پولیس کو دہ شت گردی کے خلاف جنگ سے ہٹا کر سیاسی تنازع میں الجھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، سہیل آفریدی
.
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام گزشتہ 22 سال سے دہ شتگردی کے خلاف مسلسل جنگ لڑ رہے ہیں، پولیس فورس کی بنیادی ذمہ داری عوام کے جان و مال کا تحفظ، امن و امان کا قیام اور دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہے، اس لیے پولیس کو کسی سیاسی تنازع یا سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی میں الجھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو اپنی تمام تر توجہ پیشہ ورانہ فرائض پر مرکوز رکھنی ہوگی۔
امن و امان کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس اور عوام کی قربانیوں کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں میں امن قائم ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک امن نہیں ہوگا، اس وقت تک ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 15 اکتوبر 2025 کو صوبائی حکومت نے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد پولیس کے لیے غیر معمولی مالی وسائل فراہم کیے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال سالانہ ترقیاتی پروگرام سے ہٹ کر پولیس کو 35 ارب روپے اضافی دیے گئے، جبکہ رواں مالی سال پولیس کا بجٹ 80 ارب روپے سے بڑھا کر 190 ارب روپے کردیا گیا ہے۔ حالیہ سرکاری بیان میں بھی صوبائی حکومت نے پولیس کے لیے اضافی 35 ارب روپے اور بجٹ 190 ارب روپے کیے جانے کا ذکر کیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پولیس دہ شتگردی کے خلاف صفِ اول میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور حکومت پولیس اہلکاروں کی قربانیوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس شہداء پیکیج میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ جدید آلات کی فراہمی کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے پولیس کے لیے جدید بکتر بند گاڑیوں اور دیگر آلات کی فراہمی میں تاخیر پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کو ادائیگی کیے جانے کے باوجود خیبرپختونخوا پولیس کو مطلوبہ بکتر بند گاڑیاں تاحال فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ اسلام آباد کے لیے جدید بکتر بند گاڑیاں تیار کرکے فراہم کی جاچکی ہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے لیے بکتر بند گاڑیاں، جیمرز اور ڈرونز کے خلاف دفاعی نظام سمیت دیگر ضروری آلات جلد فراہم کیے جائیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس کا بنیادی فرض دہشتگردی کا مقابلہ اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے، اسے کسی سیاسی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد رکھنے کی پالیسی اختیار کی ہے اور ان کے بقول انہوں نے کسی پولیس افسر کو سیاسی یا ذاتی انتقام کا نشانہ بنانے یا غلط ایف آئی آر درج کرنے کا حکم نہیں دیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر کسی پولیس افسر کو کوئی غلط حکم دیا جائے تو اسے قانون اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو دہشتگردی کے خلاف جنگ سے ہٹا کر کسی سیاسی جماعت کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے حالیہ سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت پُرامن احتجاج کے آئینی حق پر یقین رکھتی ہے اور ان کے بقول صوبائی حکومت کسی مسلح جدوجہد یا یلغار کے بجائے پُرامن احتجاج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک آئین میں اجتماع اور پُرامن احتجاج کا حق موجود ہے، اس حق کو استعمال کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبائی کابینہ نے پولیس ایکٹ کی منظوری دے دی ہے اور اسمبلی میں اس میں مزید ترامیم کی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی وفاقی ادارہ پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے گا تو صوبائی حکومت اس معاملے پر اقدامات کرے گی۔
سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا پولیس کا بنیادی فرض صوبے کے عوام کے جان و مال کا تحفظ، دہشتگردی کا مقابلہ اور امن و امان کا قیام ہے، اس لیے پولیس کو سیاسی کشمکش سے دور رہتے ہوئے اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے چاہئیں۔