دین، غیرت اور انصاف – تحریر، صوفی محمد اسلم
.
کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک خاندان کو مٹانے کے اندوہناک واقعے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ واقعے کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ایک لڑکا ایک گاؤں کے ایک خاندان کی لڑکی سے پسند کی شادی کرتا ہے۔ یقیناً اس فیصلے میں لڑکی کی رضامندی بھی شامل ہوگی۔ دونوں گھر سے بھاگ جاتے ہیں۔ چھ سال بعد ان دونوں کو ان کے دو معصوم بچوں سمیت قتل کر دیا جاتا ہے۔
لڑکی کے والد اور بھائی کے سوشل میڈیا پر وائرل بیانات کے مطابق، لڑکی ایک سید زادی ہے اور اس کی شادی کسی غیر سید سے نہیں ہو سکتی۔ ان کے بقول، لڑکے اور لڑکی دونوں نے ان کی عزت، ننگ و ناموس کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ان کے نزدیک ان دونوں کی شادی شرعی نہیں تھی اور ان کے ہاں پیدا ہونے والے دو بچے بھی ناجائز تھے۔ مزید یہ کہ اس قتل کے الزام میں لڑکی کے چچا اور بھائی کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ لڑکی کے والد نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان دونوں کے ساتھ کچھ برا ہوا تو لڑکے کے پورے خاندان، یعنی اس کے والد، بھائی اور بہن کو بھی مٹا دیا جائے گا۔
یہاں چند بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
پہلا سوال: کیا سید زادی کا نکاح کسی غیر سید سے نہیں ہو سکتا؟ کیا اس حوالے سے کوئی مستند حدیث یا مصدقہ روایت موجود ہے جو اس نکاح کو ناجائز قرار دیتی ہو؟
قرآن مجید میں ارشاد ہے، مفہوم، بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔
حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر تقویٰ کے سوا کوئی فضیلت حاصل نہیں۔
تو کیا اس کے بعد بھی نسلی برتری اور خاندانی تفاخر کی کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟
دوسرا سوال: جب لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ تھے اور انہوں نے اپنی رضامندی سے نکاح کیا تھا تو ان کا نکاح باطل قرار دیا جا سکتا ہے؟
ہرگز نہیں، البتہ ولی کی اجازت ضروری ہے فرض نہیں۔
تیسرا سوال: بالفرض اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ان کا نکاح باطل تھا تو کیا اس بنیاد پر ان کے دو معصوم بچوں کو قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے؟ آخر ان معصوم بچوں کا کیا قصور تھا؟
ہرگز نہیں، ایک معصوم کو قتل کرنا پوری انسانیت کی قتل کی مترادف ہے، چاہے جائز ہو یا ناجائز۔
اصل مسئلہ عزت کا نہیں، نہ ہی دین اسلام کا ہے۔ مسئلہ اس نام نہاد غیرت اور انا کا ہے جسے ہمارے معاشرے میں عزت کا نام دے کر پروان چڑھایا جاتا ہے۔ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں، وہاں صرف اسی انا کو ہوا دی جاتی ہے۔ معاشرے میں اصلاح کرنے والے محدود ہو چکے ہیں، ہر جگہ برائی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ نہ دین کی حقیقی روح باقی رہی ہے، نہ اصولوں کی پاسداری، نہ رحم اور نہ ہی انسانیت۔
ہمارے معاشرے کا دوہرا معیار بھی عجیب ہے۔ جب کوئی لڑکا کسی کی بیٹی کو بھگا کر لے جاتا ہے تو جشن مناتے ہیں، لیکن جب کوئی بیٹی اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتی ہے تو اچانک غیرت جوش مارنے لگتی ہے۔
اگر عزت اور دین کی پاسداری سب پر یکساں لازم ہے تو پھر بیٹے اور بیٹی میں یہ فرق کیوں؟ جب بیٹے کے لیے اپنی پسند سے شادی کرنا جائز ہے تو بیٹی کے لیے کیوں نہیں؟
میں کبھی بھی گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کے حق میں نہیں ہوں، مگر پسند ہر انسان کا حق ہے۔ شادی زندگی کا ایک انتہائی اہم ذاتی فیصلہ ہے۔ انسان کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی اس شخص کے ساتھ گزارے جسے وہ پسند کرتا ہے۔
اگر والدین کو اولاد کا انتخاب پسند نہیں تو انہیں چاہیے کہ محبت، دلیل اور سمجھ داری سے اپنی اولاد کو سمجھائیں۔ اگر اس کے باوجود بالغ لڑکا اور لڑکی اپنے فیصلے پر قائم رہیں تو انہیں شرعی اور قانونی طریقے سے نکاح کرنے دیا جائے۔ جب ایسا راستہ موجود ہے تو پھر بھاگ کر شادی کرنے کا مسئلہ ہی کیوں پیدا ہونے دیا جائے؟
غیرت کے نام پر قتل نہ عزت کی حفاظت ہے، نہ دین کی خدمت، نہ ہی مردانگی کی علامت اور نہ انصاف کی پاسداری ہے۔یہ صرف ظلم ہے اور ظلم کو کسی بھی نام سے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔