The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 19 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

​داد بیداد – ​باتوں کی خوشبو – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی 

Chitral Times

​داد بیداد – ​باتوں کی خوشبو – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی 

​داد بیداد – ​باتوں کی خوشبو – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی 

​داد بیداد – ​باتوں کی خوشبو – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

.
​دارالعلوم اسلامیہ شاہی مسجد چترال میں حفاظ کی دستار بندی کے سلسلے میں تقریبِ سعید منعقد ہوئی۔ دارالعلوم کے صدر مدرس مولانا خلیق الزمان، سابق رکن اسمبلی امیر جمعیت علماء اسلام لوئر چترال مولانا عبدالرحمن اور شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور مولانا فیاض الدین نے خطاب کیا۔ دارالعلوم اسلامیہ کی بنیاد (1941) میں رکھی گئی۔ حفظ و قرأت اور تجوید کی کلاسیں 1989ء میں پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز قاری شبیر احمد نقشبندی رحمتہ اللہ علیہ کی زیر نگرانی 1989ء میں شروع ہوئیں۔ استاذ القرّاء مولانا عبدالرحمن قریشی تقریب کے صدر نشین تھے۔ اس موقع پر مولانا فیاض الدین نے دھیمے لہجے اور سادہ اسلوب میں جو بیان کیا وہ “از دل خیزد بر دل ریزد” کی عمدہ مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے موقع کی مناسبت سے سورہ طٰہٰ کی آیات 124 سے 126 تک کی تلاوت سے بات کا آغاز کیا۔ آدم علیہ السلام کو زمین پر خلافت دینے کے بعد حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری اولاد میں جو کوئی میرے ذکر سے روگردانی کرے گا اس کے لیے زمین کو تنگ کر دیا جائے گا اور قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھایا جائے گا، وہ کہے گا بار الہاٰ میں دنیا میں دیکھنے والا تھا آج مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا گیا، حق تعالیٰ کی طرف سے جواب آئے گا میری آیتیں تم کو دی گئی تھیں تم نے ان کو بھلا دیا آج ہمارے دربار میں تم بھلا دیئے گئے۔

انہوں نے حفاظِ کرام کو مبارک دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اور آخرت کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت تمہیں ملی ہے۔ مخبرِ صادق نبی کریم صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآنِ مجید حفظ کرنے کی فضیلت کے باب میں ارشاد فرمایا ہے کہ قیامت کے روز حافظِ قرآن کے ماں باپ کو تاج پہنایا جائے گا اور 10 گنہگاروں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ مولانا نے اپنے مخصوص انداز میں سوال کیا تاج کس کے سر پر رکھا جاتا ہے؟ پھر خود جواب دیا کہ بادشاہ کے سر پر رکھا جاتا ہے؛ حفاظ کے ماں باپ کو قیامت کے روز بادشاہ اور ملکہ کا پروٹوکول دیا جا رہا ہے اور یہ معمولی سعادت نہیں ہے لیکن یاد رہے یہ پروٹوکول یہ سعادت غیر مشروط نہیں، حدیثِ شریف کے الفاظ یہ ہیں جس نے قرآن سیکھا، اس پر عمل کیا، اس کے حلال کو حلال جانا اور اس کے حرام کو حرام جانا وہی قیامت کے دن اجر و ثواب اور پروٹوکول کا حقدار ہوگا۔ علماء نے اس شرط کے چار درجے بیان کیے؛ پہلا درجہ قرآن پڑھنا، دوسرا درجہ اس کے معنی جاننا، تیسرا درجہ اس پر عمل کرنا اور چوتھا درجہ قرآن کے نظامِ حیات کو ممکل قانون، دستور العمل اور آئین کی صورت میں ملک کے اندر نافذ کرنے کی جدوجہد کرنا۔

شیخ الہند مولانا حسین احمد مدنی (رح) کو 5 سال کی قیدِ تنہائی کے بعد رہا کیا گیا تو انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں دو باتوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ قیدِ تنہائی میں مجھ پر دو باتیں منکشف ہوئیں؛ پہلی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ پستی کی پہلی وجہ قرآنی تعلیمات سے دوری اور بے اعتنائی ہے، دوسری وجہ آپس میں انتشار، عدمِ اتفاق اور فرقہ واریت ہے۔ انہوں نے برصغیر میں قرآنی تعلیمات کی ترویج کے حوالے سے علمائے کرام کی مساعیِ جمیلہ کا ذکر کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ دہلوی متوفی 1762ء کے ترجمہ قرآن کا خاص طور پر نام لیا۔ برصغیر میں پہلا ترجمہ تھا جس کے جواز اور عدمِ جواز پر طویل بحث ہوئی لیکن یہ ترجمہ قرآن فہمی کا ذریعہ بنا،

شیخ الہند نے خود قرآن کریم کے درس کا آغاز کیا جس نے عام مسلمانوں کو قرآن سمجھانے میں اہم کردار ادا کیا، آج بھی مساجد، مدارس اور مراکز میں درسِ قرآن کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عصری علوم بھی قرآنِ علوم کی طرح وقت کی ضرورت ہیں ایک مسلمان ڈاکٹر یا انجینئر یا کسی اور شعبے کا ماہر اپنے شعبے میں اسلامی تمدن کی بہتر خدمت کر سکتا ہے اور اپنے شعبے کو غیر مسلم ماہرین کی اجارہ داری سے پاک کر سکتا ہے۔ اس سے قبل مولانا فیاض الدین مدظلہ نے ٹاؤن ہال چترال میں اپنے نانا مولانا محمد مستجاب نقشبندی (رح) کی سوانح حیات “انوار مستجاب” مصنفہ پروفیسر اسرار الدین کے رسمِ اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی معاشرے میں ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ روحانی اورباطنی علوم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

​انہوں نے کہا کہ عام لوگ تصوف کو ترکِ دنیا کا نام دیتے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تصوف اللہ پاک کی عبادت، رسولِ اکرم صلى اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور مخلوق کی بے لوث خدمت کے ارکانِ ثلاثہ کا مجموعہ ہے جس پر خانقاہی نظام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ہمیں جاہل گدی نشینوں کے طرزِ عمل کو نمونہ سمجھنے کی جگہ عظیم صوفیاء کی تعلیمات کو مشعلِ راہ بنانا چاہیے۔

​مولانا فیاض الدین کی باتوں میں اتنی مٹھاس ہے کہ ہر بات سامعین کے دلوں میں اترتی ہیں اور ان کا اسلوب ایسا دلچسپ ہے کہ سامعین کو اپنی گفتگو میں شامل رکھ کر آگے بڑھتے ہیں۔ احمد فراز کا شعر ان کے طرزِ خطاب کا بھرپور احاطہ کرتا ہے:
​سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

chitraltimes dastar bandi shahi masjid chitral darul uloom 3