وزیراعلیٰ کا کرپٹ افسران کے خلاف کاروائی کا حکم، مسائل کے حل کیلئے وزرا ہر ماہ کم از کم سات اضلاع کا دورہ کریں گے، ہدایات جاری
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے نئے مالی سال کے لیے حکومتی پالیسی ترجیحات واضح کرتے ہوئے کابینہ اراکین اور انتظامی سیکرٹریز کو عوامی خدمت، شفافیت، میرٹ، ترقیاتی منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد اور مو ثر سروس ڈیلیوری سے متعلق اہم ہدایات جاری کی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ نئے مالی سال میں صوبائی حکومت کی تمام پالیسیوں، فیصلوں اور اقدامات کا محور عوامی مفاد اور شہریوں کا اطمینان ہوگا جبکہ کرپشن، نااہلی اور ناقص کارکردگی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔صوبائی کابینہ کے اراکین اور تمام محکموں کے انتظامی سیکرٹریز کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی بجٹ کی منظوری اور نئے مالی سال کے آغاز کے بعد حکومت کو عمران خان کے وژن کے مطابق اپنی ترجیحات اور اہداف کے حصول کے لیے پوری توجہ اور تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔
انہوں نے وزراء، مشیران، معاونین خصوصی اور انتظامی سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطہ اور کوآرڈینیشن مضبوط بنائیں اور تمام فیصلے باہمی مشاورت، میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کریں۔وزیراعلیٰ نے کرپشن کے خلاف سخت مو ¿قف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سطح پر کرپشن اور بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی اور محکموں میں کرپشن کے تمام چھوٹے بڑے راستے بند کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سروس ڈیلیوری، مالی معاملات یا کسی بھی دوسری شکل میں بدعنوانی پر کوئی رعایت نہیں ہوگی۔
وزیراعلیٰ نے وزراء، مشیران اور انتظامی سیکرٹریز کو اختیار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ کرپٹ، نااہل، ناقص کارکردگی کے حامل اور عوامی توقعات پر پورا نہ اترنے والے افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، چاہے وہ کسی کے بھی منظورِ نظر ہوں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ محکموں اور حکومتی عہدیداروں کی کارکردگی کا اصل معیار پریزنٹیشنز، واٹس ایپ، سوشل میڈیا یا دفتری رپورٹس نہیں بلکہ عوام کا اطمینان ہوگا۔ عوام حکومتی خدمات اور اقدامات سے مطمئن ہوں گے تو حکومت بھی محکموں کی کارکردگی سے مطمئن ہوگی، لیکن اگر عوام مطمئن نہ ہوں تو اچھی سے اچھی پریزنٹیشن اور رپورٹ کا کوئی فائدہ نہیں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تمام حکومتی فیصلے عوامی مفاد میں کیے جائیں اور شہریوں کو ان کی دہلیز پر خدمات اور ریلیف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کو مو ¿ثر اور بروقت ریلیف فراہم کرنے کے لیے محکموں کی تنظیمِ نو، اصلاحات اور ڈیجیٹائزیشن سمیت جو اقدامات ضروری ہوں کیے جائیں۔ صوبائی حکومت اور چیف سیکرٹری کی جانب سے ایسے تمام اقدامات کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اصلاحات کا حتمی مقصد عوام کی سرکاری خدمات تک رسائی آسان بنانا اور سروس ڈیلیوری میں نمایاں بہتری لانا ہونا چاہیے۔وزیراعلیٰ نے حکومتی اقدامات اور کارکردگی کی موثر تشہیر پر خصوصی زور دیتے ہوئے تمام محکموں کو جامع کمیونیکیشن اسٹریٹجی مرتب کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ محکمے عوام کو اپنی اصلاحات، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مفاد کے اقدامات سے موثر انداز میں آگاہ کریں کیونکہ عوام کسی اصلاح، سہولت یا حکومتی اقدام سے اس وقت تک مکمل طور پر مستفید نہیں ہو سکتے جب تک انہیں اس کے بارے میں آگاہی اور اس سے استفادے کے طریقہ کار کا علم نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بہترین کارکردگی کے باوجود اگر عوام حکومتی اقدامات اور دستیاب سہولیات سے لاعلم ہوں تو نہ صرف ان اقدامات کے مطلوبہ ثمرات عوام تک پہنچ سکتے ہیں بلکہ حکومت کو اپنی کارکردگی کا مطلوبہ کریڈٹ بھی نہیں مل سکتا۔ اس لیے ہر محکمہ اپنی کمیونیکیشن اسٹریٹجی مضبوط بنائے اور خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر کے عوام کو حکومتی اصلاحات، منصوبوں، اقدامات اور دستیاب سہولیات سے موثر انداز میں آگاہ کرے۔
وزیراعلیٰ نے تمام وزراءکو ہدایت کی کہ وہ دفاتر میں بیٹھ کر اجلاسوں تک محدود رہنے کے بجائے فیلڈ میں جائیں اور ہر ماہ کم از کم سات اضلاع کے دورے یقینی بنائیں۔ وزراءضلعی دوروں کے دوران متعلقہ افسران اور عوام سے ملاقاتیں کریں، شہریوں کے مسائل سنیں اور ان کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے تمام وزراءکو اپنے ضلعی دوروں کا باقاعدہ شیڈول مرتب کرکے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ اور چیف سیکرٹری آفس کو فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
وزیراعلیٰ نے ہر محکمہ کو اپنا کمپلینٹ سیل قائم کرکے اسے وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل سے منسلک کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوامی شکایات، ان کے ازالے کے لیے کیے گئے اقدامات اور شہریوں کے اطمینان کا روزانہ کی بنیاد پر خود جائزہ لیں گے۔ عوامی شکایات کا بروقت ازالہ نہ ہونے کی صورت میں ذمہ دار افسران کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ترقیاتی پروگرام سے متعلق ہدایات دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی بجٹ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام میں حکومت کی ترجیحات واضح ہیں اور تمام محکمے اپنے ترقیاتی منصوبوں پر تیز رفتار اور نتیجہ خیز عملدرآمد یقینی بنائیں۔
انہوں نے خصوصی طور پر عمران خان کے وژن کے عکاس سگنیچر منصوبوں پر فوری اور ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان منصوبوں پر عملدرآمد میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام محکمے رواں مالی سال کے دوران ڈی ایف سی اسکیموں کی تکمیل یقینی بنائیں جبکہ نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے واضح ٹائم لائنز مرتب کی جائیں جن میں منصوبوں کو حتمی شکل دینے اور عملی کام کے آغاز کی مدت واضح ہو۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کی جانب سے کسی معاملے پر رابطہ کیے جانے کی صورت میں متعلقہ محکمہ 24 گھنٹوں کے اندر نتیجہ اور پیش رفت یقینی بنائے۔
وزیراعلیٰ نے سی ایم گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت طے شدہ اقدامات پر موثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے اپنے اہداف اور اقدامات سے مکمل آگاہی حاصل کریں اور ان پر مقررہ مدت کے اندر عملدرآمد کریں۔ انہوں نے ضلعی سطح پر سروس ڈیلیوری کی بہتری پر بھی خصوصی توجہ دینے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنانے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کے تمام محکمے محنت کر رہے ہیں اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے اہم اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، تاہم ان اقدامات اور کامیابیوں کو موثر انداز میں عوام تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جاری کردہ ہدایات اور مقررہ اہداف پر عملدرآمد کا تین ماہ بعد دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ تمام وزرائ، مشیران، معاونین خصوصی اور انتظامی سیکرٹریز کی کارکردگی کا جائزہ دی گئی ہدایات اور اہداف پر پیش رفت کی بنیاد پر لیا جائے گا اور اسی کے مطابق سزا و جزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔صوبائی کابینہ اراکین ، چیف سیکرٹری ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور صوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اجلاس میں شریک ہوئے ۔
