The Voice of Chitral since 2004
Monday, 27 July 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

​داد بیداد – امریکی ورلڈ آرڈر کا زوال – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

Chitral Times

​داد بیداد – امریکی ورلڈ آرڈر کا زوال – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

​داد بیداد – امریکی ورلڈ آرڈر کا زوال – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

​داد بیداد – امریکی ورلڈ آرڈر کا زوال – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

.

​غزہ میں فلسطینیوں کے قتلِ عام اور ایران کے خلاف امریکی جارحیت کے بعد دنیا بھر کے مبصرین اور رائے عامہ کے جائزے امریکی ورلڈ آرڈر کے مستقبل پر سوالات اٹھا رہے ہیں اور یہ بڑے سنجیدہ سوالات ہیں

دوسالوں میں دنیا کے مہذب اقوام نے ریاست ہائیمتحدہ امریکہ سے اپنے راستے جدا کیے، نیٹو (NATO) کا شیرازہ بکھرنے والا ہے اس کی جگہ جو نیااتحاد بنے گااس میں امریکی حکومت کو جگہ نہیں ملی گی، اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیموں اور سلامتی کونسل کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ 81 سالوں کی تاریخ میں امریکہ نے عالمی ادارے کا نام اور چارٹر غلط طور پر آزاد قوموں کو غلام بنانے کے لیے استعمال کیا۔ سلامتی کونسل میں جمہوری اندازِ فکر کی جگہ آمرانہ اندازِ فکر کو جگہ دی، تاریخ کے ہر موڑ پر ویٹو (Veto) کا غلط استعمال کیا۔
دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالی میں امریکہ آگے آگے رہا، اس احساس نے اقوامِ متحدہ کے اندر امریکی حکومت کی ساکھ کو بری طرح بے نقاب کیا ہے۔
​​ایران کے خلاف جنگ کے آغاز پر امریکہ نے یورپی ممالک سے مدد اور تعاون کی اپیل کی تو فرانس، جرمنی، اٹلی، سپین اور برطانیہ نے امریکہ کی مدد کرنے سے صاف انکار کیا۔ مجبوری کی حالت میں چند عرب ممالک امریکہ کے کیمپ میں رہ گئے، ان کی مثال کلہاڑی میں لکڑی کے دستے کی ہے، مقولہ ہے کہ درخت نے کلہاڑی سے شکایت کی،  تم بلاوجہ مجھے کیوں کاٹ رہے ہو؟ کلہاڑی نے کہا:
میرا دستہ تمہیں کاٹ رہا ہے، جو لکڑی کا بنا ہوا ہے، تیرکھا کیدیکھا جو کمین گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی، امریکہ کو سب سے زیادہ گلہ اٹلی اور سپین کی حکومتوں سے ہے، اخبار بین حلقوں سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ اٹلی اور سپین نے غزہ کی جنگ میں بھی امریکہ کا ساتھ نہیں دیا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی طرح اٹلی کو بھی اپنی تاریخ پر فخر ہے،

سپین کی بادشاہت وہی بادشاہت ہے جو پندرھویں صدی عیسوی میں نئے سمندری راستوں کی تلاش میں سبقت لے چکی تھی، برِاعظم امریکہ کو دریافت کرنے والا ملاح کرسٹوفر کولمبس اٹلی کے شہر جینوا (Genoa) میں پیدا ہوا تھا
1492ء میں وہ نئی زمینوں کی تلاش میں سمندری سفر پر روانہ ہوا تو.​سپین کے شاہی خاندان سے باقاعدہ راہداری اور سند لے کر روانہ ہوا تھا، اگرچہ اس کو انڈیا نامی جزیرے کی تلاش تھی تا ہم وہ گھومتے گھومتے برِاعظم امریکہ پہنچ گیا اور اس برِاعظم کے لوگوں کو ابتدا میں ریڈ انڈینز (Red Indians) کا نام دیا۔ سپین کو بجا طور پر اپنی درخشان تاریخ پر فخر ہے اور اس بات کا بھی پورا احساس ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی کوئی قابلِ فخر تاریخ نہیں، یورپ سے بھاگے ہوئے غلاموں اور قیدیوں نے آپس کی طویل خانہ جنگی کے بعد ایک صلح نامہ ترتیب دیا جس کو امریکی ریاست کا آئین کہا جاتا ہے اور یہ ڈھائی سو سال پہلے کی بات ہے، اردو محاورے میں اس کو “جمعہ جمعہ آٹھ دن” کہا جا سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکی قوم کی کوئی زبان نہیں، انہوں نے برطانیہ سے انگریزی زبان مستعار لی ہے اور برطانوی دانشوروں کے ہاں امریکہ کی انگریزی کو معتبر اور مستند نہیں مانا جاتا۔

​خود امریکہ کے اندر احساسِ کمتری (Inferiority Complex) موجود ہے، یہی احساس امریکی حکومت کو مختلف خطوں میں مہذب اقوام کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور کرتا ہے، دوسری جنگِ عظیم سے اب تک 81 سالوں میں امریکی حکومت نے دنیا کے 81 ملکوں میں 750 فوجی اڈے قائم کیے، یہاں تک کہ جاپان میں بھی امریکہ فوجی اڈہ موجود ہے۔ 81 سالوں میں امریکی حکومت نے دنیا میں 53 قوموں پر حملے کیے اور 53 بڑی جنگیں لڑیں، کوریا کی جنگ سے لے کر ایران کی جنگ تک امریکی حکومت نے 21 ایشیائی ملکوں پر جدید ہتھیاروں سے بمباری کی اور 30 لاکھ بے گناہ انسانوں کا قتل کیا، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مہذب اقوام امریکہ کی حکومت کو غیر مہذب سمجھتے ہیں، دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ پرنظررکھنے والے کہتے ہیں کہ چنگیز خان اور ہٹلر کے بعد انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں امریکی حکومت نے کیں، یہی وجہ ہے کہ سپین، اٹلی اور دیگر مہذب اقوام نے غزہ اور ایران کی

​جنگوں میں امریکی ریاست کا ساتھ دینے سے صاف انکار کیا۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی حکومت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں 43% کمی آرہی ہے، رائے عامہ کے جائزوں میں بتایا جاتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ تاریخ میں اتنا غیر مقبول کبھی نہیں تھا جتنا دھچکا اس کو غزہ میں فلسطینیوں کے قتلِ عام اور ایران پر بلاوجہ حملوں کے بعد لگا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکی ورلڈ آرڈر اپنے زوال سے زیادہ دور نہیں۔