The Voice of Chitral since 2004
Friday, 12 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبے کیلئے گندم اور گیس کی بندش کے خلاف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور مولانا فضل الرحمن کا مشترکہ پریس کانفرنس

Chitral Times

صوبے کیلئے گندم اور گیس کی بندش کے خلاف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور مولانا فضل الرحمن کا مشترکہ پریس کانفرنس

صوبے کیلئے گندم اور گیس کی بندش کے خلاف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور مولانا فضل الرحمن کا مشترکہ پریس کانفرنس

صوبے کیلئے گندم اور گیس کی بندش کے خلاف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور مولانا فضل الرحمن کا مشترکہ پریس کانفرنس

۔

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے گزشتہ رات مفتی محمود مرکز میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات کا مقصد صوبے کے آئینی و مالی حقوق کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کرنا اور ان امور پر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا تاکہ صوبے کے مفادات کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حقوق میں سب سے اہم مسئلہ خیبرپختونخوا کا این ایف سی میں حصہ ہے اور گزشتہ آٹھ سال سے وفاق خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچیسویں آئینی ترمیم کے بعد این ایف سی کے تحت ہر سال ہونے والی وسائل کی تقسیم غیر آئینی ہے کیونکہ آئین واضح طور پر یہ تقاضا کرتا ہے کہ این ایف سی کا حصہ چاروں صوبوں میں تقسیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سن 2018 میں پچیسویں آئینی ترمیم کے تحت سابق فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام ہوا جس کے نتیجے میں 60 لاکھ سے زائد آبادی صوبے کا حصہ بنی، تاہم آج بھی ضم اضلاع کا حق خیبرپختونخوا کو دینے کے بجائے دیگر صوبے آپس میں تقسیم کر رہے ہیں اور صوبے کو اس کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ اسی معاملے پر وفاقی وزیر کے ساتھ بھی ان کی تفصیلی گفتگو ہوئی اور انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ این ایف سی ایوارڈ عملاً غیر موثر اور متروک ہو چکا ہے، لہٰذا اسے فوری طور پر اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے یا گیارہواں این ایف سی ایوارڈ تشکیل دیا جانا چاہیے۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کے لیے گندم کی فراہمی مسلسل روکی جا رہی ہے، جو آئین کے آرٹیکل 151 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک غیر آئینی اقدام ہے اور اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مکمل اتفاق رائے پایا گیا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر دونوں جماعتیں مشترکہ آواز اٹھائیں گی اور اس غیر آئینی اقدام کے خلاف جدوجہد کریں گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ دوسرا اہم مسئلہ گیس کی بندش کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 158 واضح طور پر کہتا ہے کہ جو صوبہ گیس پیدا کرتا ہے، اس صوبے کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس گیس کے استعمال کا پہلا حق حاصل ہوتا ہے اور اضافی گیس بعد ازاں ملک کے دیگر حصوں کو فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا روزانہ پانچ سو ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے جبکہ صوبے کی مجموعی کھپت صرف ایک سو پچاس ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حساب سے خیبر پختونخوا ساڑھے تین سو ایم ایم سی ایف ڈی گیس ملک کے دیگر حصوں کو فراہم کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا میں مسلسل گیس لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس مسئلے پر بھی مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مکمل اتفاق رائے پایا گیا ہے اور اس حوالے سے بھی مشترکہ موقف اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع کو درپیش دیگر مسائل پر بھی مولانا فضل الرحمن کے ساتھ تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا، بالخصوص ضم اضلاع کے عوام کے آئینی، مالی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ساتھ اتفاق رائے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت دینی مدارس کی رجسٹریشن کے لیے قانون سازی کی حمایت کرے گی اور اس سلسلے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے گی۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ بجٹ صوبے کے عوام کا حق ہے اور عوام نے جس قیادت کو ووٹ دے کر اپنا مینڈیٹ دیا ہے، اس کے ساتھ بجٹ پر مشاورت کرنا ہمارا فرض بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہم قومی اور مالی فیصلوں سے قبل قائد عمران خان سے رجوع کرنا ایک جمہوری روایت ہے اور صوبائی حکومت اسی اصول کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔