دادبیداد – شندور سے پہلے – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
.
ماضی میں چترال میں مئی کا مہینہ پولو سیزن کہلاتا تھا کیونکہ اپر اور لوئر چترال کے گھڑ سوار اس مہینے پولو کےٹورنامنٹ میں حصہ لیتے تھے، دور دور سے شائقین میچ دیکھنے کے لیے آتے تھے۔ یہ سلسلہ اب بھی ہے، ٹورنامنٹ ہوتے ہیں، گھڑ سوار بھی آتے ہیں، شائقین بھی رونق لگاتے ہیں، پولو سیزن کو جشن بہار یا پولو کا جلسہ کہنے کے بجائے “پری شندور پولو ٹورنامنٹ یعنی شندور سے پہلے کا کھیل” کہا جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ حکومت حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر چائے پانی کا خرچہ صرف شندور کے نام پر دیتی ہے، کھیل اور کھلاڑی کے نام پر نہیں دیتی۔ اس لیے پری-Pre Shandur ہماری مقامی لغت میں شامل ہو چکا ہے۔ مجھے چترال ٹاؤن کے جڑواں پولو گراؤنڈ میں بادشاہ کے نام پر غریبوں کا کھیل تماشائی کی حیثیت سے دیکھتے ہوئے 61 سال ہو رہے ہیں، نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد کھیل کا معیار بہت بلند ہوا ہے۔ مقامی نسل یا بدخشان اور سوات کے پست قد گھوڑوں کی جگہ سرگودھا، ملتان، میانوالی، ڈیرہ غازی خان اور جھنگ سے خریدے گئے بلند قامت گھوڑے آگئے ہیں
کھیل کی تکنیک میں بہت ترقی ہوئی ہے۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ 1965ء میں پولو کی ایک ٹیم 5 کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی تھی، ایک میچ میں 10 گھوڑے ہوتے تھے، اب 6 کھلاڑیوں کی ٹیم ہوتی ہے، ایک میچ 12 گھوڑوں کا ہوتا ہے۔ کھیل اور ٹورنامنٹ کے انتظامات ماضی میں بہت اچھے ہوتے تھے، میچ دیکھنے والے مہمانوں کی گیلری چنار کے بلند و بالا درختوں کے سایے میں پولو گراؤنڈ کے مشرق میں گول پوسٹ کے پیچھے شاندار طرزِ تعمیر میں بنی ہوئی تھی جو “چہاردری” کہلاتی تھی، اس گیلری سے پورا گراؤنڈ سامنے نظر آتا تھا۔ اس کو مسمار کر کے گراؤنڈ کے شمال میں ایسی گیلری بنائی گئی ہے جس کی نہ خوبصورتی ہے نہ وہاں سے گراؤنڈ نظر آتا ہے، تصویر میں اس کو دیکھیں تو تجاوزات کے زمرے میں لانے کے قابل لگتا ہے۔ پولو گراؤنڈ کے وسط میں یہ وہ جگہ تھی جہاں گھوڑوں کے آنے جانے کا راستہ ہوا کرتا تھا، اس جگہ دو خیمے نصب ہوا کرتے تھے،
ایک خیمے کے اندر کھلاڑیوں کو لگنے والے ناگہانی زخم وغیرہ کے علاج یا ابتدائی طبی امداد کے لیے ہسپتال کا مستعد عملہ تمام سہولیات کے ساتھ موجود ہوتا تھا، دوسرے خیمے کے اندر گھوڑوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے شفا خانہ حیوانات کا عملہ ڈیوٹی دیتا تھا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ 2026ء میں ایمرجنسی کے لیے پہلے سے بہتر انتظامات ہوتے، ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایمبولینس کی سروس مہیا ہوتی مگر اب خیمے کے اندر فرسٹ ایڈ کی سہولت بھی نہیں ہے۔ کھلاڑی کو چوٹ آئے یا گھوڑے کو چوٹ آئے انتظامیہ کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی۔ ماضی میں کھلاڑیوں کو سرکاری اور غیر سرکاری کے الگ الگ درجوں میں تقسیم کرنے کا دستور نہیں تھا،
اُس زمانے میں صرف چترال سکاؤٹس کی دو ٹیمیں ہوتی تھیں باقی سارے کھلاڑی سویلین ہوا کرتے تھے۔ چترال سکاؤٹس کے کھلاڑی سویلین کھلاڑیوں کو استاد کادرجہ دیتے تھے اور ان کی بیحد قدر کرتے تھے۔ اب چترال سکاؤٹس کی تین ٹیمیں میدان میں آتی ہیں، چترال پولیس کی دو ٹیمیں کھیلتی ہیں، چترال لیویز کی الگ سے دو ٹیمیں ہیں، قرعہ اندازی سے لے کر تقسیم انعامات تک ہر قدم پر سرکاری کھلاڑی اور غیر سرکاری یا سویلین کھلاڑی کا جھگڑا ہوتا رہتا ہے اور ان جھگڑوں میں کھلاڑیوں سے زیادہ افسروں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انتظامیہ نے پولو گراؤنڈ کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، سرسبز گھاس کی جگہ مٹی اور گرد و غبار یے حکومت کی نظر میں سویلین کھلاڑیوں کی زیادہ قدر ہونی چاہیے۔
وہ اپنی جیب سے 13 لاکھ یا 14 لاکھ روپے کا گھوڑا خریدتا ہے، اس کی دیکھ بھال اور پرورش پر ہر سال 8 لاکھ روپے لگاتا ہے، ایک ٹورنامنٹ میں اگر 65 ٹیمیں شرکت کرتی ہیں تو ان میں 59 ٹیموں میں سول کھلاڑی ہوتے ہیں جو اس کھیل کو اپنا شوق اور اپنے آبا و اجداد کی قابلِ فخر میراث سمجھ کر کھیلتے ہیں، سویلین ٹیموں میں ہر سال نوجوان کھلاڑیوں کی بڑی تعداد سامنے آتی ہے۔ یہ لوگ دور دراز وادیوں سے گھوڑے کے ساتھ سائیس لے کر ٹاؤن آجاتے ہیں، ٹاؤن میں اطراف سے آنے والے کھلاڑیوں کے لیے کوئی سہولت نہیں ہے، ان کے گھوڑوں کے لیے اصطبل کا انتظام نہیں ہے، اس کے باوجود کھیل جاری رہتا ہے، چترال اور گلگت بلتستان میں پولو کی انفرادیت اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ کھیل سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہزاروں تماشائی گراؤنڈ کے چاروں اطراف میں امڈ آتے ہیں، تالیوں اور سیٹیوں سے کھلاڑیوں کو داد دیتے ہیں، کسی اور جگہ پولو گراؤنڈ میں تماشائی آنے کا تصور بھی نہیں ہے۔ ملکی اور غیر ملکی سیاح کھیل کے ساتھ ساتھ تماشائیوں کے جوش و خروش سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔اس طرح یہ کھیل سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
