The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 31 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وفاقی آ ئینی عدالت کا ملازمین کے ٹیسٹ نہ لینے کی ذمہ داری محکموں پر عائد، بحال ملازمین کو مستقل تعینات تصور کرنے کا حکم

Chitral Times

وفاقی آ ئینی عدالت کا ملازمین کے ٹیسٹ نہ لینے کی ذمہ داری محکموں پر عائد، بحال ملازمین کو مستقل تعینات تصور کرنے کا حکم

وفاقی آ ئینی عدالت کا ملازمین کے ٹیسٹ نہ لینے کی ذمہ داری محکموں پر عائد، بحال ملازمین کو مستقل تعینات تصور کرنے کا حکم

وفاقی آ ئینی عدالت کا ملازمین کے ٹیسٹ نہ لینے کی ذمہ داری محکموں پر عائد، بحال ملازمین کو مستقل تعینات تصور کرنے کا حکم

.
اسلام آباد(سی ایم لنکس) سرکاری ملازمین کو ملازمت پر برقرار رکھنے کے لیے لازمی اہلیت کے امتحانات منعقد نہ کرانا متعلقہ محکموں کی ذمہ داری تھی، ملازمین کو محکموں کی غفلت کی سزا نہیں دی جا سکتی، وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق توہین عدالت کی درخواستیں نمٹاتے ہوئے درخواست گزاروں کو غیر مشروط اور مستقل طور پر تعینات ملازمین تصور کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس علی باقر نجفی نے تحریر کردہ فیصلے میں قرار دیا کہ متعلقہ محکموں نے بحال ملازمین کو ٹیسٹ دینے کے لیے نہ بلایا اور نہ ہی فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو امتحانات منعقد کرنے کی درخواست بھجوائی، لہٰذا اس غفلت کی ذمہ داری ملازمین پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ محکموں کی عدم دلچسپی اور تاخیر کے باعث ٹیسٹ کی شرط غیر موثر ہو چکی ہے اور ملازمین کو اس بنیاد پر کسی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مقدمات کی سماعت کی، بینچ میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل تھے۔عدالت نے قرار دیا کہ ملازمین خود امتحانی پرچہ تیار کرکے محکموں کو جمع نہیں کرا سکتے تھے اور نہ ہی اپنی مرضی سے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے امتحانی مرکز میں جا کر امتحان دے سکتے تھے۔ ٹیسٹ کا انعقاد متعلقہ محکموں کی ذمہ داری تھی، اگر انہوں نے یہ ذمہ داری پوری نہیں کی تو ملازمین کو اس کا نقصان نہیں اٹھانا چاہیے۔فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے 17 دسمبر 2021ء کو اپنے فیصلے میں بحال ملازمین کے لیے دو الگ شرائط مقرر کی تھیں۔جن عہدوں کے لیے ابتدائی بھرتی کے وقت کسی اہلیت، تعلیمی یا فنی امتحان کی ضرورت نہیں تھی، ان ملازمین کو سابقہ عہدوں پر بحال کرنے کا حکم دیا گیا تھا جبکہ دیگر ملازمین کو متعلقہ امتحان پاس کرنے کی شرط کے ساتھ بحال کیا گیا تھا۔

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ محکموں اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے تاحال مطلوبہ امتحانات منعقد نہیں کیے۔ محکموں کا موقف تھا کہ ملازمین نے خود ٹیسٹ کے لیے رابطہ نہیں کیا جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا کہنا تھا کہ متعلقہ محکموں کی جانب سے درخواست موصول ہونے کے بغیر امتحان منعقد نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ آئینی جمہوریت میں قانون کی حکمرانی بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ آئینی تقاضا ہے۔ عدالتی احکامات کو نظر انداز کرنا یا ان پر عمل درآمد میں تاخیر عدالتی نظام پر عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔وفاقی آئینی عدالت نے توہین عدالت کی درخواستیں نمٹاتے ہوئے متعلقہ حکام کو سپریم کورٹ کے 17 دسمبر 2021ء کے تفصیلی فیصلے پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد اور درخواست گزار ملازمین کو غیر مشروط اور مستقل طور پر تعینات ملازمین تصور کرنے کی ہدایت کی۔