ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کے لیے مجوزہ ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے فیصلے کو موخر کیا جائے، وزیراعلی کا وزیراعظم کو خط
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو ایک تفصیلی خط ارسال کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کے لیے مجوزہ ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے فیصلے کو موخر کیا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ اقدام ان وعدوں سے انحراف کے مترادف ہے جو سابقہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے وقت وفاق کی جانب سے کیے گئے تھے اور اس سے انضمام کے عمل پر عوامی اعتماد بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اپنے خط میں وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام ٹیکسوں کے مخالف نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے منصفانہ، مساوی اور پائیدار ٹیکس نظام کے حامی ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ ٹیکس عائد کرنے کا نہیں بلکہ ان ٹیکس استثنیٰ کو ختم کرنے کا ہے جو انضمام کے وقت وفاق کی جانب سے کیے گئے وعدوں کے برخلاف ہے۔
وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو یاد دلایا کہ سابقہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام وسیع قومی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا اور اس موقع پر وفاق نے خطے کے کامیاب انضمام اور ترقی کے لیے مسلسل مالی معاونت اور ادارہ جاتی تعاون کی واضح یقین دہانیاں کرائی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے انضمام کے عمل پر بھرپور عملدرآمد کے باوجود وفاق کے متعدد وعدے تاحال پورے نہیں کیے گئے، جبکہ خیبرپختونخوا آج بھی غیر متناسب مالی، انتظامی اور سکیورٹی ذمہ داریاں اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انضمام کے حوالے سے وفاق کی جانب سے کیا گیا این ایف سی شیئر کا وعدہ بھی ابھی تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے کی بے مثال قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا آج بھی امن و امان کے قیام، پولیسنگ، انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں، متاثرہ آبادیوں کی بحالی اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو پر قومی مفاد میں بھاری اخراجات برداشت کر رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان بے مثال قربانیوں کے باوجود وفاق کی جانب سے این ایف سی شیئر سے متعلق کیا گیا وعدہ اب تک پورا نہیں کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ افغانستان کے ساتھ قانونی سرحدی تجارت اور ٹرانزٹ کی طویل بندش کے باعث بالخصوص سرحدی اضلاع میں تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، جہاں مقامی معیشت کا انحصار تاریخی طور پر سرحد پار تجارت پر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محلِ وقوع سے متعلق مسائل، ناکافی انفراسٹرکچر، محدود صنعتی ترقی، نقل و حمل کے بلند اخراجات اور توانائی کی قلت جیسے عوامل نے نجی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کے لیے ٹیکس استثنیٰ تاریخی طور پر پسماندہ علاقوں میں سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور معاشی انضمام کے فروغ کے لیے عبوری اقدام کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان استثنیٰ کو ان کے ترقیاتی مقاصد کے حصول سے قبل اور وفاقی وعدوں کی تکمیل سے پہلے ختم کرنے سے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی، معاشی بحالی متاثر ہوگی اور مقامی کاروبار اور عوام پر اضافی بوجھ پڑے گا۔
وفاقی حکومت کے مشاورتی طریقہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ مجوزہ ٹیکس اقدامات پر سفارشات مرتب کرنے کے لیے بین الصوبائی رابطہ کے وفاقی وزیر کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کمیٹی نے چند محدود اجلاسوں کے باوجود اپنی سفارشات کو حتمی شکل نہیں دی، اس کے باوجود صوبائی حکومت اور مقامی اسٹیک ہولڈرز سے موثر مشاورت مکمل کیے بغیر ٹیکس استثنیٰ واپس لینے کی تجویز پر عملدرآمد آگے بڑھایا گیا۔ وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ وفاقی وعدوں کی تکمیل اور طے شدہ مشاورتی عمل مکمل کیے بغیر ایسے یکطرفہ اقدامات عوامی اعتماد کو مجروح کر سکتے ہیں اور ان حساس علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید یاد دلایا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے 2 جولائی 2026 کو متفقہ قرارداد نمبر 260 کے ذریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ صوبے سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل تک مجوزہ ٹیکس اقدامات موخر کیے جائیں۔
وزیراعلیٰ نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ مجوزہ فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کے لیے موجودہ ٹیکس استثنیٰ اس وقت تک برقرار رکھا جائے جب تک وفاق انضمام کے وقت کیے گئے اپنے وعدوں کو خاطر خواہ حد تک پورا نہیں کر لیتا اور وہ سماجی و معاشی حالات، جن کی بنیاد پر یہ استثنیٰ دیا گیا تھا، نمایاں طور پر بہتر نہیں ہو جاتے۔ وزیراعلیٰ نے اس امید کا اظہار کیا کہ وزیراعظم صوبے کے تحفظات پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور اس معاملے کو قومی مفاد اور تاریخی انضمام کے عمل کی بنیاد بننے والے وعدوں کے مطابق حل کیا جائے گا۔
۔