وزیراعلیٰ کے زیر صدارت محکمہ خوراک کا اجلاس، صوبے میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل میں رکاوٹ ہے، وزیراعلیٰ کو بریفنگ
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے میں آٹے اور گندم کی آزادانہ ترسیل کے لیے حکومتِ پنجاب کو خط لکھنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹے اور گندم کی ترسیل روکنا آئین کی خلاف ورزی ہے، سیاسی اختلافات کی آڑ میں پنجاب حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کے بنیادی حقوق سلب کر رہی ہے۔بدھ کے روز وزیرِ اعلیٰ سیکرٹریٹ میں محکمہ خوراک کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے مو ¿ثر اقدامات اٹھائے جائیں اور عوام کو سرکاری نرخ نامے کے مطابق اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
وزیرِ اعلیٰ نے صوبے بھر میں تمام گوداموں کی فوری رجسٹریشن کے احکامات بھی جاری کیے۔اجلاس کے دوران وزیرِ اعلیٰ کو صوبے میں گندم اور چینی کے دستیاب ذخائر اور نرخوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ شرکاءکو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں گندم اور آٹے کی سالانہ کھپت تقریباً 53 لاکھ میٹرک ٹن ہے، جس میں سے مقامی پیداوار 15 لاکھ میٹرک ٹن ہے، جبکہ بقیہ ضرورت پنجاب اور دیگر صوبوں سے پوری کی جاتی ہے۔ صوبے کے گوداموں میں اس وقت تقریباً 2 لاکھ 73 ہزار میٹرک ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل میں رکاوٹ ہے۔ چینی سے متعلق بتایا گیا کہ صوبے کی سالانہ ضرورت 10 لاکھ ٹن ہے، جس میں سے 30 فیصد گھریلو اور 70 فیصد کمرشل مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس وقت صوبے میں 4 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن چینی کا ذخیرہ موجود ہے۔
