گزشتہ چار سالوں میں ملکی قرضے 43 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 97 ہزار ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ وزیراعلی محمد سہیل آفریدی
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو مسلسل قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا علاج ان کے اہلِ خانہ کی موجودگی میں ذاتی معالجین کی نگرانی میں شفائانٹرنیشنل اسپتال میں کرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی مطالبہ نہیں، عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کے اہلِ خانہ اور پارٹی قیادت کو ان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اہلِ خانہ، پارٹی قیادت اور ذاتی معالجین تک رسائی روکی جاتی ہے تو اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عمران خان کے ساتھ کچھ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر عمران خان فیصلہ کریں کہ فلاں شخص وزیر اعلیٰ نہیں تو وہ وزیر اعلیٰ نہیں رہے گا۔ عمران خان ہی پی ٹی آئی ہیں، خیبرپختونخوا میں حکومت عمران خان کی ہے، اسے ان کے علاوہ کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ وفاقی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق حکومت اپنے ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حکومتی ناکامیوں کے نتیجے میں گزشتہ چار سالوں میں ملکی قرضے 43 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 97 ہزار ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بجٹ تو پاس کر لے گی مگر اس کا بوجھ عوام کو اٹھانا پڑے گا۔ نوجوان بے روزگار ہیں، صنعت متاثر ہو رہی ہے، کاروبار سکڑ رہا ہے اور مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کے پاس نہ موئثر داخلہ پالیسی ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی۔ صوبائی بجٹ کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کابینہ نے بجٹ پیپرز کی منظوری دے دی ہے اور صوبائی بجٹ متوازن، عوام دوست اور ترقیاتی ترجیحات کا حامل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں صحت، تعلیم، ماحولیات اور زراعت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ہماری حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق انسانوں پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی حکومت کا آنے والا بجٹ عوام پر ایک معاشی ایٹم بم ثابت ہوگا۔ گلگت بلتستان کے انتخابات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ عمران خان کے علاوہ کوئی بھی عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح گلگت بلتستان کے عوام باہر نکل رہے ہیں، اس سے حکمران خوفزدہ ہو چکے ہیں۔ اگر آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرائے جائیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو خون کی لت لگ چکی ہے۔ 26 نومبر کو ہمارے کارکنوں پر گولیاں چلائی گئیں، انہیں شہید کیا گیا، جبکہ مریدکے میں بھی لوگوں کو شہید کیا گیا۔ جن لوگوں نے پاکستان کو لوٹا، آج انہیں ہی پاکستان پر مسلط کر دیا گیا ہے۔ یہ ملک پر بوجھ بن چکے ہیں اور عوام ان سے بھی نفرت کرتے ہیں اور انہیں اقتدار میں لانے والوں سے بھی نفرت کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ عمران خان جیل میں قید ہونے کے باوجود آج بھی پورے ملک کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔
