صحت کارڈ میں کرپشن اور کمیشن کے معاملات، سرکاری اراضی پر تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی: ثمر ہارون بلور
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ، ریلیف، بحالی و آبادکاری ثمر ہارون بلور نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، تاہم دہشت گردی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ پولیس کی بہتر پٹرولنگ اور پولیس و مسلح افواج کے درمیان مؤثر رابطہ کاری سے حالات میں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً دس ہزار پولیس اہلکاروں میں سے پانچ سے چھ ہزار کو نجی سکیورٹی ڈیوٹی سے واپس پولیس لائنز بلا لیا گیا ہے، جبکہ باقی اہلکاروں کی تعیناتی کا انفرادی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حقیقی خطرات سے دوچار سیاسی رہنماؤں کی سکیورٹی برقرار رکھی جائے گی۔صحت کارڈ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے اہم سہولت ہے، تاہم اس نظام میں کرپشن، مافیاز، مخصوص کمپنیوں کو نوازنے اور کمیشن و کک بیکس کے معاملات سامنے آئے ہیں۔ منصوبے میں شفافیت اور میرٹ یقینی بنانا ضروری ہے۔تجاوزات کے معاملے پر ثمر ہارون بلور نے کہا کہ سرکاری اراضی پر غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے اور کسی کو سیاسی وابستگی یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر استثنیٰ نہیں ملنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ تیرہ سال کے مسائل تیرہ دن یا تیرہ ہفتوں میں حل کرنے کی توقع حقیقت پسندانہ نہیں، تاہم حکومت اصلاحات اور عملی اقدامات کے ذریعے بہتری لانے کے لیے کوشاں ہے۔
مشیر اطلاعات نے مقامی آبادی کے تعاون کو امن کے قیام کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسلز (ARDCs) کے ذریعے مقامی نمائندوں کی مشاورت سے سکیورٹی اقدامات اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔ نوجوانوں کو دہشت گردی سے دور رکھنے کے لیے تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے متعلقہ علاقوں میں سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم لہرانے کی تصدیق بھی کی۔پاک افغان تجارت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان پر دہشت گرد حملوں اور ملکی خودمختاری کو چیلنج کیے جانے کے باوجود معمول کے تجارتی تعلقات برقرار رکھنا ممکن نہیں۔ افغانستان کو اپنی سرزمین ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے استعمال اور انہیں پناہ دینے سے روکنا ہوگا۔ تجارتی راستوں کی بحالی کے لیے سکیورٹی تحفظات دور کرنا اور افغانستان کا عملی تعاون ضروری ہے۔