ڈیجیٹل شعور: وقت کی ضرورت، حکومتی ترجیحات سے محروم – تحریر: انعام عاقل
سب سے پہلے ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری مرحوم بہن ثنا یوسف پر اپنی بے پایاں رحمت نازل فرمائے، ان کی لغزشوں کو معاف کرے اور ان کے نیک اعمال کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔
اس کے بعد ہمیں چاہیے کہ ہم ایک لمحے کے لیے رکیں، سوچیں اور تسلیم کریں کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ڈیجیٹل شعور (Digital Literacy) اب صرف ایک سہولت نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ آج کا بچہ جس وقت سوشل میڈیا استعمال کرنا شروع کرتا ہے، اسی لمحے اسے نہ صرف اس کے فوائد بلکہ اس کے نقصانات، خطرات اور اثرات کے بارے میں بھی مکمل آگاہی حاصل ہونی چاہیے۔
سوشل میڈیا اور بچے: ایک نظر انداز شدہ میدان
سوشل میڈیا بلاشبہ طاقتور ذرایع ابلاغ میں سے ایک ہے، مگر یہی طاقت خطرے میں بدل جاتی ہے جب بچوں اور نوجوانوں کو اس کے منفی پہلوؤں کا ادراک نہ ہو۔ سوشل میڈیا کے ذریعے نہ صرف ان کے سماجی رویے میں تبدیلی آتی ہے بلکہ ان کے اندر تنہائی، عدم تحفظ اور خود اعتمادی کی کمی جیسے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔
سب سے خطرناک پہلو سائبر جرائم
سائبر کرائم آج کے دور کی وہ بڑھتی ہوئی لہر ہے جو کم عمر صارفین کو نشانہ بناتی ہے۔ ہیکنگ، بلیک میلنگ، شناخت کی چوری اور نامناسب مواد تک رسائی جیسے مسائل اب عام ہو چکے ہیں، اور بیشتر والدین ان خطرات سے بے خبر ہیں۔
ڈیجیٹل جنریشن یا اسکرولنگ ایکسپرٹس؟
اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ آج کی نوجوان نسل، جسے عرف عام میں “جنریشن زی” (Gen Z) کہا جاتا ہے، ٹیکنالوجی سے خوب واقف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نسل محض “اسکرولنگ ایکسپرٹس” بن چکی ہے — یعنی وہ ایپس کے استعمال میں تو ماہر ہیں، مگر ٹیکنالوجی کے بنیادی اصولوں، آن لائن رازداری کے تحفظ، اور سائبر سکیورٹی کے بارے میں انتہائی کم فہم رکھتے ہیں۔
اکثر نوجوان اس حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں کہ ان کا ہر کلک، ہر پوسٹ، اور ہر شیئر ان کی ڈیجیٹل شناخت کو کیسے متاثر کر سکتا ہے۔
ریاستی غفلت اور پالیسی کا خلا
یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ اب تک حکومت نے اس اہم ترین مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی کوئی جامع کوشش نہیں کی۔ اسکولوں کے نصاب میں ڈیجیٹل شعور کی تعلیم موجود نہیں، نہ ہی کوئی منظم قومی پالیسی یا قانون سازی موجود ہے جو آن لائن سرگرمیوں کو منظم کرے۔
ایسے حالات میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس خلا کو فوری طور پر پُر کرے۔ ڈیجیٹل سکیورٹی، پرائیویسی، اور سوشل میڈیا کے اخلاقی استعمال سے متعلقہ قانون سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔
حل: تعلیم، تربیت اور قانون سازی
اس سنگین مسئلے کا حل تین اہم ستونوں پر کھڑا ہے:
1. تعلیم: اسکولوں اور کالجوں میں ڈیجیٹل شعور کے مضامین شامل کیے جائیں۔
2. تربیت: والدین اور اساتذہ کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی رہنمائی کے لیے تربیت دی جائے۔
3. قانون سازی: حکومت ایک جامع قانون تشکیل دے جو بچوں کو آن لائن دنیا میں تحفظ فراہم کرے۔
ڈیجیٹل دور کی دوڑ میں ہم نے اپنے بچوں کو جدید آلات تو تھما دیے، مگر انہیں ان آلات کے استعمال کا شعور دینا بھول گئے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف سہولت نہیں، بلکہ اپنے بچوں کو ذمہ داری بھی منتقل کریں۔ بصورتِ دیگر، ہم نہ صرف اپنی نسل بلکہ اپنے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیں گے۔

