وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا صوبے میں گھروں کی سولرائزیشن منصوبے کے تحت اہل گھرانوں کو مجوزہ سولر سسٹم کی فراہمی کا عمل جلد شروع کرنے کی ہدایت
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے میں گھروں کی سولرائزیشن منصوبے کے تحت اہل گھرانوں کو مجوزہ سولر سسٹم کی فراہمی کا عمل جلد شروع کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس مقصد کے لیے تمام تقاضے بلاتاخیر مکمل کیے جائیں۔ جمعہ کے روز وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں منصوبے پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ مستحق آبادی کے گھروں کی سولرائزیشن عوام کو ریلیف دینے کے سلسلے میں صوبائی حکومت کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جس کی بروقت تکمیل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت عوام کو سہولیات کی فراہمی پر خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے، اس کے ثمرات بھی مستحقین تک بروقت پہنچنے چاہئیں، عوامی مفاد کے حامل منصوبوں کی ڈاکومنٹیشن میں غیر ضروری تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ اجلاس میں منصوبے پر اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت صوبہ بھر بشمول ضم اضلاع میں مجموعی طور پر ایک لاکھ تیس ہزار مستحق گھرانوں کو سولر یونٹس فراہم کیے جائیں گے۔ منصوبے کے تحت پہلی کیٹیگری میں 65 ہزار گھرانوں کو سو فیصد مفت اور دوسری کیٹیگری میں 65 ہزار گھرانوں کو آدھی قیمت اور آسان اقساط پر سولر یونٹس دیے جائیں گے۔
اس موقع پر بتایا گیا کہ منصوبے کا پی سی ون تیار ہے جس کی پی ڈی ڈبلیو پی کے آئندہ اجلاس میں منظوری لی جائے گی۔ اسی طرح اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ اے آئی پی کے تحت ضم اضلاع کے لیے ایک علیحدہ سولرائزیشن منصوبے پر بھی پیش رفت جاری ہے، منصوبے کے تحت ضم اضلاع کے ایک لاکھ بیس ہزار مستحق گھرانوں کی سولرائزیشن شامل ہے۔ ضم اضلاع کے لیے یہ سولرائذیشن منصوبہ صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں مذکورہ سولرائزیشن منصوبوں کے اہم پہلوؤں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سولرائزیشن منصوبوں میں صوبے کے تمام اضلاع کو آبادی کے تناسب سے حصہ دیا جا رہا ہے ۔ ان منصوبوں میں بیوہ خواتین، خصوصی افراد، ٹی ڈی پیز، قدرتی آفات سے متاثرہ گھرانوں اور معاشرے کے دیگر مستحق طبقات اور آف گرڈ علاقوں کو ترجیح دی جائے گی۔

