وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 5 اگست کا عوامی جلسہ ایک معمول کا سیاسی اجتماع نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہوگا، جس میں آئندہ کا لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا۔ وہ جمعہ کے روز وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کے مشترکہ پارلیمانی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں 5 اگست کے عوامی جلسے کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور منتخب نمائندوں کو مختلف ذمہ داریاں سونپی گئیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 15 اکتوبر 2025 کو منصب سنبھالنے کے بعد صوبائی حکومت نے تمام معاملات کے حل کے لیے ہر ممکن آئینی، قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کیا اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت بھی مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے مسائل کے حل کی خواہاں تھی، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود مخالفین کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ انہوں نے عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا، دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس صاحبان سے ملاقات کی کوشش کی اور ایک تقریب میں چیف جسٹس کے سامنے بھی اپنا موقف پیش کیا کہ بطور وزیراعلیٰ اپنی جماعت کے قائد سے ملاقات ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبے کے فیصلے عمران خان کے وژن کے مطابق کرنا ان کی ذمہ داری ہے کیونکہ عوام نے موجودہ منتخب نمائندوں کو عمران خان کے نام پر ووٹ دیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کو ملنے والے عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کرنا ساڑھے چار کروڑ عوام کے فیصلے کی توہین ہے اور وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی فیملی، بہنوں اور ذاتی ڈاکٹرز کو ملاقات کی اجازت دی جائے اور انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان قوم کا اثاثہ اور ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں، اس لیے ان کے علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف پر فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزامات عائد کیے گئے، تاہم پارٹی کا مطالبہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کی غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا واضح موقف ہے کہ “فوج بھی میری، ملک بھی میرا” اور پارٹی نے بھی ہر منفی بیانیے کا سیاسی اور جمہوری انداز میں جواب دیا، تاہم اس کے باوجود مسائل حل نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کرنے کے بعد اب پرامن احتجاج ہی آخری آئینی اور جمہوری راستہ رہ گیا ہے کیونکہ آئین ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ 5 اگست کا جلسہ عام سیاسی جلسہ نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن اجتماع ہوگا، جسے انہوں نے “سیمی فائنل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد آئندہ مرحلے کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جلسے میں آئندہ کا لائحہ عمل پوری قوم کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمانی اراکین کی مشاورت سے عوام کی سہولت، ٹریفک کی روانی اور دیگر اضلاع سے آنے والے کارکنوں کی آسان رسائی کو مدنظر رکھتے ہوئے جلسے کا مقام عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم کے بجائے پشاور موٹروے کے قریب ایک وسیع کھلے میدان میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔