قربانی میں خیانت: کیا سنت ابراہیمی پر عمل ہو رہا ہے؟ ۔ تحریر: احتشام الرحمن
یہ سوال اکثر ذہن میں آتا ہے کہ واٹر کولر نصب کرنے کا جذبہ صرف عید قربان کے موقع پر ہی کیوں ابھرتا ہے؟ کیا سال کے باقی دنوں میں پیاسوں کو پانی پلانا باعثِ ثواب نہیں؟ ہمارا اجتماعی رویہ یہ ہے کہ ہم مذہبی امور کو فلسفے اور سائنس کے پیمانوں سے ناپنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ سائنسی معاملات کو مذہبی عینک سے دیکھنے لگتے ہیں۔ اس دو عملی کے باعث نہ ہم مذہب کی روح کو سمجھ پاتے ہیں اور نہ عقل و فکر کی راہوں پر درست قدم رکھ پاتے ہیں۔ قربانی بلاشبہ ایک اہم عبادت ہے، مگر افسوس کہ یہ عمل آج فریضے سے زیادہ فیشن بن چکا ہے۔ جب عبادت نمائش میں بدل جائے تو اس کی روح مجروح ہو جاتی ہے۔ یہی کچھ سنتِ ابراہیمی کے ساتھ بھی ہو رہا ہے. قربانی کا مفہوم گوشت کے حصول اور سوشل میڈیا کی زینت بننے تک محدود ہو گیا ہے۔
قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑی اخلاقی و روحانی تربیت پوشیدہ ہے۔ اصل قربانی وہ ہے جس میں انسان اپنی سب سے قیمتی شے اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے پیش کرتا ہے۔ یہ صرف مال و دولت ہی نہیں، بلکہ اپنی انا، غرور، ضد اور خود پسندی کو قربان کرنے کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ انسان میں عاجزی پیدا ہو۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے: “اللہ کو نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ” (سورۃ الحج) افسوس کہ آج کل قربانی محض رسمی عمل بن چکی ہے۔ جانور ذبح ہوتے ہیں، گوشت محفوظ ہوتا ہے، اور تصویری نمائش کی جاتی ہے۔ مستحقین کا خیال رکھنا جیسے کوئی اضافی یا غیر ضروری بات ہو گئی ہو۔
گزشتہ برسوں میں چترال میں قربانی کا رجحان بڑھا ہے، جس کی ایک وجہ معاشی بہتری اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ کراچی و دیگر شہروں اور بیرونِ ممالک سے بھی مخیر حضرات کی جانب سے قربانی کے لیے رقوم بھیجی جاتی ہیں، جو عام طور پر علماء کے توسط سے خرچ کی جاتی ہیں۔ یہ ایک نیک عمل ہے، مگر عملی طور پر اس میں شفافیت کی کمی، بدنیتی اور مفاد پرستی کے کئی پہلو نمایاں ہو رہے ہیں۔ بعض علماء بڑے جانوروں کی تصاویر دکھا کر زیادہ رقم وصول کرتے ہیں اور پھر کم قیمت کے جانور خرید کر قربانی ادا کرتے ہیں۔ یوں نہ صرف اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ ایک دینی عمل بدعنوانی کی نذر ہو جاتا ہے۔
ایسا ہی ایک واقعہ ایک تبلیغی، جو کہ مال مویشیوں کے بیوپاری بھی ہیں، نے سنایا کہ ایک معروف عالم مخیر حضرات کے بھیجے ہوئے رقوم سے جانور خرید رہے تھے۔ جب مولانا صاحب کو بتایا گیا کہ یہ جانور دو سال سے کم عمر ہیں، تو جواب آیا: “میرا جانور دو سال کا ہونا ضروری ہے، دوسرے جانور ایک سال کے بھی ہوں تو ٹھیک ہے۔” اس سوچ سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض مذہبی افراد دوسروں کے اعتماد اور ایمان سے کھیلنے میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ قربانی جیسا مقدس عمل بھی جب ذاتی مفادات اور خود غرضی کی نذر ہو جائے تو پھر نہ تقویٰ باقی رہتا ہے نہ اخلاص۔
البتہ یہ کہنا غلط ہوگا کہ پورا معاشرہ بدعنوانی کا شکار ہے۔ ایسے افراد اور ادارے بھی موجود ہیں جو دیانت داری اور شفافیت سے کام کرتے ہیں۔ موردیر ویلیج کونسل کے چیئرمین جناب ریاض احمد کے مطابق مولانا برہان ان چند دیانتدار افراد میں شامل ہیں جو مخیر حضرات کو بیوپاری سے براہِ راست رابطہ کرواتے ہیں اور مالی معاملات میں مکمل شفافیت اختیار کرتے ہیں۔ اگرچہ کئی سماجی و مذہبی امور میں ان سے اختلاف ہو سکتا ہے، مگر ان کی دیانت کا اعتراف نہ کرنا بھی کم ظرفی ہوگی۔ ان کے علاوہ کئی دوسرے ادارے اور افراد بھی یہ کام نہایت دیانتداری سے کرتے ہیں۔
مسئلہ صرف بددیانتی تک محدود نہیں، بلکہ اس سے زیادہ خطرناک پہلو قربانی کے مفہوم کی غلط تعبیر ہے۔ بعض علماء یہ فتوی دیتے ہیں کہ گوشت سارا خود کھانا بھی جائز ہے اور خون بہانا ہی اصل مقصد ہے۔ جب ایسے نظریات عوام میں رائج ہوتے ہیں تو قربانی کی وہ جامع روح ختم ہو جاتی ہے جس میں تقویٰ، ایثار اور ہمدردی شامل ہوتے ہیں۔ مولانا امین احسن اصلاحی اپنی تفسیر تدبر قرآن میں لکھتے ہیں کہ قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم ہونا چاہیے: ایک حصہ غریبوں کے لیے، دوسرا رشتہ داروں کے لیے، اور تیسرا اپنے لیے۔ ایک اور مختصر تفسیر جو کہ حاجیوں کو دی جاتی ہے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کے علماء ذاتی مفادات کی بنیاد پر اللہ کی تعلیمات کی تاویلات کرتے تھے، ویسا ہی رویہ آج کے بعض مسلم علماء بھی اختیار کر چکے ہیں۔ ذاتی میلانات کی بنیاد پر مذہبی احکام کی تاویلات دین کی وحدت اور عوامی شعور کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
کچھ عرصہ مزید اس طرح قربانی کے نام پر مالی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، لیکن اگر نیت درست نہ ہوئی تو مخیر حضرات کا اعتماد ختم ہو جائے گا۔ وہ رقوم بھیجنا بند کر دیں گے، اور اس سے صرف افراد ہی متاثر نہیں ہوں گے، بلکہ معاشرتی بھلائی کے دروازے بھی بند ہو جائیں گے۔ لہٰذا یہ نہایت ضروری ہے کہ قربانی جیسے مقدس عمل کو خالص نیت، شفافیت اور سماجی ہمدردی کے ساتھ انجام دیا جائے، نہ کہ اسے دولت کمانے یا سماجی اسٹیٹس دکھانے کا ذریعہ بنایا جائے۔ حضرت ابراہیمؑ نے تو اپنے لختِ جگر کو اللہ کے حکم پر قربان کرنے کے لیے پیش کیا، اور آج کا مسلمان گوشت کی ایک بوٹی بھی کسی غریب کے ساتھ بانٹنے کو تیار نہیں۔ ایسے میں یہ دعویٰ کرنا کہ ہم سنتِ ابراہیمی پر عمل کر رہے ہیں یہ ایک ناقابلِ تائید خود فریبی بن جاتا ہے۔
ادارے کا مراسلہ نگار کی رائےسے متفق ہونا ضروری نہیں !

