وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے 2170 ارب روپے کا ’’خوشحال خیبرپختونخوا‘‘ بجٹ 2026-27 پیش کر دیا
۔
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مالی سال 2026-27 کے لیے 2170 ارب روپے حجم کا ’’خوشحال خیبرپختونخوا‘‘ بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا۔ بجٹ میں 1645.708 ارب روپے جاری اخراجات جبکہ 524.292 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی وصولیوں کا تخمینہ 2122 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ 48 ارب روپے کے متوقع خسارے کو صوبائی بچتوں سے پورا کیا جائے گا اور کوئی نیا قرض نہیں لیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی محصولات کا تخمینہ 182.41 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 50 ارب روپے زیادہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا اور کاروباری برادری و عوام کو مختلف شعبوں میں ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بجٹ کو نو موضوعاتی شعبوں کے گرد ترتیب دیا گیا ہے جن میں امن و امان، تعلیم، صحت، نوجوانوں کی ترقی، گڈ گورننس، مقامی حکومتوں کی مضبوطی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔
امن و امان کے شعبے میں پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191.393 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ پولیس پروکیورمنٹ پلان کے لیے 14.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن سے جدید اسلحہ، بلٹ پروف گاڑیاں، بکتر بند گاڑیاں، ڈرونز اور اینٹی ڈرون سسٹمز خریدے جائیں گے۔ پولیس کی ماہانہ آپریشنل سپورٹ کے لیے 7.9 ارب روپے جبکہ ڈرون ٹیکنالوجی پر مبنی پولیسنگ کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مختلف اضلاع میں سیف سٹی منصوبے شروع کیے جائیں گے اور پشاور میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی جائے گی۔
تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 468.379 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ صوبے میں 10 ارب روپے کی لاگت سے 72 چیف منسٹر ماڈل سکول قائم کیے جائیں گے جبکہ 14 نئے گورنمنٹ کالجز کی تعمیر کے لیے 363 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ آؤٹ آف سکول بچوں کے لیے 5 ارب روپے، مفت نصابی کتب کی فراہمی کے لیے 18.5 ارب روپے، کم کارکردگی والے سکولوں کی بہتری کے لیے 3.29 ارب روپے اور پیرنٹ ٹیچر کونسلز کے لیے 6.148 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے لیے گرانٹ ان ایڈ بڑھا کر 11.8 ارب روپے کر دی گئی ہے۔ خیبر انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ اینڈ ماڈرن سائنسز کے قیام کے لیے 5 ارب روپے جبکہ ٹرائیبل میڈیکل کالج کے قیام کے لیے بھی 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یونیورسٹی طلبہ کے لیے بلاسود قرضوں کی مد میں 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
صحت کے شعبے کا بجٹ بڑھا کر 334.8 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ صحت کارڈ پلس کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کے لیے 14.263 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ایم ٹی آئیز کے لیے 80 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز کی ری ویمپنگ کے لیے 11 ارب روپے مالیت کے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ کیٹیگری ڈی ہسپتالوں کو ٹیچنگ ہسپتالوں میں اپ گریڈ کرنے کے لیے 9.9 ارب روپے جبکہ پشاور میں نئے جنرل ہسپتال کی تعمیر کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کینسر مریضوں کے مفت علاج کے لیے 200 ملین روپے رکھے گئے ہیں جبکہ 2819 ڈاکٹرز، ڈینٹل سرجنز اور نرسز کی بھرتیوں کا عمل جاری ہے۔
نوجوانوں کی ترقی کے لیے 1.5 ارب روپے کی لاگت سے انٹرن شپ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ زرعی گریجویٹس کے لیے بلاسود قرضوں کی اسکیم متعارف کرائی گئی ہے جبکہ ضم اضلاع میں احساس نوجوان پروگرام کے لیے 200 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
سماجی تحفظ کے شعبے میں احساس مستحقین پروگرام کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ’’احساس ماں، نئی زندگی نئی امید‘‘ پروگرام کے لیے ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت ماؤں کو پہلے دو بچوں کی پیدائش پر فی بچہ 20 ہزار روپے ماہانہ معاونت فراہم کی جائے گی۔ پانچ زمونگ کور کمپلیکسز کے قیام کے لیے 1.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
لوکل گورنمنٹ کا بجٹ بڑھا کر 90 ارب روپے کر دیا گیا ہے جبکہ مقامی کونسلوں کے لیے 22.2 ارب روپے کی گرانٹ مختص کی گئی ہے۔ ضلعی سطح پر منتقل محکموں کے اخراجات کے لیے 343 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔
ضم اضلاع کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 29 ارب روپے اور تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے تحت 52 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ان کے جاری اخراجات کے لیے 180 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ٹی ڈی پیز کے لیے 17 ارب روپے مختص کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق کی جانب سے 2022 سے فنڈز جاری نہ ہونا تشویشناک ہے۔
صوبے کے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے 22.7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پشاور ری وائیٹلائزیشن پلان کے تحت 120 ارب روپے مالیت کے 29 منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ مختلف انڈر پاسز کی تعمیر کے لیے 4.8 ارب روپے، رنگ روڈ فیز تھری کے مسنگ لنک کے لیے 1.5 ارب روپے اور بجلی کی تاروں کو زیرزمین منتقل کرنے کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بی آر ٹی آپریشنل سبسڈی اور نئی بسوں کی خریداری کے لیے 7.5 ارب روپے جبکہ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ریسکیو 1122 کی خدمات تمام تحصیلوں تک توسیع دینے کے لیے 2.2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ اپر چترال میں پہلی مرتبہ 5 ارب روپے مالیت کا انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پیکیج شروع کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں مختلف اضلاع میں علاقائی ترقی کے 11 منصوبوں کے لیے 6.8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک ارب روپے مالیت کے دو منصوبے شامل کیے گئے ہیں جبکہ گڈ گورننس، شفافیت، ڈیجیٹلائزیشن اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے 19.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کاروباری برادری کو ریلیف دینے کے لیے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی شرح 2 فیصد سے کم کرکے 0.75 فیصد کر دی گئی ہے۔ پانچ مرلے تک کی رہائشی اور کمرشل جائیدادوں کو پراپرٹی ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے جبکہ ہوٹل بیڈ ٹیکس 7 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ کم آمدنی والے افراد اور گریڈ 1 تا 6 کے ملازمین کو پروفیشنل ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے جبکہ صنعتی عمارتوں کے ٹیکس بقایاجات پر 30 فیصد رعایت دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ٹیکس ریلیف پالیسی برقرار رکھی گئی ہے اور مالی سال 2026-27 میں بھی ان علاقوں پر کوئی نیا ٹیکس نافذ نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ’’خوشحال خیبرپختونخوا‘‘ بجٹ کا مقصد عوامی فلاح، معاشی استحکام، روزگار کے مواقع، بہتر طرز حکمرانی اور صوبے کی متوازن ترقی کو یقینی بنانا ہے تاکہ ترقی کے ثمرات صوبے کے ہر شہری تک پہنچ سکیں۔
