The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 17 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے رنگ روڈ پی ڈی اے ٹول پلازہ حیات آباد کے مقام پر انڈر پاس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا

Chitral Times

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے رنگ روڈ پی ڈی اے ٹول پلازہ حیات آباد کے مقام پر انڈر پاس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے رنگ روڈ پی ڈی اے ٹول پلازہ حیات آباد کے مقام پر انڈر پاس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے رنگ روڈ پی ڈی اے ٹول پلازہ حیات آباد کے مقام پر انڈر پاس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا

۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے رنگ روڈ پی ڈی اے ٹول پلازہ حیات آباد کے مقام پر انڈر پاس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ دو لینز پر مشتمل یہ انڈر پاس ایک ارب 60 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے جس سے باڑہ روڈ تک رسائی مزید آسان ہو جائے گی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ کو پشاور ری وائیٹلائیزیشن پلان کے مختلف منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پشاور ری وائیٹلائیزیشن پلان کے تحت اب تک 21 ارب روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کیا جا چکا ہے۔ پلان میں شامل انڈر پاسز کی تعمیر کے منصوبے پر عملی پیش رفت جاری ہے، دلہ زاک روڈ انڈر پاس پر پہلے ہی تعمیراتی سرگرمیاں شروع ہیں جبکہ پشتہ خرہ اور جمیل چوک انڈر پاسز کے علاوہ ہزار خوانی اوور پاس منصوبے کا بھی جلد افتتاح کیا جائے گا۔

بریفنگ کے مطابق پشاور ری وائیٹلائیزیشن پلان میں 35 سڑکوں کی خوبصورتی اور بحالی کے منصوبے بھی شامل ہیں جن کی تخمینہ لاگت 19 ارب روپے ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں 15 مختلف سڑکوں پر عملی کام کا جلد آغاز کیا جائے گا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ پشاور کی بحالی صوبائی حکومت کی ترجیح ہے۔ ضرورت پڑنے پر پشاور نے ہمیشہ کھلے دل کا مظاہرہ کیا ہے اور ملاکنڈ سمیت قبائلی اضلاع سے بے گھر ہونے والے متاثرین کی میزبانی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 200 ارب روپے مالیت کے پشاور بحالی پروگرام کو تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے حتمی شکل دی گئی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ اس پلان میں شامل تمام منصوبوں پر بروقت کام شروع کرکے انہیں مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پشاور ری وائیٹلائیزیشن پلان شہری اور دیہی مسائل کے حل کا ایک جامع منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق مڈل کلاس سے ہے اور وہ عوام کو درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نیا مالی سال صوبے کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے خلاف پہلے دن سے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے تاہم انہوں نے تمام جھوٹے بیانیوں کو ناکام بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سیاسی سپیس نہیں دی جا رہی کیونکہ وہ اپنے مو¿قف اور نظریے پر ثابت قدم ہیں۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جعلی وفاقی حکومت ملک و قوم پر بوجھ بن چکی ہے اور اس کے پاس کوئی موثر پالیسی موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلط شدہ حکمرانوں کے پاس کرپشن کے سوا نہ کوئی منصوبہ ہے اور نہ ہی کوئی پالیسی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئی ایم ایف رپورٹ میں 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشان دہی کی گئی ہے۔ ملکی پاپولیشن گروتھ 2.5 فیصد جبکہ جی ڈی پی 3.7 فیصد کے لگ بھگ ہے جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی برآمدات میں کمی آ رہی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں درآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو جعلی حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے۔ صوبائی وزیر برائے بلدیات مینا خان آفریدی اور دیگر نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور پشاور ری وائیٹلائیزیشن پلان کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی۔

.

.

دریں اثنا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت پختونخوا ہاوس اسلام آباد میں پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس رات گئے تک جاری رہا جس میں صوبے کے آئینی، مالی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر محاذ پر آخری حد تک جانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کے طرز عمل، صوبائی بجٹ سے متعلق پیدا ہونے والی صورتحال، ترقیاتی فنڈز میں ممکنہ کٹوتیوں اور سیاسی حالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ وفاق کے خلاف بھرپور سیاسی اور قانونی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بجٹ سے متعلق آئینی و قانونی امور کے جائزے کے لیے ماہرین قانون پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اگر عمران خان سے ملاقات نہ ہونے دی گئی تو ماہرین قانون کی خصوصی ٹیم صوبائی بجٹ سے متعلق تمام آئینی و قانونی آپشنز کا تفصیلی جائزہ لے گی اور صوبے کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے جامع قانونی لائحہ عمل تیار کرے گی۔

اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ خیبرپختونخوا کے بجٹ پر شب خون مارنے یا صوبے کے ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی کی کسی بھی کوشش کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور اس حوالے سے کوئی فیصلہ عمران خان سے مشاورت کے بغیر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔پارلیمانی پارٹی نے واضح کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے صوبے کے عوامی مینڈیٹ، مالی حقوق اور ترقیاتی مفادات پر قدغن لگانے کی کوشش کی تو اسے سخت سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو ہر سیاسی، آئینی اور عوامی فورم پر بے نقاب کیا جائے گا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام آئینی و جمہوری راستے اختیار کیے جائیں گے اور کسی بھی غیر آئینی اقدام کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ سال 2026۔27 خیبرپختونخوا میں ترقی، امن اور عوامی خوشحالی کا سال ہوگا اور تمام تر رکاوٹوں، سیاسی دباو  اور مالی مشکلات کے باوجود صوبے کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفادات اور ترقیاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی سال 2026۔27 کے بجٹ کو سرپلس بجٹ نہیں رکھا جائے گا بلکہ عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ عمران خان کو کس قانونی جواز کے تحت تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان سے ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی گئی ہے۔پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے پرامن احتجاج روکنے کے لیے طاقت کے استعمال اور فسطائی طرز عمل کی شدید مذمت کی گئی۔

اجلاس میں کہا گیا کہ پرامن احتجاج کرنے والے عوامی نمائندوں پر بدترین لاٹھی چارج جمہوری اقدار پر حملہ اور ریاستی جبر کی بدترین مثال ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ لاٹھی چارج کے نتیجے میں مینا خان آفریدی، ڈاکٹر حمید، طفیل انجم اور داو¿د آفریدی سمیت متعدد ارکان اسمبلی زخمی ہوئے جبکہ بعض ارکان کو فریکچر بھی آئے۔ اجلاس میں زخمی ارکان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ سیاسی انتقام، ریاستی جبر اور طاقت کے استعمال سے عوامی نمائندوں کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔