وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت پشاور کے اوٹررنگ روڈ منصوبے کے حوالے سے اہم اجلاس، مجوزہ دوسری رنگ روڈ تقریباً 31 کلومیٹر طویل ہوگی جو شہر کے جنوبی علاقوں کو کور کرے گی
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت پشاور کے جنوبی حصے کے لیے آوٹر رنگ روڈ منصوبے سے متعلق ایک اہم اجلاس وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا جس میں متعلقہ محکموں کے حکام نے مجوزہ منصوبے کے مختلف پہلووں، مجوزہ روٹ، لاگت اور ٹائم لائن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پشاور کے جنوبی حصے کے لیے مجوزہ دوسری رنگ روڈ تقریباً 31 کلومیٹر طویل ہوگی جو شہر کے جنوبی علاقوں کو کور کرے گی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ منصوبے کی ابتدائی تخمینہ لاگت تقریباً 50 سے 60 ارب روپے متوقع ہے جبکہ منصوبے کو تقریباً تین سال میں مکمل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ مجوزہ آوٹر رنگ روڈ منصوبہ پشاور شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک کے دباو کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے میں عوام کی سہولت کے پیش نظر موزوں اور ضروری انٹرچینجز شامل کیے جائیں تاکہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کی منصوبہ بندی مستقبل کی ٹریفک اور شہری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے تاکہ یہ منصوبہ طویل مدت تک شہر کی ضروریات پوری کر سکے۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) سے رابطہ کر کے پشاور بس ٹرمینل پر انٹرچینج کے حصول کے لیے اقدامات کیے جائیں۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ بس ٹرمینل انٹرچینج کی صورت میں ٹریفک کو شہر کے اندر داخل ہوئے بغیر براہ راست اپنی منزل کی طرف جانے میں سہولت ملے گی جس سے شہر کے اندر ٹریفک کا دباو کم ہوگا۔اجلاس میں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ مجوزہ آوٹر رنگ روڈ پر بی آر ٹی ٹریک شامل کرنے کے امکان کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں شہریوں کو جدید اور موثر پبلک ٹرانسپورٹ سہولت فراہم کی جا سکے۔
