اپر چترال میں دریاؤں اور ندی نالوں میں نہانے اور کشتی رانی پر دو ماہ کے لیے پابندی نافذ
۔
بونی (نمائندہ چترال ٹائمز) ڈپٹی کمشنر/ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اپر چترال محمد عمران خان نے مون سون سیزن کے دوران ممکنہ حادثات کے پیش نظر ضلع بھر کے تمام دریاؤں، ندی نالوں اور قدرتی آبی گزرگاہوں میں نہانے اور کشتی رانی پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔
جاری کردہ حکمنامے کے مطابق جولائی اور اگست کے دوران مون سون بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے اور تیز بہاؤ کے نتیجے میں انسانی جانوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق خاص طور پر نوجوانوں کی جانب سے دریاؤں میں نہانے اور کشتی رانی کے دوران پیش آنے والے حادثات کے خدشات کے باعث حفاظتی اقدامات ناگزیر تھے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 144 کے تحت ضلع اپر چترال کی حدود میں تمام قدرتی آبی گزرگاہوں، دریاؤں اور ندی نالوں میں نہانے اور کشتی رانی پر دو ماہ کے لیے پابندی نافذ کی جاتی ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ حکم پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انتظامیہ نے عوام، بالخصوص نوجوانوں اور سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے پابندی پر عمل کریں اور مون سون کے دوران تیز بہاؤ والے دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔