وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے زیر صدارت اجلاس، “پینے کا صاف پانی سب کے لیے” کے وژن کے تحت غیر فعال واٹر سپلائی سکیموں کو ہنگامی بنیادوں پر فعال بنانے کا فیصلہ
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت صوبے میں غیر فعال واٹر سپلائی سکیموں سے متعلق ایک اہم اجلاس جمعہ کے روز وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا جس میں “پینے کا صاف پانی سب کے لیے” کے وژن کے تحت غیر فعال واٹر سپلائی سکیموں کو ہنگامی بنیادوں پر فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر برائے بلدیات ارشد ایوب خان، وزیر برائے آبنوشی پختون یار خان، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پہلے مرحلے میں 572 جاری آبنوشی ا سکیموں کو مکمل کر کے فعال بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس مقصد کے لیے درکار وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ان سکیموں کو رواں مالی سال کے اندر مکمل طور پر فعال بنایا جائے۔ علی امین گنڈاپور نے آبنوشی کی مزید 942 غیر فعال سکیموں کو فعال بنانے کیلئے بھی فوری طور پر نان اے ڈی پی سمری پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ منصوبے کے تحت تمام ریجنز میں غیر فعال اسکیموں کو فعال بنانے پر کام شروع کیا جائے گا ۔ انہوں نے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے واضح اہداف، سکوپ آف ورک اور ٹائم لائنز پر مشتمل مکمل پلان پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ا سکیموں پر پیش رفت کو باقاعدگی سے مانیٹر کیا جائے گا اور اس سلسلے میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا تاخیر کی گنجائش نہیں ہو گی۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو صاف پانی کی فراہمی پر خطیر سرمایہ کاری کر رہی ہے، نتائج بھی اس کے مطابق ہونے چاہئیں، اس مقصد کے حصول کے لیے سکیموں پر عمل درآمد میں شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، تمام متعلقہ محکمے اپنی سکیموں کی بروقت اور معیاری تکمیل کے ذمہ دار ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے واٹر سپلائی سکیموں کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کے لیے آن لائن سسٹم بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ واٹر سپلائی سکیموں پر مامور اہلکاروں کو ذمہ داریوں کا پابند اور جوابدہ بنانا ناگزیر ہے۔ اُنہوں نے مزید ہدایت کی کہ صوبے میں فعال واٹر سپلائی سکیموں کی بروقتضروری مرمت و بحالی کا بھی مستقل اور شفاف نظام وضع کیا جائے، عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی حکومت کے ترجیحی اہداف میں شامل ہے، اگر ہم غیر فعال ٹیوب ویلز کو فعال کر لیں تو صوبے میں پانی کا کوئی مسئلہ نہیں رہے گا، اس مقصد کے لیے تمام ذمہ دار محکموں کو اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنا ہوں گی۔
بھارتی حکومت کی طرف سے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے اور پاکستان میں دہشتگردی کی سرپرستی اور اوچھے ہتھکنڈوں سے متعلق وزیر اعلی علی امین گنڈاپورکا پالیسی بیان جاری
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) بھارتی حکومت کی طرف سے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے اور پاکستان میں دہشتگردی کی سرپرستی اور اوچھے ہتھکنڈوں سے متعلق وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اس پورے خطے کے اندر جتنی بھی دہشتگردی ہو رہی ہے اس میں ہمیشہ سے انڈیا ملوث رہا ہے۔ “میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے اُمور کا بھی وزیر رہا ہوں، اب فیٹف کو خط بھی لکھ رہا ہوں اور ساتھ خود وہاں پر جاکر وضاحت سے بتاوں گا کہ تم کشمیر اور گلگت بلتستان میں کیا کر رہے ہو اورکیا کیا ہے”۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان میں جتنی بھی دہشت گردی ہو رہی ہے اس میں بھارت ملوث ہے،خاص طور پر انڈیا نے افغانستان کے اندر سو سے زیادہ سفارتخانے کھولے ہوئے تھے، وہاں پہ بھارت کی طرف سے تجارت ہو رہی تھی نہ ہی سرمایہ کاری یا سفارت کاری، بلکہ بھارت ان سفارتخانوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے کام کر رہا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے انڈین حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا “میں یہ بھی ایکسپوز کروں گا کہ پورے پاکستان بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے اندر دہشتگردی میں تمھارا کیا کردار ہے، میں یہ سب کچھ وہاں پہ خود جا کے ایکسپوز کروں گا، میں پوری دنیا کو بتاوں گا کہ پاکستان کے دفاع کے لیے ہمارا لیڈر عمران خان ہماری پوری پارٹی اور پوری قوم سب کے سب متحد ہیں”۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ابھی حال ہی میں تم نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کیا جس میں تمہیں بری طرح شکست ہوئی۔ عمران خان ، ہماری پوری قوم اور ہماری دفاعی فورسز نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہم تمہارا بندوبست کرنا جانتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس پورے خطے کے اندر دہشت گردی میں انڈیا ملوث ہے۔ چاہے وہ چائنیز پہ حملے ہوں، کسی تنصیبات پہ حملے ہوں یا کسی اور طرح کی دہشت گردی، اس سب کے تانے بانے انڈیا سے ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پختونوں نے کشمیر کو آزاد کرایا تھا۔ انشاءاللہ وقت آئے گا کہ یہ جو باقی کشمیر ہے، ہم پختون اس کو بھی آزاد کروائیں گے۔ علی امین گنڈاپور نے مودی کو مخاطب کر کے کہا “میں تمہیں پیغام دے رہا ہوں کہ ہم تمہاری طرح بزدل نہیں ہیں کہ ہم رات کی تاریکی میں آئیں۔ ہم نعرہ لگاتے ہوئے اگلے کو بتا کے آتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ فتح ہمیشہ سچ اور حق کی ہوتی ہے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندر انڈیا جو دہشتگردی پھیلا رہا ہے اس کے خاتمے کے لیے ہمارے عوام اور ہماری فورسز بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس ملک میں جتنی حکومتیں ہیں وہ ساری حکومتیں، پوری قوم اور تمام دفاعی ادارے پاکستان کے دفاع کے لیے متحد اور ایک ہیں۔ “میں مودی کو پھر سے پیغام دیتا ہوں کہ پاکستان کے دفاع کے لیے ہم سب ایک ہیں۔ میں تمہیں اور تمہاری حکومت کو بھی ایکسپوز کروں گا۔ تم نے تو سیاق و سباق سے ہٹ کر ایک غلط بیانیہ پیش کر کے پاکستان کو فیٹف گرے لسٹ میں ڈالوانے کی کوشش کی ہے۔ میں بنفس نفیس وہاں جا کر بتاوں گا اور ثابت کروں گا کہ دہشتگردی کے حوالے سے فیٹف گرے لسٹ میں جانے کے لیے تم سو فیصد فٹ ہو اور انشاءاللہ میں تم کو فیٹف گرے لسٹ میں ڈلواوں گا۔ وزیر اعلیٰ نے مودی سے کہا کہ آج مجھے عمران خان کی وہ بات یاد آرہی، عمران خان نے آپ کے بارے میں بالکل ٹھیک کہا تھا کہ “Small man in big office”
