ڈپٹی کمشنر راؤ ہاشم عظیم طویل رخصت پر بیرونِ ملک روانہ، چترال میں ایک سالہ تعیناتی کے دوران نمایاں انتظامی خدمات پر تمغہ امتیاز کیلئے بھی نامزد
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم عظیم ایک سالہ تعیناتی مکمل کرنے کے بعد طویل رخصت پر بیرونِ ملک روانہ ہوگئے ہیں، جہاں وہ مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے۔ چترال میں بطور ڈپٹی کمشنر ان کی یہ پہلی تعیناتی تھی، تاہم مختصر عرصے میں انہوں نے انتظامی امور، سروس ڈیلیوری اور عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
راؤ ہاشم عظیم کے ایک سالہ دورِ تعیناتی کے حوالے سے مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کے دفتر کے دروازے سائلین کے لیے تقریباً چوبیس گھنٹے کھلے رہتے تھے۔ بعض اوقات تعطیل کے دن بھی وہ دفتر میں موجود رہتے اور عوامی مسائل سننے کے ساتھ ان کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کرتے رہے۔
مقامی افراد کے مطابق کسی بھی سائل کی جانب سے مسئلہ سامنے آنے پر ڈپٹی کمشنر خود اس کا فالو اَپ لیتے اور مسئلے کے حل کے لیے حتی الامکان کوشش کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تعیناتی کے دوران سروس ڈیلیوری اور عوامی سہولیات کی بہتری کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کا کردار نمایاں رہا۔
راؤ ہاشم عظیم نے انتظامی امور کے ساتھ ساتھ کئی ایسے اقدامات بھی کیے جنہیں مقامی سطح پر اہم قرار دیا گیا۔ ان میں چترال میں پہلی مرتبہ مرغی کا گوشت وزن کے حساب سے فروخت کرنے کے نظام کا نفاذ،بچوں کے لیے اخلاقی تربیت پر مبنی کتاب ’’ روشت استاری‘‘ کی اشاعت اور تقسیم بھی ان کے نمایاں اقدامات میں شامل رہی۔ اس کتاب کا مقصد بچوں میں اچھے اخلاق، مثبت رویوں اور معاشرتی اقدار کو فروغ دینا تھا۔ جنگلات کی رائلٹی کی تقسیم میں شفافیت، مختلف علاقوں میں سیلاب کے بعد فوری رسپانس اور متاثرہ علاقوں میں امدادی و بحالی سرگرمیوں کی نگرانی شامل ہے۔
اسی طرح این ایچ اے کے زیرِ انتظام سڑکوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کے لیے بھی انہوں نے متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا۔ خصوصاً چیو پل سے ڈی سی پارک تک زیرِ التوا سڑک منصوبے میں زمین مالکان کو معاوضے کی ادائیگی کے بعد تارکول بچھانے کے عمل کو آگے بڑھانے میں ان کا کردار اہم رہا۔
مقامی حلقوں کے مطابق راؤ ہاشم عظیم کی انتظامی کارکردگی کا ایک اہم پہلو ان کا ماتحت عملے کے ساتھ دوستانہ رویہ بھی تھا۔ وہ ملازمین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے، تاہم کام لینے اور ذمہ داریاں مؤثر انداز میں نبھوانے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ ان کے قریبی حلقوں کے مطابق وہ ٹیم ورک اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کو اہمیت دیتے رہے۔
چترال میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مختلف صوبوں خصوصا پنجاب اور سندہ سے تعلق رکھنے والے متعدد افسران اپنی تعیناتی کے دوران بہتر اور نمایاں انتظامی کارکردگی کا مظاہرہ کرکے اچھی شہرت کے ساتھ یہاں سے منتقل ہوتے رہے ہیں۔ مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ راؤ ہاشم عظیم بھی مختصر تعیناتی کے باوجود ان افسران میں اپنا نام شامل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
راؤ ہاشم عظیم کو اپنے ایک سالہ دورِ تعیناتی کے دوران مختلف انتظامی اور عوامی نوعیت کے مسائل اور چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے ان معاملات کو تحمل، معاملہ فہمی اور مؤثر حکمتِ عملی کے ساتھ ہینڈل کیا۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغۂ امتیاز کے لیے نامزد کیا جانا بھی ان کی انتظامی کارکردگی کا اہم اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ چترال ان کی پہلی ڈپٹی کمشنری تعیناتی تھی اور اسی پہلی تعیناتی کے دوران انہیں اس قومی اعزاز کے لیے نامزد کیا گیا۔
مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ راؤ ہاشم عظیم نے چترال میں اپنے ایک سالہ قیام کے دوران انتظامی امور کو ترجیح دی اور ذاتی تشہیر کے بجائے عملی کام پر توجہ مرکوز رکھی۔ ان کے مطابق ایسے افسران کی کمی محسوس ہوتی ہے جو عوامی مسائل سننے کے لیے خود دستیاب ہوں اور انتظامی مشینری سے کام لینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔
راؤ ہاشم عظیم کی بیرونِ ملک روانگی پر مختلف عوامی و سماجی حلقوں نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد مزید تجربے اور صلاحیت کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔



