دھڑکنوں کی زبان ۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز لاٹھی ۔ محمد جاوید حیات
مسلمانوں نے جب بیت المقدس کو عیسائیوں کے پنجوں سےچھڑایا تو انہوں نے شہر کی چابیاں حوالہ کرنے کے لیے امیر المومنین کو خود حاضر ہونے پر اسرارکیا ۔۔ان کی مذہبی کتاب میں یہاں تک پیشنگوئی تھی کہ ایک صحرا نشین آۓ گا ۔۔وہ اونٹ کا مہار پکڑا ہوا ہوگا ان کا غلام اونٹ پر سوارہوگا ۔۔۔پیشنگوئیاں درست ہوئیں تو چابیاں حوالہ کی گٸیں ۔۔شہر امن کی دولت سے مالامال ہوگیا ۔۔اللہ کی عبادت کی جانے لگی ۔۔انسانیت جاگ اٹھی ۔
بیت القدس پھر ہاتھ سے نکل گیا چشم فلک نے وہ ظلم دیکھی کہ بیان سے باہر ہے مسلمان ایک ایک کرکے تہہ تیغ کیۓ گئے ۔۔بربریت پھر جاگ اٹھی ۔۔ایک جنرل مصر میں (سلطان لا وارث تھا )اس لیے سلطان بن کے داخل ہوا لوگ استقبال کے لیے آۓ تو وہ خاموشی سے سر جھکاۓ ایوان میں داخل ہوا کہا جب تک بیت المقدس آزاد نہیں ہوگا میرا احترام مت کرنا۔ سلطان جنگ خطین میں کنگ گاۓ اف لوزی گان کو شکست دی۔۔بیت المقدس کو آزادی ملی ۔۔۔چشم فلک نے نظارہ کیا کہ سلطان کی طرف سے قتل و غارت کی بجاۓ حکم ہوا کہ اگر عیسائی ملک چھوڑنا چاہتے ہیں تو اپنے سازوسامان ساتھ لے کے آرام سے کہیں بھی جاسکتے ہیں اگر ملک میں رہنا چاہتے ہیں تو ان کو کچھ بھی نہ کہا جاۓ گا ۔۔۔ایک بھی شہری بے گناہ قتل نہ ہوا ۔۔ عیسائیوں نے پھر فلسطین پر قبضہ کیا شہر میں قتل عام کیا مسلمان کچلے گئے ۔۔1967ء میں عرب اسرائیل جنگ میں صرف چھ دن میں بیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلا۔۔
یہودیوں نے وہ ظلم ڈھاۓ جو تا حیات جاری ہے ۔2024ء کو عزہ پر یلغار ہوا جو ظلم اس مہذب دنیا کے یہودیوں نے معصوم فلسطینیوں پر دھاۓ اس دنیا میں اس بربریت کی مثال نہیں ملتی 17جون 2023ء سے اب تک غزہ میں 55400 افراد شہید کیے گئے ان میں سے 17400 بچے شہید کیے گئے ان میں قریب 800 شیر خوار بچے اور 900 کے قریب ایک سال کے بچے قتل ہوۓ ۔۔۔اتنے افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔عزہ کھنڈر بن گیا ۔۔عالم کفر نے یہودیوں کو شاباشی دی ۔۔ان کے مسلمان چیلوں کو بھی یہ کہتے سنا گیا کہ غزہ کے مسلمانوں کو مزحمت نہیں کرنی چاہیے ۔۔۔
اسرائیل کی پشت پناہی عالم کفر کر رہا ہے ۔۔دجالی وزیر اعظم نے کہا ۔۔کہ پاکستان کو بھی اٹم بم بنانے نہیں دینا چاہیۓ تھا ہم نے غلطی کی ۔۔۔ایران کو ہماری غلامی کرنی ہے اس کی کیا حیثیت ہے کہ اٹم بم بناۓ ۔۔۔مسلمان اٹم بم کی حفاظت نہیں کر سکتے شاید اس لیے یہ سوچتے ہیں کہ مسلمان زندگی سے زیادہ موت سے پیار کرتے ہیں ۔۔ ان کے پاس ایک بہانہ رجیم چینچ کا ہے کہ سخت گیر اسلامی حکومت کسی بھی ملک میں نہیں ہونی چاہیے ۔۔مسلم دنیا کے حکمران ان کے طفیلی ہوں ۔۔ان کے ہاں قران و سنت کا تصور نہ ہو ۔۔تمدن و سیاست سے لے کر کار عدالت تک غیر اسلامی ہوں ۔۔قران ان کی زندگی میں کہیں بھی نظر نہ آئے یہ باقاعدہ ان کی غلامی کریں ۔یہ پرایکٹس انہوں نے مختلف اسلامی ممالک میں کرکے ان کو تباہ و برباد کردیا ۔۔
افغانستان میں اگرچہ کامیاب نہ ہوسکے مگر اپنا پورا زور لگایا ۔۔عراق ،شام ،لیبیا اب دوسرے عرب ممالک کو طفیلی بنا کے چھوڑے ہیں لے دے کے ایران اور پاکستان رہ گیا ہے ۔ایران پر حالیہ یلغار ایک بھوکے بھڑیے کی جھپٹ کی سی تھی ۔۔اندر باہر سے اس کو تہس نہس کرنےکی منصوبہ بندی تھی لیکن رب ان کے منصوبے خاک میں ملاۓ گا ان کی چیخیں بھی نکال دی ان کو بھی پتہ چلا کہ تباہی کیسی ہوتی ہے آگ اور خون کا کھیل کیسا ہوتا ہے ۔۔اللہ کا نام بڑا ہے ۔ایران نے تاریخ رقم کی ہے ۔۔ٹرم یہاں تک کہہ چکا تھا کہ میں پوری دنیا چلارہا ہوں ۔۔چین نے دھیرے سے کہا کہ امریکہ کو دنیا کا احترام کرنا چاہیۓ ورنہ سبق سیکھایا جاۓ گا ۔سبق سیکھایا گیا ۔۔۔اب اسرائیل کو تباہی سے بچانے کے لیے وہی ٹرم چچا سرگرم ہیں ۔۔۔
اسی ٹرم چچا نے کہا تھا پاکستان ہندوستان دو برے ہمساۓ ہیں ان کو لڑنے دو ۔۔پھر کہا نہیں نہیں جنگ بند کرو ۔۔چاپلوسی اور بے غیرتی کی اگر کوئی مثال ہے تو ایسی ہے اب چند دن کی جنگ کے بعد اسرائیلی فریاد کر رہے ہیں کہ ہمیں بچاٶ ۔۔یہ اللہ کی لاٹھی ہے ۔۔۔اس کی آواز جب اٹھتی ہے تو کڑکا کے رکھ دیتی ہے ۔اللہ نے تڑپتے مسلمانوں کی آنکھیں ٹھنڈی کی ۔۔۔غزہ کے معصوموں کی فریادیں عرش ہلا گٸیں ۔۔اب یہودیوں کے پرخچے اڑ رہے ہیں اب ان کو پتھر کے پیچھے چھپنے کا وقت آگیا ہے ۔ان کی شر سے دنیا کو محفوظ کرنے کا وقت آگیا ہے ۔۔۔اللہ اپنے نام لیوں کو نا امید نہیں کرے گا ۔۔۔وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رما ۔
