وزیراعلیٰ کا پشاور رنگ روڈ کے ناردرن سیکشن کے (ورسک روڈ تا ناصر باغ روڈ) پیکج ون کا افتتاح
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور رنگ روڈ کے ناردرن سیکشن ( مسنگ لنک ) ورسک روڈ تا ناصر باغ روڈ کے پیکج ون کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ فیز ون کے پیکج ون کے تحت 2.1 کلومیٹر طویل دو رویہ اور تین لائن پر مشتمل مسنگ لنک کو 2 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے جبکہ دیگر پیکجز پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ رنگ روڈ ناردرن سیکشن کے فیز ون کی مجموعی لاگت 9.6 ارب روپے ہے۔ مزید بتایا گیا کہ مسنگ لنک کے فیز ٹو اور فیز تھری کے ٹینڈرز بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے منصوبے کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رنگ روڈ کے اس اہم مسنگ لنک کی تعمیر سے شہری ٹریفک کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی اور شہریوں کو آمد و رفت کی ایک بہترین سہولت میسر ہوگی۔
وزیراعلیٰ نے اس موقع پر پشاور ری وائیٹلائزیشن منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ 200 ارب روپے مالیت کا ایک جامع ترقیاتی پیکج ہے جس کے تحت اب تک 171 ارب روپے کے منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پشاور کے عوام کو پہلے بی آر ٹی اور اب ری وائیٹلائزیشن منصوبے کی صورت میں بڑے ترقیاتی تحائف دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور صوبے کا دارالحکومت ہے اور اس کی خوبصورتی پورے صوبے کے مثبت تشخص کی عکاسی کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ آوٹر رنگ روڈ منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی بھی جلد مکمل کر لی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ری وائیٹلائزیشن منصوبہ شروع کیا گیا تو غیر ضروری اعتراضات اٹھائے گئے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی کے پاس کرپشن کے ٹھوس شواہد ہیں تو پیش کیے جائیں، حکومت فوری کارروائی کرے گی۔
مالی وسائل کی تقسیم کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں خیبرپختونخوا کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے اور ضم اضلاع کی آبادی کو اپنا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر این ایف سی کو ازسرنو ترتیب دیا جائے تو صوبے کا حصہ 14.6 فیصد سے بڑھ کر 19 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے تقریباً 500 ارب روپے سالانہ غیر منصفانہ طور پر تقسیم کیے جا رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا کے حقوق کے حصول کے لیے ایک نئے دور کا آغاز کیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر صوبے کے عوام کا مقدمہ ایک نئے انداز میں لڑا جائے گا۔
انہوں نے توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا روزانہ 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کرتا ہے، جس میں سے صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی صوبے میں استعمال ہوتی ہے جبکہ باقی 250 ایم ایم سی ایف ڈی دیگر صوبوں اور وفاق کو فراہم کی جا رہی ہے حالانکہ آئین کے مطابق گیس کے استعمال کا پہلا حق اس صوبے کا ہے جس میں گیس پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا اپنی ضرورت سے زائد بجلی بھی پیدا کر رہا ہے جو دیگر علاقوں کو فراہم کی جا رہی ہے۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اے جی این قاضی فارمولا کے تحت خیبرپختونخوا کو سالانہ 36 ارب جبکہ پنجاب کو 65 ارب روپے دیے جا رہے ہیں جو کہ کھلی ناانصافی ہے۔ صوبائی وزیر برائے بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی ، معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان ، پشاور سے منتخب اراکین قومی وصوبائی اسمبلی ، محکمہ بلدیات اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام بھی تقریب میں شریک ہوئے۔

