The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 11 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

​داد بیداد -​ نوبیل انعام – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

Chitral Times

​داد بیداد -​ نوبیل انعام – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

​داد بیداد -​ نوبیل انعام – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

​داد بیداد -​ نوبیل انعام – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

.
​یہ بات خوش آئند ہے کہ امن کا نوبیل انعام برائے سال 2026ء جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی قانون دان ناوی پیلے (Navi Pillay) کو دیا گیا۔ ناروے کی نوبیل کمیٹی نے ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں انسانی حقوق اور عالمی امن کے لیے ان کے پورے کردار کا جائزہ لے کر 40 بڑی کامیابیوں کو یکجا کیا جن میں تازہ ترین کارنامہ اقوام متحدہ کے ایک کمیشن کی صدارت کرتے ہوئے اسرائیل کو غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا ذمہ دار ٹھہرانا اور اس کے خلاف پابندیاں لگانے کی سفارش کرنا تھا۔

نوبیل کمیٹی کے فیصلے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 27 اسلامی ممالک سمیت 61 محکوم ممالک کی طرف سے نوبیل امن انعام کے لیے اپنا نام تجویز کروایا تھا جسے مسترد کر دیا گیا اور انعام جس شخصیت کو ملا اس کے کارناموں میں اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ امن دشمن سرگرمیوں کو بے نقاب کرنے کا تازہ ترین کارنامہ بھی شامل ہے گویا ناروے کی نوبیل کمیٹی کے فیصلے نے ​ٹرمپ کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے اور اس صدمے کا اظہار انہوں نے وائٹ ہاؤس میں ناروے کو دھمکی دیکر کیا ہے۔ دوسری طرف دنیا بھر کے مفکرین نے نوبیل کمیٹی کے اقدام کا خیر مقدم کیا ہے کمیٹی نے ابھی معاشیات کے شعبے میں 2026 کے انعام کا اعلان نہیں کیا، طب یعنی میڈیسن کے شعبے میں امریکی ڈاکٹر کارل ڈائسروتھ (Karl Deisseroth)، جرمنی کے ڈاکٹر پیٹر ہیگمین (Peter Hegemann) اور جرمنی ہی کے ڈاکٹر جارج ناگل (George Nagel) کو مشترکہ طور پر انعام کا مستحق قرار دیا گیا، فزکس کے شعبے میں 2026 کا نوبیل انعام امریکی یونیورسٹی وسکانسن کے پروفیسر فرانسس ہلیزن (Francis Halzen) کو ملا، جو پیدائشی طور پر بیلجیم کے باشندے ہیں۔

کیمسٹری کا نوبیل انعام برائے سال 2026 فرانس کے ہینری بی کاگن (Henry B. Kagan) اور جاپان کے کین سو سوائے (Cansu Soai) کو مشترکہ طور پر دیا گیا۔ ادب کا نوبیل انعام اس سال کینیڈا کی شاعرہ اور مصنفہ اینے کارسنAnne Carson ​کو دیا گیا۔ کمیٹی نے اس بات کو سراہا کہ کارسن کی تخلیقات اور تراجم نے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کیے اور ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ میڈیسن، فزکس اور کیمسٹری میں جن نامور سائنسدانوں کو نوبیل انعام ملا انہوں نے بھی اپنے شعبوں میں تحقیق کے نئے گوشے متعارف کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

سویڈن کے نامور سائنسدان الفریڈ نوبیل (96-1833) نے ڈائنامائٹ کے ایجاد کے بعد افسوس کا اظہار کیا کہ یہ ایجاد دنیا میں بموں کی تیاری اور تباہی کے کام آئے گا اس کے ازالے کرنے کے لیے انہوں نے 1895 میں وصیت کی تھی کہ میری جائداد کو دنیا میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کیا جائے اس وقف کی آمدنی سے ہر سال فزکس،معاشیات، کیمسٹری، میڈیسن اور ادب کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے شخصیات کو میرے نام سے نوبیل انعام دیا جائے۔

ان انعامات کے لیے دنیا بھر سے تجاویز بھیجی جاتی ہیں سویڈن کی کمیٹی ان تجاویز کا جائزہ لے کر ٹھوس دلائل اور شواہد کی بنیاد پر انعامات کا اعلان کرتی ہے الفریڈنوبل کی وصیت کرلے مطابق 1969 میں اس میں ایک اور اضافے کے تحت الفریڈ نوبیل کی وصیت کے مطابق امن کا نوبیل انعام (Nobel Peace Prize) ​ناروے کی نوبیل کمیٹی کو سونپ دیا گیا۔ یہ دونوں ممالک ایک ہی بادشاہت کی عملداری میں آتے تھے۔

ہر شعبے میں نوبیل انعام کی رقم 2026ء میں 11 ملین سویڈش کرونا رکھی گئی ہے جو پاکستانی کرنسی میں 33 کروڑ روپے کے برابر ہے۔
اگر دو یا تین شخصیات کو انعام میں شریک کیا جائے تو یہ رقم ان میں برابر تقسیم کی جاتی ہے۔ نوبیل انعامات کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی ملک کے حکمران نے اپنے لیے نوبیل انعام کی بھیک مانگی ہو۔

موجودہ سال کے آغاز ہی سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبیل انعام برائے امن کے لیے کسی بنیاد یا استحقاق کے بغیر اپنا نام پیش کیا اور ناروے کی نوبیل کمیٹی پر دباؤ ڈالنا شروع کیا لیکن کمیٹی نے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے اور امریکی صدر کے آگے جھکنے سے انکار کرکے دنیا میں اپنی عزت اور ساکھ کا دفاع کیا

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں۔
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا۔