خیبرپختونخوا پولیس میں 4306 نئے کانسٹیبلز کی بھرتی مکمل، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے تقرری کے حکمنامے تقسیم کردیئے
دہشت گردی ہم پر مسلط کی گئی ،امن کے مکمل قیام تک جدوجہد جاری رہے گی، پولیس کسی دباؤ کے سامنے نہ جھکے، عوام کے ساتھ انصاف، احترام اور خوش اخلاقی کو شعار بنائیں،وزیراعلیٰ کا نئے اہلکاروں سے خطاب
۔
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا پولیس فورس کی افرادی قوت اور آپریشنل استعداد میں اضافے کے سلسلے میں اہم پیش رفت کے تحت صوبے کے آٹھوں ڈویژنز سے بھرتی کیے گئے 4306 پولیس کانسٹیبلز میں تقرری کے حکمنامے تقسیم کیے۔ اس سلسلے میں پشاور میں منعقدہ تقریب سے اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے پولیس فورس میں بھرتی کئے گئے نئے اہلکاروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اُمید ہے جس میرٹ، شفافیت اور اہلیت کی بنیاد پر ان کی بھرتی عمل میں آئی ہے، وہ اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی میں بھی اسی میرٹ، شفافیت، دیانتداری، ایمانداری اور فرض شناسی کو برقرار رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق میرٹ اور شفافیت کو ہر شعبے میں اولین ترجیح دی جا رہی ہے اور صوبائی حکومت کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت یا اقربا پروری کی بجائے صرف اہلیت کو معیار بنا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ میرٹ اور شفافیت کی بالادستی کا ہی نتیجہ ہے کہ آج خیبرپختونخوا پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور اسپیشل برانچ اپنی غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیت، بہادری اور کارکردگی کی بدولت ملک بھر میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ انہوں نے نئے اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ ایک عظیم، باوقار اور قربانیوں سے بھرپور فورس کا حصہ بن رہے ہیں، اس لیے وہ ہر حال میں اس ادارے کی عزت، وقار، نظم و ضبط اور روایات کا تحفظ کریں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف صف اول میں برسرپیکار ہے اور اس فورس نے ملک میں امن کے قیام کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ بند کمروں میں کیے جانے والے فیصلوں نے ملک کو بدامنی کی طرف دھکیلا، تاہم خیبرپختونخوا پولیس نے گزشتہ 22 برس کے دوران دہشت گردی کے خلاف بے مثال جرات، استقامت اور قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خیبرپختونخوا پولیس کے شہداء، غازیوں اور تمام جوانوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے نئے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے مقصد پر ثابت قدم رہیں، کسی بھی دباو یا غیر قانونی مداخلت کے سامنے نہ جھکیں اور جرائم کے خاتمے، دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی اور قانون کی بالادستی کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی ہم پر مسلط کی گئی ہے اور صوبائی حکومت امن کے مکمل قیام تک اس ناسور کے خلاف اپنی جنگ پوری قوت سے جاری رکھے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک اچھے پولیس اہلکار کی اصل پہچان عوام کے ساتھ خوش اخلاقی، احترام، غیر جانبداری اور انصاف پر مبنی رویہ ہے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت پولیس فورس کی استعداد، فلاح و بہبود اور پیشہ ورانہ ضروریات کی تکمیل کے لیے ہر سطح پر مکمل معاونت جاری رکھے گی۔ محمد سہیل آفریدی نے پولیس فورس میں خواتین کانسٹیبلز کی شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے انٹرن شپ پالیسی، بلاسود قرضوں اور دیگر حکومتی پروگراموں میں مساوی مواقع اور بھرپور حصہ یقینی بنایا جائے گا تاکہ وہ قومی ترقی میں اپنا موثر کردار ادا کر سکیں۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ملکی سیاسی صورتحال پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، تاہم گزشتہ78 برس کے دوران جمہوری عمل کو مسلسل محدود کیا جاتا رہا اور اس کا ملبہ سیاستدانوں پر ڈالا جاتا رہا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے انصاف کے حصول کے لیے ہر قانونی دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن انہیں انصاف فراہم نہیں کیا جا رہا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ 26 نومبر اور 9 مئی کے واقعات میں نہتے کارکنوں پر فائرنگ کی گئی، جبکہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتی نظام کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جلسوں پر ایف آئی آرز درج کی جاتی ہیں، یہاں تک کہ کم عمر بچوں کو بھی مقدمات میں نامزد کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب ڈرون حملوں میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجود متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ملک میں قانون کی یکساں حکمرانی، انصاف کی فراہمی اور آئین کی بالادستی ہی پائیدار امن اور جمہوری استحکام کی ضمانت ہے۔