کرپشن: اخلاقی زوال یا نظامی بحران؟ – تحریر: قریش خٹک
.
ملک میں بدعنوانی اب محض چند افراد کی اخلاقی کمزوری یا مالی بے ضابطگی کا مسئلہ نہیں رہی، بلکہ ایک منظم اور ہمہ گیر نظامی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو ریاست، معاشرے اور معیشت کی بنیادوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ یہ بحران ایک ایسے فرسودہ ریاستی ڈھانچے کی پیداوار ہے جہاں قوانین، ادارے، نگرانی اور احتساب کا نظام اپنا توازن کھو چکا ہے۔ نتیجتاً بدعنوانی اب کوئی غیر معمولی عمل نہیں رہی بلکہ روزمرہ زندگی کا ایک تلخ معمول بن چکی ہے۔ ایک عام پاکستانی کے ذہن میں یہ تصور راسخ ہو چکا ہے کہ سفارش، تعلقات یا رشوت کے بغیر حکومتی مشینری حرکت میں نہیں آ سکتی۔ یہ کیفیت محض عوامی مایوسی نہیں بلکہ ریاست پر عوامی اعتماد کے بتدریج خاتمے کا اعلانیہ ہے۔
ایک معروف کہاوت ہے کہ شیر صرف اُس وقت شکار کرتا ہے جب اسے بھوک ہو، مگر پاکستان میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اشرافیہ کی اقتدار، وسائل اور اختیار پر گرفت برقرار رکھنے کی ہوس کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2025ء میں پاکستان کا 182 ممالک میں 136 واں نمبر اس بحران کی شدت کا عکاس ہے۔ پاکستان میں بدعنوانی دو سطحوں پر واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ایک طرف روزمرہ کی معمولی بدعنوانی ہے جہاں عام شہری تھانے، کچہری اور پٹواری کے ہاتھوں ذلیل ہوتا ہے، اور دوسری طرف میگا کرپشن ہے جو اقتدار کے مراکز اور بڑے مالیاتی فیصلوں میں جنم لیتی ہے۔
اس بحران کی جڑیں برطانوی نوآبادیاتی دور تک پھیلی ہوئی ہیں، جب سرکاری افسر شاہی کا ڈھانچہ عوامی خدمت کے بجائے سامراجی تسلط اور کنٹرول کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد سیاسی عدم استحکام، بار بار کی ماورائے آئین مداخلتوں اور کمزور جمہوری ارتقا نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ جب ادارے اپنی آئینی حدود سے تجاوز کریں تو قانون کی حکمرانی دم توڑ دیتی ہے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول عملی حقیقت بن جاتا ہے۔
پاکستان کی سیاست کا ایک بڑا المیہ سرپرستی کی سیاست (Patronage Politics) ہے۔ انتخابی مہمات پر بے تحاشا اخراجات اور ٹھیکوں میں کمیشن خوری نے اقتدار کو عوامی خدمت کے بجائے ایک منافع بخش سرمایہ کاری میں تبدیل کر دیا ہے۔ جب کوئی سیاست دان کروڑوں روپے لگا کر ایوان تک پہنچتا ہے، تو اس کی پہلی ترجیح عوامی فلاح کے بجائے اپنے سرمائے کی واپسی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احتساب کا عمل اکثر شفاف قومی ضرورت کے بجائے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، جہاں ایک دور کے زیرِ عتاب لوگ اگلے دور میں منظورِ نظر بن جاتے ہیں۔ افسر شاہی میں بھی صورتحال مختلف نہیں، جہاں دیانت دار افسران کو سائیڈ لائن کر دیا جاتا ہے اور بااثر عناصر احتساب سے محفوظ رہتے ہیں۔
جب ریاست اپنے شہریوں کو انصاف اور بنیادی حقوق فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے تو عمرانی معاہدہ (Social Contract) کمزور پڑنے لگتا ہے۔ ایسے میں قانون سے مایوس شہری بقا کے لیے غیر قانونی راستے اور چور دروازے تلاش کرنے لگتا ہے، اور یہی عمل رفتہ رفتہ ایک اجتماعی رویے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ زہر اب معاشرتی رگوں میں سرایت کر چکا ہے؛ ٹیکس چوری کو ذہانت اور سفارش کو حق سمجھا جانے لگا ہے۔ جب ایک شہری ٹریفک چالان سے بچنے کے لیے رشوت دیتا ہے، تو وہ اسی نظام کو ایندھن فراہم کر رہا ہوتا ہے جس کا وہ خود شاکی ہے۔ یوں کرپشن ایک ایسے شیطانی چکر (Vicious Cycle) میں تبدیل ہو جاتی ہے جہاں ریاستی ناکامی معاشرتی بگاڑ کو جنم دیتی ہے اور معاشرتی بگاڑ مزید ریاستی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔
صورتِ حال سنگین ضرور ہے، مگر ناقابلِ اصلاح نہیں۔ سنگاپور اور جارجیا جیسے ممالک اس کی روشن مثالیں ہیں جنہوں نے مضبوط سیاسی عزم، ادارہ جاتی اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے بدعنوانی کو شکست دی۔ پاکستان کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے سرکاری خدمات کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن اور ای-گورننس ناگزیر ہے، تاہم اس سے بھی کہیں زیادہ فیصلہ کن عنصر سیاسی عزم (Political Will)ہے۔ اصل تبدیلی تبھی ممکن ہے جب ایک ایسا نظام وجود میں آئے جہاں قانون کا اطلاق بلا امتیاز ہو خواہ وہ سیاست دان ہو، بیوروکریٹ، جج ، وردی والا یا عام شہری۔
