دادبیداد - ماں بولی پر تحقیق – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
.
ماں بولی کو انگریزوں نے علمی زبان میں “فرسٹ لینگویج” کا نام دیا، لغت میں اس کو مدر ٹنگ کہتے ہیں اردو میں مادری زبان پشتو میں مورنی ژبہ اور ہندکو میں ماں بولی کہا جاتا ہے یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ بلتستان کی زبان بلتی میں اس کو “پدری زبان” کا نام دیا جاتا ہے چترال کی زبان کھوار میں اس کو “باپ دادا” کی زبان کہتے ہیں برصغیر پاک و ہند میں بولی جانے والی مادری زبانوں پر پہلی تحقیق یہاں کے کسی دانشور نے نہیں کی آئرلینڈ کے باشندے جارج ابراہم گریرسن (G.A Grierson) جب برطانیہ کے سول سروس میں خدمات انجام دینے کے لئے برصغیر آئے بنگال اور بہار میں اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے تعینات رہے انہوں نے دیکھا کہ اس خطے میں کتنی زبانیں اور زبانوں کے کتنے لہجے موجود ہیں جو لسانیات اور بشریات کے مطالعے میں اہمیت رکھتی ہیں، یہ دیکھ کر انہوں نے بنگال اور بہار میں بولی جانے والی زبانوں پر مضامین کا سلسلہ شروع کیا یہ مضامین رائل جیوگرافیکل سوسائٹی اور دیگر رسائل و جرائد میں قسط وار شائع ہوئے ماہرین اور محققین نے اس سلسلے کو بے حد سراہا جب انگلستان جاتے تو ان کو مختلف یونیورسٹیوں، اسکولوں اور سماجی علمی سوسائٹیوں کے ذمہ دار لوگ لیکچر کے لئے بلاتے۔
اس طرح ان کی دلچسپیاں بڑھتی گئیں 1886ء میں جب ان کی عمر صرف 35 سال تھی آسٹریا کے شہر ویانا میں لسانیات کی عالمی کانگریس میں ان کو دعوت دی گئی حکومت برطانیہ کی اجازت سے انہوں نے کانگریس میں مقالہ پڑھا، قرار داد کمیٹی میں ان کی تجویز پر یہ قرار دیا گیا کہ برصغیر ہندوستان میں بولی جانے والی مادری زبانوں اور بولیوں پر باقاعدہ تحقیق کے لئے ایک جامع سروے کرایا جائے اس سروے پر اٹھنے والے اخراجات برطانیہ کی حکومت اور لسانیات کی عالمی کانگریس برداشت کرے گی اگلے سال 1887ء میں لنگوسٹک سروے آف انڈیا پر ماہرین کی ایک ٹیم نے جی اے گریرسن کی سربراہی میں کام شروع کیا سروے کے دوران لسانیاتی تنوع کو جغرافیہ اور تاریخ کی روشنی میں تقسیم کیا گیا زبانوں اور لہجوں کی درجہ بندی کی گئی، یوں برصغیر پاک و ہند کی 364 زبانوں اور 544 لہجوں کا لسانیاتی جائزہ تیار ہوا یہ 19 جلدوں میں مرتب ہوئی 1928ء میں کلکتہ سے اس کو شائع کیا گیا جی اے گریرسن اس کا ایڈیٹر اور مصنف ہے۔
اس جامع کتاب کی جلد نمبر8 میں ہند آریائی زبانوں کے شمال مغربی گروہ کا ذکر ہے ڈاکٹر فہمیدہ حسین نے اس کا اردو ترجمہ کیا ہے اور گندھارا ہندکو اکیڈمی نے شائع کیا ہے اس جلد میں سندھی اور لہندا زبانوں کا تذکرہ ہے گویا گندھارا سے موہنجو دڑو تک بولی جانے والی انڈو آرین زبانوں کا احاطہ کرتی ہے ان زبانوں میں ہندکو بھی شامل ہے۔ اس کے حصہ دوم میں داری، بشاچی اور کشمیری زبانوں کا تذکرہ ہے شینا، کھوار اور کا لاشہ اس میں شامل ہیں جبکہ جلد 10 میں ایرانی گروہ کی زبانوں کا جائزہ ہے پشتو اس جلد میں ہے۔ ہنزہ اور یاسین کی زبان بروشسکی کو ہند آریائی، ہند ایرانی، ہند یورپی، تبتی، سلاوی اور سامی زبانوں کے تمام خاندانوں سے الگ منفرد خاندان کی زبان قرار دیا گیا ہے۔
414 صفحات کی اس جلد میں ہندکو زبان کا لسانیاتی جائزہ خاصی تفصیل سے لیا گیا ہے ملتان، میانوالی، کوہاٹ، ہزارہ اور پشاور میں بولی جانے والی ہندکو کے الگ الگ لہجوں کا ذکر ذخیرہ الفاظ، مصدر، مشتقات اور گرامر کی امتیازی خصوصیات کا احاطہ کیا گیا ہے اس پہلو سے بحث کی گئی ہے کہ ہندکو نے سرائیکی، پنجابی، سندھی اور پشتو سے کتنا اثر قبول کیا اور ان زبانوں پر کتنا اثر ڈالا، دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور کی ہندکو بھی اس قبیل میں آتی ہے اور اپنی الگ شناخت رکھتی ہے، اس جامع سروے میں 1911ء کی مردم شماری کا حوالہ دیکر ہندکو بولنے والی آبادی کے اعداد و شمار دیئے گئے ہیں ان اعداد و شمار کی رو سے ہندکو زبان کو شمالی مغربی ہند آریائی خاندان کی بڑی زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔ زبان کا اصل نمونہ دکھانے کے لئے کہانیاں، مناجات، غزل یا نظمیں نقل کی گئی ہیں۔
اس طرح ہر زبان پر جامع اور مفصل رپورٹ تیار کی گئی ہے، کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے سو سال پہلے شائع ہونے والی انگریزی کتاب پر ہونے والی محنت کے حوالے سے سروے ٹیم کے اراکین اور ایڈیٹر جی اے گریرسن کی محنت اور کاوش کو داد دینی پڑتی ہے اردو ترجمہ کے ابتدائیہ میں گندھارا ہندکو اکیڈمی کے روح رواں ضیاء الدین صاحب نے بجا طور پر جی اے گریرسن اور ڈاکٹر فہمیدہ حسین کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
