The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 18 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

دین و سیاست: ایک ناقابلِ انفصال حقیقت ۔ تحریر: ثناءاللہ مجیدی

Chitral Times

دین و سیاست: ایک ناقابلِ انفصال حقیقت ۔ تحریر: ثناءاللہ مجیدی

دین و سیاست: ایک ناقابلِ انفصال حقیقت ۔ تحریر: ثناءاللہ مجیدی

دین و سیاست: ایک ناقابلِ انفصال حقیقت ۔ تحریر: ثناءاللہ مجیدی

یہ خیال کہ دین محض منبر و محراب کی خطابت، مدرسے کے درس و تدریس یا خانقاہ کی خلوت نشینی تک محدود ہے، دراصل اسلام کی آفاقی وسعت اور ہمہ گیر جامعیت سے چشم پوشی کا نتیجہ ہے۔ یہ تاثر کہ مذہب صرف چند عبادات اور رسوم کا نام ہے، اتنا ہی ناقص اور گمراہ کن ہے جتنا یہ کہنا کہ سورج کی روشنی محض چراغ کے دائرے تک محدود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام محض خانقاہی سکون یا فرد کی روحانی طمانیت تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسا کامل و اکمل ضابطۂ حیات ہے جو فرد کی اصلاحِ باطن سے لے کر ریاست کی تعمیر و تنظیم تک، معیشت کی گردش سے لے کر عدلیہ و عدالت کی نزاکت تک، حتیٰ کہ بین الاقوامی تعلقات کے پیچیدہ زاویوں تک اپنی تابندہ تعلیمات پیش کرتا ہے۔

اسلام وہ دین ہے جو انسان کو انفرادی تزکیۂ نفس بھی سکھاتا ہے اور اجتماعی نظمِ حیات بھی عطا کرتا ہے۔ وہ نماز کے ذریعے بندے کو رب سے جوڑتا ہے اور سیاست کے ذریعے رعایا کو عدل و انصاف سے۔ وہ روزے سے انسان کو ضبطِ نفس سکھاتا ہے اور حکومت کے ذریعے معاشرے کو ظلم و جبر سے نجات دلاتا ہے۔ گویا اسلام محض ایک خانقاہی مذہب نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر نظامِ زندگی ہے جس کی اساس توازن، عدل اور خدمتِ خلق پر قائم ہے
لفظ ’’سیاست‘‘ کے لغوی معنی ہی ہیں: لوگوں کے امور کو حکمت، تدبیر اور خیرخواہی کے ساتھ سنبھالنا۔ یہ اقتدار کی ہوس، کرسی و تخت کی کشمکش یا زر و جاہ کی دوڑ نہیں بلکہ ایک امانتِ کبریٰ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حکمرانوں کے کاندھوں پر رکھا ہے۔ قرآن مجید نے فرمایا:
إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلٰى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ (النساء: 58)۔
یہاں ’’امانت‘‘ کا لفظ بتاتا ہے کہ اقتدار کوئی ترکہ یا غنیمت نہیں جس پر قابض ہو جایا جائے، بلکہ ایک مقدس ذمہ داری ہے جسے صرف اہل لوگوں کے سپرد کیا جانا چاہیے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے بھی حکمران کو چرواہے سے تشبیہ دے کر اس کی اصل حیثیت واضح کر دی کہ حکمران اپنی رعایا کا خادم و نگران ہے، نہ کہ ان پر جبر و استیلا کرنے والا آقا۔ چنانچہ اسلامی سیاست کا جوہر ’’عدل‘‘ ہے، اس کی بنیاد ’’دیانت‘‘ ہے اور اس کا مقصد ’’خدمتِ خلق‘‘ ہے۔
ریاستِ مدینہ اس بات کی عملی دلیل ہے کہ دین اور سیاست ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں۔ اگر سیاست کو دین سے جدا کر دیا جائے تو وہ ظلم و استحصال کا بازار گرم کرتی ہے، اور اگر سیاست پر دین کی روشنی پڑ جائے تو وہ خدمت، انصاف اور امن کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں قدم رکھتے ہی ’’میثاقِ مدینہ‘‘ تحریر فرمایا جس نے مختلف قبائل اور مذاہب کو ایک وحدت میں پرو دیا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اسلام کا نظام محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ ایک منظم ریاست، عادلانہ سیاست اور منصفانہ قانون سازی پر بھی محیط ہے۔

اگر اسلام محض ذکر و اذکار اور دعاؤں تک محدود ہوتا تو بدر، احد اور خندق جیسے معرکے کبھی درکار نہ ہوتے۔ ان معرکوں کا پیغام یہ تھا کہ دعا کے ساتھ ساتھ تلوار بھی وقتِ ضرورت عدل کا آلہ ہے۔ اگر عدل قائم کرنے کے لیے ادارے ناگزیر نہ ہوتے تو رسول اللہ ﷺ قضا و عدلیہ کا نظام قائم نہ فرماتے، اور اگر سیاست اسلام کا حصہ نہ ہوتی تو آپ ﷺ قیصر و کسریٰ اور دیگر حکمرانوں کو دعوتی خطوط ارسال نہ فرماتے۔

علماء کرام کا سیاست سے تعلق لازم ہے
یہی وہ نکتہ ہے جس پر امت کو بار بار متنبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر اہلِ علم و تقویٰ سیاست سے کنارہ کش ہو جائیں تو اقتدار کے ایوان نااہل، دنیا پرست اور مفاد پرست عناصر کے قبضے میں چلے جاتے ہیں۔ پھر سیاست خدمت کے بجائے غنیمت اور لوٹ مار کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ لیکن جب علماء قرآن و سنت کی روشنی میں اقتدار کو امانت اور سیاست کو عبادت سمجھتے ہوئے قیادت کا فریضہ انجام دیتے ہیں تو سیاست عدل و خدمت کا پیکر بن جاتی ہے اور قوم کا مستقبل روشنی و انصاف سے منور ہو جاتا ہے۔

رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ محض وعظ و نصیحت کافی نہیں۔ اگر دعا ہی ظلم کے ازالے کے لیے کافی ہوتی تو نہ ہجرت کی ضرورت پڑتی، نہ ریاست کی بنیاد رکھی جاتی، نہ جنگوں کا بوجھ اٹھایا جاتا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک ایسا نظامِ حیات ہے جو دعا اور تدبیر، عبادت اور سیاست، مسجد اور عدالت—سب کو یکجا کرتا ہے۔

اس حقیقت کو ایک سادہ تمثیل سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک باغ کو لیجیے: اگر باغبان صرف پانی دے مگر جھاڑ جھنکار نہ کاٹے اور فصل کو کیڑوں سے محفوظ نہ کرے تو باغ کبھی سرسبز و شاداب نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح اگر صرف وعظ و دعا پر اکتفا کیا جائے اور ظلم کے تدارک کے لیے ریاستی قوت کو حرکت میں نہ لایا جائے تو معاشرہ کبھی نہ سنورے گا۔ؤ

اسلام یہ پیغام دیتا ہے کہ دعا کے ساتھ عمل، وعظ کے ساتھ نظامِ عدل، اور مسجد کے ساتھ ریاست — سب مل کر دین کو کامل بناتے ہیں۔ اگر علماء سیاست سے الگ رہیں تو گویا دین کا ایک بڑا حصہ معطل ہو جاتا ہے اور معاشرہ بے لگام طاقتوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ لہٰذا علماء کی سیاست میں شمولیت نہ صرف دین کا تقاضا ہے بلکہ قوم کی بقا، عدل کے قیام اور امنِ عامہ کی سب سے بڑی ضمانت بھی ہے