حساس مقامات پر سیلاب سے بچاؤ کے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں، وزیراعلیٰ کی محکمہ ریلیف ہدایات
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ صدارت محکمہ ریلیف، بحالی و سیٹلمنٹ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ عالمی سطح پر ایندھن کے ممکنہ بحران کے پیش نظر صوبائی حکومت کی طرف سے نافذ العمل کفایت شعاری مہم کے تحت اجلاس کا آن لائن انعقاد کیا گیا اور تمام متعلقہ حکام نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کے دوران محکمہ ریلیف، بحالی و سیٹلمنٹ کے کلیدی فرائض، اس کے ذیلی اداروں، جاری ریلیف سرگرمیوں، اصلاحاتی اقدامات اور دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں ممکنہ کلاوڈ برسٹ اور فلیش فلڈز کے خدشات کے پیش نظر آئندہ موسم گرما کے لیے جامع کنٹنجینسی پلان بروقت تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے ہدایت کی کہ حساس مقامات پر ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے اور اس سے بچاو کے لیے موثر اور دیرپا اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف روایتی حفاظتی دیوار کھڑی کر دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ دیوار کس حد تک موثر ہے اور مزید کیا کیا جا سکتا ہے تا کہ عوام کے جان و املاک سیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ خصوصی طور پر دریاوں کے کنارے حساس مقامات کا جائزہ لیا جائے، دریا کی اندرونی سطح یا ساحل پر صفائی وغیرہ کی ضرورت ہو تو اس مقصد کے لیے محکمہ معدنیات اور اریگیشن مل کر اقدامات کریں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ماہِ رمضان کے فوری بعد تمام ریور بیڈز اور بڑے شہروں میں تجاوزات کے خلاف موثر اور منظم مہم کا آغاز کیا جائے تاکہ قدرتی آفات کی صورت میں ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے اور شہریوں کو تکلیف سے بچایا جا سکے۔اجلاس میں مختلف اضلاع میں عارضی طور پر بے گھر افراد (ٹی ڈی پیز) کو معاوضوں کی فراہمی کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ معاوضوں کی ادائیگی کے عمل کو تیز کیا جائے، اس سلسلے میں دیگر متاثرہ اضلاع کی ضروریات کا بھی جائزہ لیا جائے اور شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے درکار وسائل کی تفصیل پیش کی جائے۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اس موقع پر واضح کیا کہ صوبائی حکومت متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کے لیے ضروری وسائل کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔اجلاس میں ریجنز کی سطح پر ویئر ہاو¿سز کے قیام کی تجویز پر بھی تفصیلی غور کیا گیا جس سے وزیر اعلیٰ نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ویئر ہاو¿سز کا قیام ناگزیر ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ویئر ہاوسز ایسے مرکزی مقامات پر قائم کیے جائیں جہاں سے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت اور موثر رسائی ممکن ہو سکے۔ وزیر اعلیٰ نے سیلاب متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی اور جاری ریلیف سرگرمیوں کے لیے درکار وسائل کی بھی اصولی منظوری دی۔اجلاس کے دوران انسانی وسائل اور محکمانہ اثاثہ جات کی موثر نگرانی اور بہتر انتظام کے لیے ایک جامع ڈیش بورڈ تیار کرنے اور محکمانہ امور کو بتدریج ڈیجیٹل نظام میں منتقل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ متعلقہ حکام ڈیش بورڈ کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیں تاکہ ہنگامی حالات میں کسی بھی قسم کی کمی یا تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ریسکیو سروس کی بہتری کے لیے جاری اقدامات کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں ریسکیو 1122 کی ایک ہزار تین سو چھبیس (1326) آسامیوں پر بھرتیوں کا عمل جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بھرتیوں کے جاری عمل کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی اور دوسرے مرحلے میں مزید 1125 نئی آسامیوں کی تخلیق سے بھی اتفاق کیا۔ اجلاس میں ریسکیو سروسز کے لیے میڈیکل موٹر بائیکس کی خریداری کے جاری عمل کے لیے درکار فنڈز فراہم کرنے جبکہ تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کی سطح پر بھی مذکورہ میڈیکل موٹر بائیکس کی فراہمی کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں صوبے میں سول ڈیفنس دفاتر کے قیام کی تجویز پر بھی غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ریسکیو مراکز میں ہی اضافی کمرے تعمیر کیے جائیں تاکہ سول ڈیفنس کے دفاتر وہاں قائم کیے جا سکیں، اس حکمت عملی سے نہ صرف وقت کی بچت ہو گی بلکہ وسائل کا بھی مو¿ثر استعمال ممکن بنایا جا سکے گا۔
وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کا اجلاس بھی جلد طلب کرنے اور اس مقصد کے لیے تفصیلی ورکنگ پیپر تیار کرنے کی ہدایت جاری کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ تحصیل کی سطح پر ریسکیو 1122 کے دفاتر کے قیام پر پیش رفت جاری ہے اور سال 2027 میں صوبے کی تمام تحصیلوں میں یہ دفاتر موجود ہوں گے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ صوبے میں پانچ سالہ ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پلان(DRRP) اور پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان (PDMP)کی تشکیل پر کام جاری ہے۔ یہ پلان متعلقہ فورمز سے منظوری کے بعد حتمی منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیے جائیں گے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا پانچ سالہ ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان مرتب کرنے والا ملک کا پہلا صوبہ بننے جا رہا ہے۔