The Voice of Chitral since 2004
Friday, 24 July 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خیبرپختونخوا ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030 کا باضابطہ اجراءکر دیا گیا

Chitral Times

خیبرپختونخوا ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030 کا باضابطہ اجراءکر دیا گیا

خیبرپختونخوا ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030 کا باضابطہ اجراءکر دیا گیا

خیبرپختونخوا ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030 کا باضابطہ اجراءکر دیا گیا

.
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030 کا باضابطہ اجراءکر دیا ہے اور اسے صوبے میں ڈیجیٹل حکمرانی، شفاف انتظامی نظام اور پائیدار ڈیجیٹل معیشت کے قیام کی جانب ایک تاریخی اور فیصلہ کن پیش رفت قرار دیا ہے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پالیسی کی اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی نہ صرف پاکستان کی جامع ترین ڈیجیٹل پالیسیوں میں شامل ہے بلکہ آئندہ برسوں میں خیبرپختونخوا کو جدید، موثر، شفاف اور عوام دوست طرزِ حکمرانی کی جانب لے جانے کے لیے ایک مکمل روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔

وزیر اعلیٰ ہاو¿س پشاور میں منعقدہ پالیسی کے اجراءکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے وژن “ڈیجیٹل خیبرپختونخوا” کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ اور متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انتہائی جامع مشاورت، بین الاقوامی جدید رجحانات اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا یہ روڈ میپ صوبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کا بنیادی سنگِ میل ثابت ہوگا۔ خیبرپختونخوا ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030 پانچ اسٹریٹجک ستونوں، نو بنیادی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز اور 915 اسٹریٹجک انٹروینشنز پر مشتمل ہے۔ اس میں واضح اہداف، قابلِ عمل ٹائم لائنز، ادارہ جاتی ذمہ داریوں اور      مو ثر مانیٹرنگ کے جامع فریم ورک کو شامل کیا گیا ہے تاکہ ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو مرحلہ وار، مربوط اور پائیدار انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ پیپر لیس گورننس اور ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے سرکاری نظام میں شفافیت، جوابدہی، رفتار اور کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری معاملات میں انسانی مداخلت جتنی کم ہوگی، میرٹ، شفافیت اور احتساب اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت تمام سرکاری خدمات کو مرحلہ وار آن لائن اور سٹیزن سنٹرک بنائے گی تاکہ شہریوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر آسان، تیز رفتار اور معیاری سہولیات میسر آسکیں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ مجوزہ روڈ میپ کے تحت انٹرونشنز کا ایک مثبت اور اہم ترین پہلو یہ ہے کہ دور دراز علاقوں کے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر لگانے سے نجات مل جائے گی اور وہ گھر بیٹھے مطلوبہ خدمات و سہولیات اور معلومات سے استفادہ کر سکیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں کا فروغ مستقبل کی معیشت کی بنیادی ضرورت ہے، اسی لیے حکومت نوجوانوں کو عالمی معیار کی ڈیجیٹل صلاحیتوں سے آراستہ کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے نتیجے میں نوجوانوں کے لیے روزگار، فری لانسنگ، کاروبار اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے صوبے کی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹائزیشن صرف بہتر طرزِ حکمرانی ہی نہیں بلکہ مالی وسائل کے موثر استعمال، سرکاری اخراجات میں کمی اور کاغذ کے کم استعمال کی وجہ سے جنگلات و ماحول کے تحفظ کا بھی موثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ روڈ میپ ایک جدید، ماحول دوست، جدت پر مبنی اور پائیدار ڈیجیٹل معیشت کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔وزیراعلیٰ نے صوبے میں ڈیجیٹل اصلاحات کے مثبت نتائج اور مالی نظم و نسق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے کوئی نیا ٹیکس عائد کیے بغیر گزشتہ مالی سال میں 129 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے ریونیو جمع کیا، جو حکومتی اصلاحات اور بہتر مالی نظم و نسق پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے لیے بھی نیا ٹیکس عائد کیے بغیر ریونیو کا ہدف 180 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ حکومت کو توقع ہے کہ وصولیاں 200 ارب روپے تک پہنچ جائیں گی۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کی سہولت، شفاف حکمرانی اور بہتر انداز میں خدمات کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل اصلاحات کا عمل مزید تیز کیا جائے گا۔ قبل ازیں تقریب کے شرکاءکو پالیسی کے اہم فیچرز پر بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ڈیجیٹل کے پی 2030 کے تحت سرکاری خدمات، مالی لین دین اور انتظامی نظام کی مکمل ڈیجیٹائزیشن کے ساتھ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ انہیں قومی اور عالمی ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اسی طرح یہ پالیسی گرین آئی سی ٹی پروکیورمنٹ، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی، ماحول دوست ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے فروغ اور کاربن کریڈٹ رجسٹری کے قیام جیسے حکومتی اہداف کے حصول کا موثر ذریعہ بنے گی جو خیبرپختونخوا کو جدید، پائیدار اور ماحول دوست ڈیجیٹل معیشت کی جانب گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ واضح رہے ڈیجیٹل پالیسی اینڈ روڈ میپ ایک مطبوعہ کتاب کی شکل میں فراہم کرنے کے بجائے ایک کیو آر کوڈ کے ذریعے متعلقہ دستاویزات تک ڈیجیٹل رسائی دی گئی ہے جو پالیسی کے بنیادی مقصد کا عملی مظاہرہ ہے۔

chitraltimes cm kp sohail afridi launched kp digital transformation policy