مستوج پل دوبارہ خطرے میں، اہم رابطہ منقطع ہونے کا خدشہ، عوام کا فوری اقدامات کا مطالبہ
۔
مستوج (نمائندہ چترال ٹائمز ) ضلع اپر چترال کے مرکزی مقام مستوج خاص میں دریائے یارخون کے اوپر واقع اہم رابطہ پل ایک بار پھر دریائے یارخون کی کٹائی کی زد میں آنے کا قوی امکان ہے، جس کے باعث پل کو نقصان پہنچنے اور ٹریفک کی معطلی کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یہ پل لاسپور ویلی، شندور پاس، گلگت بلتستان اور یارخون ویلی کو چترال سے ملانے والا واحد زمینی راستہ ہے۔ اس اہم گزرگاہ کے متاثر ہونے کی صورت میں نہ صرف ہزاروں مقامی افراد کا رابطہ منقطع ہو سکتا ہے بلکہ بین الاقوامی سیاحوں کی آمد و رفت بھی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ سال دریائے یارخون کے تیز بہاؤ نے پل کے اطراف قائم حفاظتی پشتوں کو کمزور کر دیا تھا، اور اب صورتحال روز بروز مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو پل کے دریا برد ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس سے قریبی آبادی اور املاک کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی اسی نوعیت کی صورتحال پیش آئی تھی جب دریائی کٹاؤ کے باعث پل میں شگاف پڑنے پر اسے ٹریفک کے لیے بند کرنا پڑا تھا، تاہم پاک آرمی اور چترال سکاوٹس کے جوانوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پل کو مزید نقصان سے بچایا تھا۔
ماہرین کے مطابق مئی کے بعد دریائے یارخون میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث حفاظتی اقدامات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔ عوامی حلقوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری بنیادوں پر حفاظتی پشتوں کی تعمیر، مشینری کی فراہمی اور ہنگامی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ کروڑوں روپے کی املاک کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ٹریفک کی روانی بھی برقرار رکھی جا سکے۔

File Photos : Mastuj Bridge
