The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 12 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چترال؛ آیون میں ’’دفاع صحابہ و استحکام پاکستان‘‘ کانفرنس، مختلف سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی شرکت

Chitral Times

چترال؛ آیون میں ’’دفاع صحابہ و استحکام پاکستان‘‘ کانفرنس، مختلف سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی شرکت

چترال؛ آیون میں ’’دفاع صحابہ و استحکام پاکستان‘‘ کانفرنس، مختلف سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی شرکت

چترال؛ آیون میں ’’دفاع صحابہ و استحکام پاکستان‘‘ کانفرنس، مختلف سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی شرکت

۔

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) اہلسنت والجماعت چترال کے زیر اہتمام جنالی آیون میں ’’دفاع صحابہ و استحکام پاکستان‘‘ کے موضوع پر ایک شاندار کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں جماعت اسلامی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی قائدین سمیت مختلف سیاسی و مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔

کانفرنس میں آیون، دروش اور چترال کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں عوام اور صحابہ کرامؓ سے محبت و عقیدت رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

کانفرنس کی صدارت اہلسنت والجماعت چترال کے امیر، ممتاز عالم دین اور شعلہ بیان مقرر مولانا حافظ خوش ولی خان نے کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق ناظم آیون مفتی عماد الحق، عنایت اللہ اسیر، عبدالولی خان ایڈووکیٹ، مولانا سراج الدین ندیم، عیدالحسین، مولانا قاضی سلامت اللہ اور مولانا شیر زمان خان نے کہا کہ دفاع صحابہ کانفرنس کا انعقاد مسلمانوں کو بیدار کرنے کی ایک اہم اور مثبت کوشش ہے۔

مقررین نے کہا کہ دینِ اسلام صحابہ کرامؓ کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، تاہم آج بعض ناعاقبت اندیش عناصر مسلمانوں کی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صحابہ کرامؓ کی شان میں ہرزہ سرائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحابہ کرامؓ کی عظمت و فضیلت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کی صفات اور خوبیوں کو خود بیان فرمایا ہے۔

مقررین نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی آنکھیں کھلی رکھنے اور اپنے دینی تشخص کے تحفظ کے لیے بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔ اگر مسلمان اسی طرح غفلت کا شکار رہے تو اغیار دین کو پارہ پارہ کرنے کی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ چترال امن پسند خطہ ہے اور یہاں کے عوام امن کو پسند کرتے ہیں، اس لیے امن کے قیام اور اسے برقرار رکھنے کی کوشش کرنے والے ہر شخص کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

مقررین نے کہا کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد روئے زمین پر سب سے معزز اور باوقار ہستیاں صحابہ کرامؓ ہیں۔ انہیں یہ عظیم مقام نبی کریم ﷺ کی صحبت اور آپ ﷺ کی غلامی کے باعث حاصل ہوا۔ صحابہ کرامؓ نے نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کو لمحہ بہ لمحہ دیکھا، اسے محفوظ کیا اور خود اس پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ دین کو دوسروں تک پہنچانے کا حق ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے اور ملک کا استحکام اسلامی اقدار اور دینی شعور کے فروغ سے ہی ممکن ہے۔ ہمیں اسلام، صحابہ کرامؓ اور اپنے ملک سے محبت ہے اور اس محبت میں دراڑ پیدا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

کانفرنس میں تین قراردادیں بھی متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔ ایک قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے عناصر کو روکا جائے اور گستاخی کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

دوسری قرارداد میں ہوشربا مہنگائی پر قابو پانے اور غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ تیسری قرارداد میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین دفاعی معاہدے کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا گیا۔

کانفرنس کے اختتام پر صدرِ اجلاس مولانا حافظ خوش ولی خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ملک کی سرحدوں کی حفاظت نہ کرنے کی صورت میں دشمن ملک کو نقصان پہنچا سکتا ہے، اسی طرح ایمان کی حفاظت نہ ہونے کی صورت میں دینِ اسلام کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایمان کی دولت، قرآن، نماز، روزہ، حج، تبلیغ اور جہاد سمیت دین کی تعلیمات رسول اللہ ﷺ کے جانثار صحابہ کرامؓ کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں۔ دشمن اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ دینِ اسلام میں پل کا کردار ادا کرنے والے صحابہ کرامؓ کے خلاف اعتراضات اٹھائے جائیں تو اسلام کے بنیادی ارکان اور قرآن کریم کے بارے میں شکوک پیدا کرنے کا راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے صحابہ کرامؓ کی کردار کشی کی مہم جاری رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

مولانا حافظ خوش ولی خان نے کہا کہ ہم نے دفاع صحابہ کا راستہ اس لیے اختیار نہیں کیا کہ اس پر پھول بچھائے گئے ہیں، بلکہ یہ کانٹوں سے بھری راہ ہے۔ اس راستے پر ہمارے کئی اکابرین اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں اور ہم بھی اسی راستے کے مسافر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج مسلمان، مسلمان کے خلاف ننگی تلوار بنا ہوا ہے۔ لوگ اپنے سیاسی قائد کے خلاف ایک حرف بھی برداشت نہیں کرتے، لیکن جب نبی کریم ﷺ کے ساتھی صحابہ کرامؓ کے خلاف بات کی جاتی ہے تو بعض افراد کے ماتھے پر شکن تک نہیں آتی۔ انہوں نے شرکائے کانفرنس سے اپیل کی کہ وہ صحابہ کرامؓ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

اس موقع پر مولانا حافظ خوش ولی خان نے کانفرنس کے شرکاء سے ناموسِ صحابہؓ کے تحفظ کے لیے مال و جان قربان کرنے کا عہد بھی لیا۔

کانفرنس جماعت اسلامی کے مقامی رہنما اور سابق ناظم مولانا رحمت نعیم شاہ المعروف ’’مولائی روم‘‘ کے دعائیہ کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

chitraltimes ahle sunnat wal jamat protest rally 3

chitraltimes ahle sunnat wal jamat protest rally 2