خطے کی صورتحال، پیٹرول بحران اور این ایف سی حقوق پر دوٹوک مؤقف۔ عوامی مفاد کے خلاف ہر پالیسی کی مخالفت کریں گے، وزیراعلیٰ کا ایوانِ صدر اجلاس کے بعد گفتگو،
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ایوان صدر اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل اور انٹرنیشنل کرائسز کے تناظر میں یہ اجلاس بلایا گیا تھا جس میں ہم نے پاکستان کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، خصوصاً پیٹرول اور ڈیزل کے مسئلے اور خطے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف اور خیبرپختونخوا حکومت کا موقف بالکل دوٹوک ہے کہ کوئی بھی ایسا فیصلہ جس سے عوام کو نقصان پہنچے یا جو عوامی مفاد کے خلاف ہو، نہ اس کا حصہ بنیں گے اور نہ ہی اس کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا اور امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے نازک مرحلے پر عمران خان نے ایک ذمہ دار اسٹیٹ مین کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک کو ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھا۔ موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے فیصلوں سے گریز کیا جانا چاہیے جو معاشی سرگرمی کو متاثر کریں، کیونکہ معیشت کا استحکام براہ راست قومی استحکام سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کو امن، سفارت کاری اور مذاکرات کا فعال کردار ادا کرنا چاہیے، جبکہ مسلم دنیا آج بھی بحرانوں کے وقت پاکستان کی طرف دیکھتی ہے، اس لیے اسلامی تعاون تنظیم کو مو¿ثر اور فعال بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری مسلم دنیا بحران کے وقت پاکستان کی طرف دیکھتی ہے، لہٰذا پاکستان کو ہمیشہ امن اور مذاکرات کا کردار ادا کرنا چاہیے اور کسی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو این ایف سی میں ضم شدہ اضلاع کا جائز حصہ فراہم نہیں کیا جا رہا اور اس مد میں تقریباً 1375 ارب روپے وفاق کے ذمے واجب الادا ہیں، جو گزشتہ سات برسوں سے دیگر صوبے آپس میں تقسیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ساتواں این ایف سی ایوارڈ 2018 سے غیر آئینی طور پر جاری ہے اور حالیہ اجلاس میں بھی اس عمل کو واضح طور پر غیر آئینی قرار دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے عوام کا حق دیگر صوبوں میں تقسیم کیا جانا آئین کی صریح خلاف ورزی ہے، جس پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اجلاس میں این ایچ پی میں خیبرپختونخوا کے جائز حصے کا معاملہ بھی وفاق کے سامنے اٹھایا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا سے وسائل طلب کیے جاتے ہیں تو پہلے صوبے کو اس کا این ایف سی شیئر دیا جائے، کیونکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صوبہ فرنٹ لائن پر ہے اور کاونٹر ٹیررزم میں وفاق سے ایک روپیہ نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے دوران بھی صوبے نے وفاق سے کوئی مالی مدد نہیں لی بلکہ اپنے وسائل سے عوام کو سہولیات فراہم کیں۔ مزید برآں، صحت کارڈ اور رمضان پیکج کے تحت صوبائی حکومت عوام کو 100 ارب روپے سے زائد کا ریلیف دے چکی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی پالیسی سے خیبرپختونخوا یا پاکستان کے عوام کو فائدہ ہوگا تو وہ اس کا حصہ بنیں گے، تاہم عوامی مفاد کے خلاف کسی اقدام کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاق عوام سے ٹیکس وصول کرتا ہے اور یہ عوام کا پیسہ ہے، جسے عوام پر ہی خرچ ہونا چاہیے، چاہے وہ وفاق کرے یا صوبے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کفایت شعاری کا آغاز منتخب نمائندوں اور تمام ریاستی اداروں سے ہونا چاہیے، جن میں بیوروکریسی، عدلیہ اور دیگر ادارے شامل ہیں، کیونکہ یہ سب عوام کے ٹیکس سے چلتے ہیں۔ لاک ڈاو¿ن سے متعلق سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، اس سلسلے میں سب کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس کے بعد صورتحال واضح ہوگی۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں قائد عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی جبکہ عدالتوں میں ہمارے کیسز بھی مقرر نہیں کیے جا رہے، ہم انصاف چاہتے ہیں اور جب انصاف ملے گا تو عمران خان بھی باہر ہوں گے اور خیبرپختونخوا کو بھی اس کا حق ملے گا۔
