داد بیداد – شب جا ئے کہ من بو دم – ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی
امیر خسرو کی مشہور نعت میں ٹیپ کا بند ہے ”شب جا ئے کہ من بودم“ وہ جگہ جہاں میری رات تھی جس رات کا ذکر ہو رہا ہے یہ امیر خسرو کی رات جیسی حا لت رویا ء(خواب) کی رات نہیں بلکہ عالم بیداری کی جیتی جا گتی رات تھی اس رات کی بڑی بات نعتیہ مضمون کا نیا پیرا یہ اظہار تھا کھوار کے نا در الخیال شاعر پرو فیسر ڈاکٹر اسما عیل ولی اخگر نے جر من شاعر گو ئٹے کے مشہور دیوان سے نعتیہ نظم اٹھا کر اُسے اپنے تخیل سے مزید نکھار تے ہوئے کھوار نظم کا خو ب صورت جا مہ پہنا یا ہے نعت کا مضمون اچھوتا ہے شاعر کا اسلو ب نیا ہے اور تر نم کے انداز نے اس کی اثر پذیری میں اور بھی اضا فہ کیا ہے، اس پر تبصرہ کر تے ہوئے ایک باذوق عالم نے فارسی کا مشہور شعر عنا یت کیا
خوش تر آنست کہ سر دلبراں
گفتہ آید در حدیث دیگراں
یہ پشاور کے حیات اباد فیز- 4کی ایک شام اور ڈھلتی رات کا سماں تھا انجینئر بشیر احمد صاحب نے اپنے دولت خا نے پر چترال اور کھوار سے محبت کرنے والے احباب کو دعوت شیراز کے لئے جمع کیا تھا امریکہ پلٹ ما یہ نا ز ادیب اور شاعر قاضی صالح نظام کی مو جو د گی تاروں کی اس کہکشاں میں چاند کی ما نند محسوس ہوتی تھی کسی محفل میں دس بارہ شعراء اکھٹے ہوں اور سخن وری کا دور نہ چلے یہ ہو نہیں سکتا چنا نچہ پر تکلف عشائیہ کے بعد مشا عرہ کی محفل جم گئی اور ایسی جم گئی کہ خدا دے اور بندہ لے انجمن ترقی کھوار حلقہ پشاور کے صدر مہر بان الٰہی حنفی نے فصیح و بلیغ تمہید کے بعد صدر مجلس، مہمان خصوصی اور مہمانان اعزاز کا اعلا ن کیا، عاصی پُر تقعیر، صالح نظا صالح، ڈاکٹر اعما عیل ولی اخگر، سعا دت حسین مخفی، نور اللہ ساگر اور فتح شاہ شکست کے لئے تا لیاں بجا ئی گئیں، سیدابراہیم شاہ طائر نے تلا وت کلا پا ک کی سعادت حا صل کی ڈاکٹر اسما عیل ولی اخگر نے ایک تاریخی نعتیہ کلا م سے مشا عرے کا آغاز کیا نعتیہ کلا م کا خیال جر من شاعر اور فلا سفر گوئٹے سے لیا گیا تھا جس نے اپنے دیوان میں ”محمد ﷺکا نغمہ“ شائع کیا، اس میں آسمان سے زمین تک آفاق گو گھیر ئے ہوئے اندھیروں سے روشنی کی طرف پیغمبر خدا محا کات کے پیرا یے میں بیان کی زند گی اور ان کے مشن کو محا کات بیان کر کے گہرا تاثر دیا گیا ہے کہ آپ کی نبوت ورسالت نے دنیا کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی راہ دکھا ئی اخگر صاحب نے کھوار میں ڈھا لتے ہوئے اس کے لئے نظم کا نیا پیرا یہ اختیار کیا ہے جس میں اہم الفاظ کے تکرار سے گہرا تا ثر پیدا ہو تا ہے جو خیا لات کی بلندی کو نما یاں کر تا ہے
گوغ چہ وٹ، بوئکرہ، چرندہ، پرندہ، بے زبان وہ حیوان وہ حیوان
تور رحموای غو چھار تو او سوغ تو ای سین نو کہ اے سمندار
سمندار، سمندار،سمندار،سمندار
وہ حشرو ہے انو س قیا متو انوس تہ اوانی چکور تھے کیڑاؤ
زاروزار، زاروزار، زاروزار، زاروزار
ہر ای گنہہ گار، گنہہ گار، گنہہ گار
مشاعرے میں ظفر مسرور، جلیل جلا نی، خیر محمد سہیل، نذیر احمد نذیر، سعادت حسین مخفی، فتح شاہ شکست، نو اللہ ساگر، ابراہیم شاہ طائر، مہربان الٰہی حنفی، سعید احمد خواجہ، انجینئر بشیر احمد اور صالح نظام صالح نے بھر پور حصہ لیا اور ایک سے بڑھ کر ایک کلا م سنا یا شیر از سلطان کی ویڈیو گرافی، عباس اور عدیل کی دادو تحسین نے مزید رنگ پیدا کر دیا، حسب سابق خیر محمد سہیل نے عالمی حدت اور سیلاب کے پس منظر کو لیکر پر سوز نظم سنا ئی آذاد نظم کے اندر سیلاب سے پہلے گاوں میں بہار کے حسن، باغ میں خو بانی، اخروٹ، چنار اور بید کے درختوں پر چہچہا نے والے پرندوں یعنی مایون، چیچی بون، چڑیا، چوک وغیرہ کی نغمگی کا مسحور کن ذکر تھا یکا یک سیلاب نے شاعر کی کُٹیا کو باغ سمیت اکھاڑ دیا،
اگلے سال بہار آئی مگر یہ خزاں رنگ بہار تھی باغ کی جگہ ویرانہ تھا ویرانے میں الّو کا جا نشین کھنڈرات کا باسی یعنی منحوس ترین پرندہ اشپا قیٹی بول رہا تھا اس نظم نے آنکھوں کے سامنے ایک خواب سجا یا ذہن کی سکرین پر دو متضاد تصویریں نمودار ہوئیں مشا عرے کے آخر میں انجمن ترقی کھوار کی طرف سے سعید احمد خواجہ نے انجینئر بشیر احمد کا شکریہ ادا کیا انجینئر صاحب نے شعرائے کرام اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا مہمان خصو صی صالح نظام صاحب نے مشاعرے پرا پنے تاثرات پیش کئے اور راقم کے صدارتی کلمات کے ساتھ محفل بر خاست ہوئی دیر تک سب کو یاد رہیگی شب جا ئے کہ من بو دم۔
