The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 25 July 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

​داد بیدار – ​قرض لینے کا سالانہ ہدف – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

Chitral Times

​داد بیدار – ​قرض لینے کا سالانہ ہدف – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

​داد بیدار – ​قرض لینے کا سالانہ ہدف – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

​داد بیدار – ​قرض لینے کا سالانہ ہدف – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

.
.
​پاکستانی وزارت خزانہ کے اقتصادی امور ڈویژن نے ایک دستاویز میں انکشاف کیا ہے کہ مالی سال 2025 جولائی سے 2026 اور جون کے لیے مختلف ذرائع سے قرض لینے کا ہدف 19 ارب 92 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا تھا گویا ہمارا ہدف 20 ارب ڈالر سے صرف 8 کروڑ ڈالر کم تھا۔ اس عرصے میں حکومت پاکستان کو مختلف ذرائع سے 16 ارب 20 کروڑ ڈالر قرض، گرانٹ وغیرہ کی صورت میں وصول ہوئے گویا ہمارے اندازے اور ٹارگٹ سے 3 ارب 72 کروڑ ڈالر کم آئے، پر جو آئے اس کو بھی ہم نے غنیمت جانا۔ اس دستاویز کی تفصیلات جب اخبارات میں آئیں تو پاکستانی قوم کا سر مارے شرم کے جھک گیا کیونکہ زندہ قومیں اور فلاحی مملکت کی حکومتیں پر سال صنعتی ترقی، ملکی پیداوار، زر مبادلہ کے ذخائر اور بنیادی ڈھانچا بچھانے کے لیے اہداف مقرر کرتی ہیں ہماری حکومت مشرق سے مغرب تک گدائی اور بھکاری والا کشکول لے کر در بدر پھرنے اور قرض کی لعنت سے کشکول بھر کر لانے کا ہدف مقرر کرتی ہے۔
ہدف پورا نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتی ہے اور اگلے سال مزید قرض لینے کے لیے سر توڑ کوشش کرتی ہے۔ یہ ایک سال کی بات ہے کہ قرض لینے کا ہدف پورا نہ ہوا بلکہ ہدف سے کم قرضہ ملا ورنہ ہر سال قرض لینے اور امداد مانگنے کا ہدف پورا ہوتا ہے، زیر نظر دستاویز میں گذرے ہوئے مالی سال کی کارکردگی کا ذکر اس طور پر آیاہے کہ مختلف عالمی مالیاتی اداروں نے 5 ارب ڈالر قرض فراہم کیا جس کو فنانسنگ کا نام دیکر کیمو فلاج  کیا گیا چین نے ایک ارب 35 کروڑ ڈالر فراہم کیا، سعودی عرب نے تین ذرائع سے ہماری مدد کی، جس کی طرف سے ایک ارب ڈالر کا قرض ملا، ایک ارب ڈالر کی مالیت کا تیل ادھار میں مل گیا اور 3 ارب ڈالر امانت کے طور پر ڈیپازٹ ہاتھ آئے ۔ نیا پاکستان سرٹیفکیٹس اوربانڈز کی مد میں 3 ارب 30 کروڑ ڈالر وصول ہوئے عالمی بینکوں کی طرف سے ایک ارب 90 کروڑ ڈالر مل گئے، دستاویز میں اخراجات کے سلسلے میں کس مد کے اوپر کتنا خرچہ آیا
اس کا کوئی ذکر نہیں ہے، البتہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں 75 ارب روپے کے کرپشن اور بدعنوانی کی تفصیلات آگئی ہیں آزاد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کی تعداد 75 ہزار سے اوپر ہے ان میں 20 ہزار گاڑیاں 1800 سی سی کی لگژری کاریں ہیں جن میں سرکاری پروٹوکول کی بلٹ پروف گاڑیاں بھی شامل ہیں، ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ 2016 میں سپریم کورٹ کو سرکاری گاڑیوں کی جو تفصیل بھیجی گئی اس میں وفاقی وزیر کے نام پر 7 گاڑیاں، کشمیر کمیٹی سمیت قائمہ کمیٹیوں کے سربراہوں کے نام پر 3 گاڑیاں دکھائی گئی تھیں، سپریم کورٹ کے بنچ نے ابزرویشن دی تھی کہ دکھائی گئی تعداد اصل تعداد سے بہت کم ہے چیف جسٹس ثاقب نثار نے حکم دیا تھا کہ بلیو بک میں دی گئی استحقاق سے زیادہ گاڑیاں جس کے پاس بھی ہوں واپس لی جائیں مگر اس حکم پر عملدرآمد نہیں ہوا، چنانچہ قرض مانگ کر جو کچھ لایا جاتا ہے اس کا بڑا حصہ مقروض ملک کے حکمرانوں کے لیے لگژری گاڑیاں درآمد کرنے اور ان کے پٹرول وغیرہ پر خرچ کرنے میں لگایا جاتا ہے۔ اب تو یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ صوبائی وزرائے اعلیٰ کو بھی 11 ارب ڈالر مالیت کے لگژری جیٹ جہاز کا حقدار ٹھہرایا گیا ہے
​زیر نظر مالی سال کے اندر اراکین پارلیمنٹ نے اپنے مراعات میں 500 فیصد اضافہ کیا قومی اسمبلی کا بجٹ 8 ارب سے بڑھ کر 17 ارب ہو گیا ایوان بالا کو شاہ صاحب ازراہ تفنن “ایوانِ بلا” کہتے ہیں اس کا بجٹ 4 ارب روپے سے بڑھ کر 12 ارب روپے ہو گیا، اسی طرح ایوانِ صدر کا بجٹ دگنا ہو کر 4 ارب 23 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، وزیراعظم کے گھر اور دفتر کا بجٹ 95 کروڑ روپے سے بڑھا کر ایک ارب 80 کروڑ روپے تک لایا گیا، ایم این اے کی تنخواہ پر ایک لاکھ 88 ہزار روپے ماہانہ لاگت ترمیمی ایکٹ کے تحت 5 لاکھ 19 ہزار ہوئی دیگر مراعات پر اٹھنے والے اخراجات اس سے بھی زیادہ ہیں۔اس نوعیت کی عیاشیاں پاکستان کے سوا کسی بھی ملک میں نہیں ہیں دوسرے ممالک اس لیے قرض نہیں لیتے کہ ان کے حکمران سالانہ بجٹ اپنے بے جا عیاشیوں پر نہیں لٹاتے

یہاں تک لکھنے کے بعد لا محالہ خیال آتا ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ ہم کب تک قرض کی مئے پیتے رہینگے اور فاقہ مستی کے رنگ لانے کا انتظار کرتے رہینگے؟ اس کا حل وہی ہے جو لی کوان یو نے سنگاپور میں، چیرمین ماؤ نے چین میں اور مہاتیر محمد نے ملائشیا میں کامیابی کے ساتھ آزمایا اور دنیا میں مثال قائم کیا تین بڑے اقدامات کی ضرورت ہے پارلیمنٹ اور کابینہ کے اخراجات میں 50 فیصد کٹوتی کی جائے، تمام لگژری گاڑیوں کو نیلام کر کے حاصل ہونے والی آمدنی قومی خزانے میں جمع کی جائے وزراء اور ججوں کے پروٹوکول میں دو سے زیادہ گاڑیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہئیے۔ سالانہ بجٹ میں غیر پیداواری مدات کے لیے مختص رقوم میں50 فیصد کٹوتی کی جائے اراکین اسمبلی اور وزراء کے غیر ملکی دوروں پر پابندی لگائی جائے صدر یا وزیر اعظم کسی ناگزیر ضرورت کے تحت غیر ملکی دورے پر جائے تو اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ چار افراد کو سرکاری خرچ پر جانے کی اجازت ہو۔ اس طرح کے اقدامات سے ملک پر قرضوں کا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔