کرپشن، این ایف سی کا بحران اور خیبر پختونخوا کی معاشی داستان – تحریر: قریش خٹک
.
سال 2013 میں جب پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبر پختونخوا میں اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی، تو ان کا سیاسی بیانیہ ‘کرپشن مٹاؤ، ملک بچاؤ’ کے پرکشش اور بلند و بانگ نعرے پر استوار تھا۔ احتساب، ادارہ جاتی اصلاحات اور شفافیت کے ان دعووں نے صوبے کے عوام میں یہ امید پیدا کی تھی کہ شاید اب خیبر پختونخوا بدعنوانی سے پاک، مالی طور پر مستحکم اور بہتر طرزِ حکمرانی (گڈ گورننس) کے ایک مثالی ماڈل کے طور پر ابھرے گا۔ تاہم، تیرہ سالہ طویل دورِ اقتدار اور مسلسل تین حکومتوں کے بعد جب ہم معروضی حقائق کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ امید دم توڑتی نظر آتی ہے۔ آج خیبر پختونخوا کی معیشت نمو کے فرضی دعووں اور سنگین مالیاتی حقائق کے درمیان ایک ایسے بحران کا شکار ہے جہاں سیاسی بیانیہ زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا۔
صوبے میں گڈ گورننس کا تصور اب ایک کھوکھلے سیاسی نعرے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ اگرچہ ہیلتھ کارڈ اور پولیس اصلاحات جیسے منصوبوں کو بین الاقوامی سطح کے انتظامی ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن ادارہ جاتی کمزوری، عوامی خدمات کی ابتر صورتحال اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے اس ملمع کاری اور جھوٹی نمائش کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ اس انتظامی ناکامی کی سب سے مستند گواہی خود پی ٹی آئی کے رکنِ صوبائی اسمبلی عبدالکریم تورڈھیر نے اسمبلی کے فلور پر دی، جہاں انہوں نے اپنی ہی حکومت کے خلاف ایک ایسی چارج شیٹ پیش کی جو محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ حکومتی کارکردگی پر ایک سنگین سوالیہ نشان تھا۔ پچاس لاکھ گھروں اور دس لاکھ ملازمتوں جیسے غیر حقیقی وعدوں پر ان کی جانب سے جواب طلبی اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت عملی اقدامات کے بجائے محض اعداد و شمار کی شعبدہ بازی اور تشہیری سیاست (آپٹکس) پر تکیہ کیے ہوئے ہے۔
اب تو صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ جب گاڑیاں ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر بارش کے پانی سے بھرے گہرے گڑھوں سے گزرتی ہیں تو لوگ ازراہِ مذاق کہتے ہیں: “شاید یہ بھی ان 350 ڈیموں میں شامل ہوں جن کی تعمیر کا وعدہ تحریکِ انصاف نے کیا تھا۔” عوامی سطح پر اس قسم کے طنزیہ جملے دراصل حکمرانی کے معیار پر عوامی فیصلے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ جب وعدے اور حقیقت میں فرق بہت بڑھ جائے تو سیاسی بیانیہ اپنی سنجیدگی کھو دیتا ہے اور عوام اسے سنجیدگی سے لینے کے بجائے طنز و مزاح کا موضوع بنا لیتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب حکومتی دعوے سیاسی سرمایہ بننے کے بجائے سیاسی کمزوری میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
انتظامی بگاڑ کا ایک تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بدعنوانی اور سیاسی جانبداری کا زہر اب خالصتاً فلاحی اقدامات میں بھی سرایت کر چکا ہے۔ غریب مستحقین کے لیے مخصوص رمضان پیکج جیسے پروگراموں کو، جن کا مقصد انسانی بنیادوں پر ریلیف فراہم کرنا تھا، سیاسی وابستگیوں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ جب ریاست کی جانب سے فراہم کردہ سماجی تحفظ کی امداد میرٹ کے بجائے پارٹی بنیادوں پر تقسیم ہو، تو یہ نہ صرف مستحقین کی حق تلقی ہے بلکہ سیاسی اخلاقیات کے دیوالیہ پن اور انسانی وقار کی پامالی کا ثبوت بھی ہے۔
مالیاتی تناظر میں دیکھا جائے تو اعداد و شمار ایک بھیانک تصویر پیش کر رہے ہیں۔ صوبائی قرضہ شماریاتی بلیٹن کے مطابق 31 دسمبر 2025 تک خیبر پختونخوا کا مجموعی عوامی قرضہ 809.742 ارب روپے کی ریکارڈ سطح کو پہنچ چکا ہے، جو کہ محض چھ ماہ قبل 776.321 ارب روپے تھا۔ اس قرضے کا تقریباً 99 فیصد حصہ بیرونی ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے، جس کی 74 فیصد ادائیگی امریکی ڈالر میں ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صوبے کی مالیاتی تقدیر اب بین الاقوامی کرنسی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے وابستہ ہے۔ روپے کی قدر میں ہونے والی معمولی کمی بھی، بغیر کسی نئے قرضے کے، صوبے کے واجب الادا حجم میں اربوں روپے کا اضافہ کر دیتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق سود اور اصل رقم کی مد میں ماہانہ ادائیگی کا بوجھ اب اوسطاً 5 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جو کہ ایک مالیاتی پھندے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کا مالیاتی ڈھانچہ اس قدر کمزور ہے کہ صوبہ اپنی ضروریات کے لیے 90 فیصد سے زائد وفاقی منتقلیوں کا دستِ نگر ہے، مگر دوسری جانب وفاق اور صوبے کے درمیان واجبات کا تنازع ایک ایسے سنگین موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں دونوں اطراف کے دعوے مکمل متصادم ہیں۔ صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ اگر وفاق دیانتداری سے تمام واجبات کی ادائیگی کر دے، تو صوبہ اپنا تمام تر قرضہ محض ایک سال میں اتارنے کی سکت رکھتا ہے۔ اس کے برعکس، وفاقی وزارتِ خزانہ کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ پندرہ برسوں میں این ایف سی (NFC) ایوارڈ، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے معاوضے اور ضم شدہ اضلاع کے فنڈز کی مد میں خیبر پختونخوا کو 8,404 ارب روپے منتقل کیے جا چکے ہیں۔ وفاق کے نزدیک فنڈز کا یہ بلا تعطل بہاؤ ان صوبائی دعووں کی نفی کرتا ہے کہ مرکز کے ذمے کوئی بڑی رقم بقایا ہے۔ وفاقی حکام نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی مد میں 2,200 ارب روپے کے مطالبے کو بھی مسترد کرتے ہیں۔
اس کے برعکس، صوبائی مشیرِ خزانہ مزمل اسلم کا موقف ہے کہ وفاق کے ذمے نیٹ ہائیڈل پرافٹ اور ضم شدہ اضلاع کی کم فنڈنگ کی مد میں تقریباً 4 ٹریلین (4000 ارب) روپے کے بھاری واجبات بقایا ہیں۔ صوبے کا ایک بڑا گلہ یہ ہے کہ فاٹا انضمام کے بعد ساتویں این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی نہیں کی گئی، جبکہ آئین کے تحت ہر پانچ سال بعد نئے ایوارڈ کا اجرا ایک لازمی دستوری تقاضا ہے۔ اس آئینی تعطل کی وجہ سے خیبر پختونخوا کو اپنی بڑھتی ہوئی آبادی اور وسیع جغرافیے کے تناسب سے اس کا جائز حصہ نہیں مل رہا۔ مزید برآں، ضم شدہ اضلاع کے لیے وعدہ کردہ 3 فیصد حصے کی عدم فراہمی اور ترقیاتی پروگراموں میں فنڈز کی کٹوتی نے اس مالیاتی خلیج کو ایک گہرے بحران میں بدل دیا ہے۔
تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی مسلسل تین حکومتوں نے ان جائز مالیاتی اور آئینی مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے کبھی تعمیری مکالمے کی سنجیدہ راہ اختیار نہیں کی۔ ایک ایسے وقت میں جب صوبے کے حقوق کی جنگ آئینی میز پر بیٹھ کر مضبوط قانونی دلائل کے ساتھ لڑنی چاہیے تھی، صوبائی حکمرانوں نے صوبے کے دیرینہ مالیاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر تمام تر سیاسی توانائی لانگ مارچ اور دھرنوں کی نذر کر دی، جن کے مطالبات صوبے کی معاشی بہتری کے بجائے محض سیاسی نمبر گیم اور وفاق کو سیاسی طور پر زچ کرنے تک محدود رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب حکومتیں عوامی حقوق کی آئینی وکالت کے بجائے سڑکوں پر طاقت کے مظاہرے کو اپنا شعار بنا لیں، اور آئینی دلائل کی جگہ سیاسی شور شرابہ لے لے، تو صوبے کا جائز قانونی اور مالیاتی مقدمہ اس سیاسی تماشے کی نذر ہو کر دم توڑ دیتا ہے۔
نتیجتاً اب یہ ہو رہا ہے کہ قرضوں کی واپسی اور ان پر سود کی ادائیگی صوبے کے ترقیاتی بجٹ کو نگل رہی ہے۔ جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران صوبے نے 25.565 ارب روپے قرضوں کی قسطوں اور سود کی مد میں ادا کیے۔ چونکہ صوبے کی اپنی آمدن محض 57.5 ارب روپے ہے، اس لیے ان ادائیگیوں کے بعد تعلیم، صحت اور ترقیاتی پروگراموں کے لیے فنڈز کی شدید قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ قرضہ اگر پیداواری منصوبوں میں صرف ہو تو وہ معاشی نمو کا باعث بنتا ہے، لیکن یہاں آڈیٹر جنرل کی رپورٹ 200 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کر رہی ہے، جبکہ مقامی حکومتوں کے فنڈز میں 354 ارب روپے کے آڈٹ اعتراضات کرپشن کے نچلی سطح تک سرایت کر جانے کی گواہی دے رہے ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں میں اربوں روپے کی بے قاعدگیاں اور کوہستان اسکینڈل میں 20 ارب روپے کی ریکوری نے ثابت کر دیا ہے کہ بدعنوانی محض سیاسی الزام نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ مزید برآں، اختیارات کی حد سے زیادہ مرکزیت اور وزیرِ اعلیٰ کے پاس 20 سے زائد محکموں کے قلمدان ہونا ادارہ جاتی کمزوری کی علامت ہے، جو بیوروکریسی کو مفلوج اور شفافیت کو سبوتاژ کر دیتی ہے۔
اس گرداب سے نکلنے کے لیے خیبر پختونخوا کو اب جامع مالیاتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ پہلا قدم وفاق کے ساتھ واجبات کے تنازع کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے تعمیری مکالمے سے حل کرنا ہے۔ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ شاہراہوں پر احتجاج کے بجائے مشترکہ مفادات کونسل (CCI) اور این ایف سی کے فورمز پر اعداد و شمار پر مبنی مضبوط مقدمہ پیش کرے۔ وفاق کے ساتھ بیٹھ کر ادائیگیوں کے شیڈول پر اتفاق کرنا ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے صوبے کو اس کا جائز حق مل سکتا ہے۔
مزید برآں، وفاق پر انحصار کم کرنے کے لیے معدنیات، سیاحت اور پن بجلی جیسے قدرتی وسائل کو کمرشل بنیادوں پر بروئے کار لانا ہوگا۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کو فعال کرنا ہوگا تاکہ ترقیاتی بوجھ کا کچھ حصہ نجی شعبے کی طرف منتقل ہو۔ سب سے بڑھ کر، بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس اور ایک شفاف ڈیجیٹل گورننس سسٹم کا نفاذ اب وقت کا تقاضا ہے، تاکہ عوامی خزانے کی ایک ایک پائی کا حساب عوام کے سامنے ہو۔
خیبر پختونخوا کا مالیاتی مستقبل اب کسی معجزے کا نہیں بلکہ بے رحم محاسبے، کڑے نظم و ضبط اور حقیقی اصلاحات کا متقاضی ہیجو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہوں۔ اگر صوبے کے حکمران اب بھی خوابِ خرگوش سے بیدار نہ ہوئے اور اصلاحِ احوال کی جرات نہ دکھائی، تو یہ عہد ان سیاسی وعدوں کے قبرستان کے طور پر یاد رکھا جائے گا جو کبھی وفا نہ ہو سکے۔
