The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 26 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

​داد بیداد ۔ ​دھرتی ماں کے لیے۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

Chitral Times

​داد بیداد ۔ ​دھرتی ماں کے لیے۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

​داد بیداد ۔ ​دھرتی ماں کے لیے۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

​داد بیداد ۔ ​دھرتی ماں کے لیے۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

۔

​زمین کو دھرتی ماں کہا جاتا ہے، ماحول کے بنیادی عناصر مٹی، پانی اور ہوا کا زمین سے گہرا تعلق ہے جہاں بھی ماحول کے تحفظ اور پائیدار ترقی کا ذکر آتا ہے، وہاں دھرتی ماں ہی یاد آتی ہے۔

یونیورسٹی آف چترال میں پائیدار ترقی اور ابھرنے والے معاشرے کی خصوصیات اور پاکستان میں دونوں کے لیے جامع منصوبہ بندی کے موضوع پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی تو ایسا محسوس ہوا کہ دانشوروں کو دھرتی ماں کی یاد ستا رہی ہے اور سب اس فکر میں ہیں کہ عالمی حدت اور موسمیاتی تغیر کے موجودہ بحرانی دور میں دھرتی ماں کو کس طرح تحفظ دیکر پہلے سے بہتر حالت میں آنے والی نسل کو منتقل کیا جائے۔

کانفرنس کا عنوان پائیدار ترقی اور ابھرتا ہوا معاشرہ تھا، یہ عنوان دو الفاظ Sustainable اور Resilient کے گرد گھومتا تھا۔ مہمانِ خصوص مظفرآباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر جمال خٹک نے دونوں الفاظ کو یکجا کر کے بصیرت افروز خطاب کیا۔ انہوں ​نے یاد دلایا کہ ترقی کے نام پر ماحول کے عناصر مٹی، پانی اور ہوا کو آلودہ نہ کیا جائے تو یہ پائیدار ترقی کہلائے گی۔ Sustainability کے فلسفے میں ترقی کہلائیگی Resilient کیا ہے؟ یہ اقبال کے فلسفہٴ “خودی”، رومی کے فلسفہٴ انسانِ کامل اور خوشحال خان خٹک کے فلسفہٴ حریت کی تشریح ہے، بندہٴ گرنا قبول نہ کرے گرنے کے بعد ، گرنے کے بعد ابھرنا اور گرتے ابھرتے اپنی شناخت اور پہچان کو برقرار رکھنا، اپنی مٹی سے جڑا رہنا اور دھرتی ماں سے چمٹا رہنا توresilience ہے۔

مجھے کرک پر فخر ہے، تمھیں چترال پر فخر ہے، ہم دونوں Resilient ہیں، ہم دونوں خود کو گرنے نہیں دیں گے، ہم دونوں ابھرتے رہیں گے۔
آج کے بحرانی دور میں پائیدار ترقی اور ابھرنے کی صلاحیت یا استعداد پر بین الاقوامی کانفرنس منعقد کر کے چترال یونیورسٹی نے بہت بڑا قدم اٹھایا ہے۔

ڈاکٹر ناصر جمال خٹک کے خطاب کے دوران بار بار آڈیٹوریم تالیوں سے گونجتا رہا، گویا انہوں نے لوگوں کے اندر ​نئی روح پھونک دی اور لوگوں کو اپنے جذبے اور ولولےسے سرشار کیا۔

تین روزہ کانفرنس کی مختلف نشستوں میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے 7 محققین نے مقالے پیش کیے، ملک بھر سے 12 دانشوروں نے ریسرچ پیپر پڑھے، جبکہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ نے 51 مقالات پیش کیے۔
اس طرح 70 مقالوں میں سب سے زیادہ شرکت یونیورسٹی کی تھی جو بےحد خوش آئند عمل ہے۔

کانفرنس کے موضوع کو 10 مزید ذیلی موضوعات میں تقسیم کیا گیا تھا جو پائیدار ترقی اور ابھرتے ہوئے معاشرے کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں، مثلاً “پائیدار ترقی اور موسمیاتی تغیر”، “پائیدار ترقی کے لیے تعلیم کے تقاضے”، “سیاحت اور پائیدار ترقی”، “موسمیاتی تغیر اور لوک ورثہ”، “موسمیاتی تغیر اور بنیادی ڈھانچہ”، “موسمیاتی تغیر اور حیاتیاتی تنوع”، “پائیدار ترقی اور انسانی وسائل”، “پائیدار ترقی اور کاروبار کا فروغ” وغیرہ۔

اسلامک فائنانس اور پائیدار ترقی پر ڈاکٹر ارشاد علی یفتانی نے مقالہ پیش کیا، سمرینہ اور محسن حیات نے لوک گیت غور و پر مقالہ پڑھا۔
​ارشاد علی یفتانی کا تحقیقی مقالہ بہت دلچسپ تھا۔ اسی طرح علی اکبر قاضی نے یوگینڈا سے آن لائن مقالہ پیش کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے گلوبل اور لوکل تقاضوں کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے یہ نکتہ اٹھایا کہ گلوبل تصور کہتا ہے کہ امریکہ اور پاکستان ایک ہی دائرے میں واقع ہیں دونوں کے درمیان ہمسایوں جیسے تعلقات ہونے چاہئیں، لوکل تصور یہ بنتا ہے کہ چترال کے لوگوں کو تاجکستان اور افغانستان جیسے قریبی پڑوسیوں کے ساتھ تجارت کی آزادی نہیں، بروغل، دوراہ اور اراندو کے تینوں دروں سے آمد و رفت کی اجازت نہیں، یہ وقت اور حالات کا جبر ہے۔

آسٹریلیا سے آن لائن مقالہ پیش کرتی ہوئی چترال کی بیٹی ڈاکٹر ممتاز بیگم نے معاشرے کے ابھرنے کی صلاحیت اور پائیدار ترقی میں ابتدائی بچپنے کی تعلیم (Early Childhood Education & Development) کے بنیادی
​کردار کو مثالوں اور مستند حوالوں کی مدد سے اجاگر کیا۔

ان کی تحقیق کا لبِ لباب یہ ہے کہ ڈھائی سے تین سال تک کی عمر میں بچے یا بچی کا ذہن سیکھنے، سوال کرنے، جواب ڈھونڈنے اور نئے تصورات پر کام کرنے کی بہترین پوزیشن میں ہوتا ہے۔ اس عمر میں والدین اور اساتذہ کی توجہ مل جائے تو نہ نہالوں کے لیے بامقصد تعلیم کا حصول آسان ہوگا اور یہ تعلیم معاشرے کو سنبھالنے کے قابل بنائے گی۔

ترقی یافتہ ممالک نے ابتدائی بچپنے کی تعلیم (ECD) کو قومی دھارے میں شامل کیا ہے، پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک اور چترال جیسے پہاڑی علاقے میں اس ہدف (Target) کو حاصل کرنے کے لیے ماں، باپ اور اساتذہ کے رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے، اس میں وقت لگے گا مگر یہ ہو کر رہے گا۔

نازش امیر نے چترال کی لوک کہانیوں کے تناظر میں ماحولیاتی تحفظ، خواتین کے کردار اور ابھرتے معاشرے کے باہمی ربط و تعلق پر دلچسپ مقالہ پیش کیا۔
ڈاکٹر حفیظ اللہ کے ریسرچ پیپر کا عنوان تھا “لوٹکوہ کے جنگلی پودوں میں حیات بخش اور غذائیت سے بھرپور جڑی بوٹیاں”، ڈاکٹر شاہ فہد علی خان ​کا تحقیقی کام دودھ پلانے والے جانوروں کے تحفظ پر تھا۔

ڈاکٹر ثناء اللہ نے ابتدائی اور ثانوئی تعلیم میں آن لائن معاونات کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر تحقیقی پیپر پیش کیا۔
نصیر اللہ ناصر کا مقالہ بھی دلچسپ تھا۔ انہوں نے کنڑ اور چترال کی سرحد پر واقع گاؤں اراندو کے تناظر میں جنگ زدہ سرحدات میں آباد کمیونٹی کے مسائل پر گفتگو کی۔

کانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین ڈاکٹر شاہ فہد علی خان، ڈاکٹر حفیظ اللہ، نازش امیر، کوثر،فتح الباری اور ان کی ٹیم کا کردار بہت نمایاں تھا۔
آخری سیشن میں جامعہ چترال کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حاضر اللہ نے شرکاء میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے اور گروپ فوٹو گرافی کے ساتھ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔

chitraltimes chitral university intl confrence