داد بیداد – اخونزادہ مُلا – ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی
لا سپور سے شندور کی طرف جا تے وقت درہ شندور کے عین دہا نے پر اخونزادہ ملا کا ایسا ہی مزار ہے جیسا کہ کسی گمنا م ولی کا مل کا مزار درہ لواری کے دہا نے پر چترال سکا وٹس کی چو کی کے صحن میں واقع تھا لواری سرنگ کی تعمیر کے دوران نہ وہ چو کی رہی نہ وہ مزار ہی رہا، تا ہم درہ شندور کے دہا نے پر اخونزادہ ملا کا مزار اب بھی محفوظ ہے نیا راستہ مشرقی سمت میں پہا ڑی ڈھلوان کی بلندی پر تعمیر ہوئی اور قدیمی سڑک کے کنا رے پر واقع زیا رت گاہ تعمیراتی کمپنی کی بے جا ن اور بے رحم مشینری کی دست برد سے با لکل محفوظ رہی اخونزادہ ملا کا اصل نا م کسی کو معلوم نہیں ان کے ہم عصر لو گوں کے نا موں سے اندازہ ہوتا ہے کہ 1895ء میں برطانوی ہند کی فوج شندور کے راستے گلگت سے چترال آئی تو وہ اُس وقت حیات تھے،1914میں اعلیحضرت شجا ع الملک مہتر چترال نے شندور کا دورہ کیا تو انہیں خلعت سے نوازا گیا جس میں پگڑی بطور خا ص شامل کی گئی
افغان جنگ 1919میں ختم ہوئی تو اگلے سال بدخشان کے پیر خواجہ ابراہیم نے چترال سے گلگت جا تے ہوئے لا سپور کی وادی میں قیا م کیا تو اخونزادہ ملا کو شام کے کھا نے پر بلا یا، دونوں نے شریعت اور طریقت کے مسا ئل پر لمبی گفتگو کی اخونزادہ نے پیر صاحب سے درخواست کی کہ میرے گاوں کے اوپر پہاڑ ہے جس کے پتھر لڑھکتے ہوئے گاوں کو نقصان پہنچا تے ہیں پیر صاحب نے کہا صبح میں وہاں سے گذر نے لگوں تو پہاڑ مجھے دکھا ؤ، صبح پہاڑ ان کو دکھا یا گیا تو ہا تھ کے اشارے سے پہا ڑ کو منع کیا اور کہا اب پتھر نہیں آئینگے، چند لو گوں نے خوا جہ پیر کی رکا ب پکڑ کر درخواست کی کہ ہمارے مویشیوں پر مر ض آیا ہے،
خواجہ نے کہا اخونزادہ ملا کو میں نے اذن دیدیا ہے ان کی دم دعا سے مویشیوں کا مرض جا تا رہیگا مقا می لو گوں کا مشا ہدہ ہے کہ اس پہاڑ سے 100سالوں میں ایک پتھر بھی نیچے نہیں گرا اور اخونزادہ ملا کی وفات کے بعد ان کے مزار کی مٹی سے مو یشیوں کے ہر مر ض کاعلا ج ہوتا ہے سور لا سپور کے علما ء میں سے مولوی علی زار اخونزادہ ملا کا شا گرد تھا، دیگر مولوی صاحبان نے گلو پر گلگت اور نمک منڈی پشار سے تعلیم حا صل کی تھی زیارت خان مولوی گلو پر گئے جبکہ امیر خان مولوی نے نمک منڈی سے علم حا صل کیا سور لا سپور میں اخونزادہ ملا کا کوئی شا گرد زندہ نہیں ان کی کوئی اولا د نہیں،ملا کا لقب بدخشان میں بڑے عا لم کو ملتا تھا یہ لقب لیکربدخشان کے گاوں زیباک سے چترال آئے تھے
رائیگازموڑ کہو میں مختصر قیام کے بعد سور لا سپور کا سفر کیا جہاں پوری عمر گزاری چترال کے اندر ملا کے لئے دانشمند یا داشمن کے القاب استعمال ہوتے ہیں اس لئے اخونزادہ داشمن کہلا ئے ان کا مزار اگرچہ مر جع خلا ئق ہے تا ہم بے کسی کی تصویر ہے
بر مزار ما غر یبان نہ چراغے نہ گلے
نہ پر پروانہ سوز دنہ صدائے بلبلے

