت‘‘ کا دورۂ پڑ جاتا ہے۔
میت کو غسل دینے کیلئے استعمال ہونیوالا صابن بڑی حقارت سے زمین میں دبا دیا جاتا ہے کہ ’’توبہ! یہ تو ناپاک ہو گیا‘‘۔ مرحوم یا مرحومہ کے پہنے ہوئے کپڑے فوراً کسی غریب کی جھولی میں ڈال دیئے جاتے ہیں کیونکہ ان سے ’’مردے کی بو‘‘ آتی ہے۔ میں پوچھتا ہوں، یہ کیسا جاہلانہ فلسفہ ہے؟ اگر اِنسان مرتے ہی اِتنا نجس ہو جاتا ہے کہ اُس کا استعمال کردہ صابن تمہارے ایمان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے، تو پھر اسی ’’ناپاک‘‘ بدن سے اُتاری گئی سونے کی انگوٹھی تمہاری اُنگلیوں میں کیسے جچتی ہے؟
وہاں تمہاری نفاست پسندی کو موت کیوں پڑ جاتی ہے؟ وہاں وہ صابن والا ’’تقویٰ‘‘ کہیں گھاس چرنے چلا جاتا ہے اور لالچ کی رال ٹپکنے لگتی ہے۔ جس کی میت ابھی صحن میں پڑی ہو، اُس کے تڑپتے وارثوں کی عقاب جیسی نظریں مرحوم کے سونے کے چین، گھڑی اور بٹوے پر ہوتی ہیں۔ وہاں کسی کو ناپاکی کی بو نہیں آتی۔ وہ نوٹ جنہیں مرنے والے نے آخری ہچکی تک پسینے سے تر ہاتھوں میں دبائے رکھا، وہ وارثوں کی جیبوں میں جاتے ہی ’’مقدس‘‘ اور ’’حلال‘‘ قرار پاتے ہیں، جیسے کسی نے آبِ زمزم سے دھو دیئے ہوں۔
وہ مہنگا آئی فون، جس کی سکرین پر شاید ابھی مرحوم کے انگوٹھے کے نشانات بھی سلامت ہوں، اسے فوراً ’’فیکٹری ری سیٹ‘‘ کیا جاتا ہے تاکہ ڈیٹا جائے جہنم میں، موبائل کسی ’’زندہ‘‘ کے کام آ سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اِنسان سے نہیں، اُس کی مفلسی اور بے بسی سے نفرت ہے۔ صابن اور کپڑے اِس لیے خیرات کر دیئے جاتے ہیں کیونکہ اُن کی مارکیٹ ویلیو ’’زیرو‘‘ ہوتی ہے۔ اگر صابن سونے کا ہوتا اور کپڑے نوٹوں سے سلے ہوتے، تو میں دیکھتا کہ کون سا وارث انہیں ناپاک کہہ کر کسی غریب کے حوالے کرتا!
پھر تو یہی منافق لوگ سو دلیلیں نکال لاتے کہ یہ تو ’’تبرک‘‘ ہے، اسے سنبھال کر سینے سے لگانا چاہیے۔ یہ معاشرہ اُوپر سے نیچے تک دوغلے پن کی دَلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں جو قبرستان کی مٹی سے جوتے جھاڑ کر گھر میں داخل ہوتے ہیں کہ کہیں مردوں کی ’’نحوست‘‘ ساتھ نہ آ جائے، مگر اسی مردے کا بینک بیلنس ہڑپ کرتے وقت ہمارے پیٹ میں کبھی مروڑ نہیں اُٹھتا۔ ہم میت کا بستر گھر سے باہر پھینک دیتے ہیں لیکن اُس کے بنائے بنگلے پر قبضے کے لیے کچہریوں میں گلے کاٹنے سے بھی نہیں کتراتے۔
یہ کیسی نفاست پسندی ہے جو صرف صابن اور لٹھے کے تھان تک محدود ہے؟ یہاں مذہب کو اپنی سہولت کا آلہ اور روایات کو لالچ کا لبادہ بنا لیا گیا ہے۔ جس دِن ہماری غیرت جاگ گئی، ہمیں سمجھ آئیگا کہ ناپاکی صابن میں نہیں، اُن سوچوں میں ہے جو اِنسان کے مرتے ہی اُس کی قیمت لگانے بیٹھ جاتی ہیں۔ ہم نے جذبوں کو دفن کر کے مادیت کو معبود بنا لیا ہے۔ میت کے سرہانے روتے ہوئے بھی دِل میں وراثت کے نقشے بن رہے ہوتے ہیں۔ یہ وہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے جس کا علاج کسی دوا خانے میں نہیں۔
کاش! ہم تماشہ بینوں کو کبھی یہ اِحساس ہو جائے کہ جس مٹی سے ہم کراہت کھا رہے ہیں، کل ہمیں بھی اسی کا رزق بننا ہے۔ یہ جو آج تم کسی مرحومہ کے کانوں سے بالیاں اُتار کر اسے ’’مالِ غنیمت‘‘ سمجھ رہے ہو، یاد رکھنا کہ کل تمہاری اُنگلیاں بھی اسی طرح ٹھنڈی پڑنی ہیں۔ تمہارے اپنے لہو کے وارث تمہارے صابن کو دفن کر کے تمہاری جائیداد پر گدھوں کی طرح رقص کرینگے۔ وہاں نہ تمہارا عہدہ کام آئیگا، نہ یہ ہوشیاریاں۔ وہاں صرف تمہارا وہ ’’سچ‘‘ ساتھ جائیگا جو تم نے منافقت کے پیچھے چھپائے رکھا۔
افسوس کہ اِس بنجر معاشرے میں ضمیر کی آواز نقار خانے میں طوطی بن کر رہ گئی ہے۔ ہم نے جینا تو سیکھ لیا، مگر ہمیں مرنے کا ڈھنگ نہیں آیا۔ ہم وہ قوم ہیں جو مردے کو غسل دینے کیلئے تو مہنگا صابن خرید لاتی ہے، مگر اُس کے یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنے کیلئے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا۔ جب تک ہم اپنے اِس دوغلے پن کا علاج نہیں کرینگے، تب تک ہم یوں ہی لاشوں پر سودے بازی کرتے رہیں گے۔ منزل بہت دُور ہے اور راستہ غلاظت سے بھرا ہوا، مگر کسی کو اس کی فکر ہی نہیں!
