وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا بنیادی مراکز صحت کے لیے ڈاکٹرز کی 700 نئی آسامیوں کی تخلیق کا عمل ایک ہفتے کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت پانچویں ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری کانفرنس وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوئی، جس میں صوبہ بھر میں اضلاع کی سطح پر عوام کو خدمات و سہولیات کی فراہمی، مسائل اور شکایات کے ازالے میں اب تک کی پیش رفت اور گورننس نظام کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بنیادی مراکز صحت کے لیے ڈاکٹرز کی 700 نئی آسامیوں کی تخلیق کا عمل ایک ہفتے کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ غیر ضروری ریفرل سسٹم میں کمی کے لیے مقامی سطح پر مراکز صحت کو مضبوط اور فعال بنانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم قدرتی آفات کو روک تو نہیں سکتے مگر بروقت منصوبہ بندی اور بہتر انتظامات کے ذریعے نقصانات کو کم ضرور کر سکتے ہیں، اسی تناظر میں متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی فلڈ کنٹیجنسی پلان مرتب کر کے فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو ارسال کیے جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے سیاحتی مقامات پر ایمرجنسی حالات میں موثر رابطہ میکنزم قائم کرنے، جبکہ محکمہ بلدیات کو بڑے روڈز پر اسٹریٹ لائٹس دو ہفتوں کے اندر مکمل اور فعال بنانے کی بھی ہدایت جاری کی۔اجلاس میں دارالامانوں سے متعلق امور پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے وارڈنز کی تعیناتی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کا حکم دیا اور سوات دارالامان کی عمارت جلد از جلد مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر دارالامانوں کے لیے مستقل عمارتوں کی تعمیر کی غرض سے علیحدہ سکیم لانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ مستحق طبقات کا تحفظ اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، جبکہ سروس ڈیلیوری میں احساس اور انسانی رویے کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ وزیر اعلیٰ نے شکایات کے ازالے میں دو ہفتوں سے زائد تاخیر کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ شکایات کی نوعیت کے مطابق بروقت اور مؤثر ازالہ کیا جائے، کیونکہ اچھا رویہ دلوں کے زخم بھر دیتا ہے جبکہ برے رویے مزید تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے میں گورننس کے حوالے سے ہونے والے مثبت اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس عمل کو مزید بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔
انہوں نے محکموں کی سطح پر شکایات ازالے کے نظام کو موثر بنانے، سہولیات کی عدم دستیابی والے اضلاع پر خصوصی توجہ دینے اور کارکردگی جانچنے کے لیے پبلک آوٹ پٹ انڈیکیٹرز شامل کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ فراہم کی گئی سہولیات سے عوام کس حد تک مستفید ہو رہے ہیں اور ان کے اطمینان کی شرح کیا ہے۔ اس کے علاوہ مویشی منڈیوں اور سبزی منڈیوں میں صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کی بھی ہدایت دی گئی۔ کانفرنس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری کے پہلے مرحلے کے تحت اقدامات پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور مجموعی سروس ڈیلیوری کی شرح 87 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ شکایات اور مسائل کے حل کی شرح میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
بریفنگ میں آگاہ کیا گیا کہ 70 فیصد شکایات کا ازالہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی 30 فیصد پر پیش رفت جاری ہے، جس پر وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ باقی ماندہ شکایات بھی جلد از جلد نمٹائی جائیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پبلک سروس ڈیلیوری کے پہلے مرحلے میں سات مختلف شعبوں کے 19 پبلک سروس ایریاز پر توجہ مرکوز کی گئی اور مجموعی طور پر 1100 سے زائد پبلک سروس سہولیات کا احاطہ کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے 5000 جبکہ تھرڈ پارٹی مانیٹرز کی طرف سے 4000 سے زائد وزٹس کیے گئے۔ انتظامی سیکرٹریز نے 30 کھلی کچہریاں منعقد کیں اور 94 سہولیات کا معائنہ کیا، جبکہ کمشنرز کی جانب سے 18 کھلی کچہریوں کا انعقاد اور 49 سہولیات کے دورے کیے گئے۔مالی امور سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ پروگرام کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے مجموعی طور پر 10 ارب روپے جاری کیے گئے جو مختص شدہ مجموعی فنڈز کا 45 فیصد بنتا ہے، جن میں ایم اینڈ آر کے تحت 4.4 ارب اور ایس ڈی آئی کے تحت 5.6 ارب روپے شامل ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ بنیادی و دیہی مراکز صحت کے لیے ڈاکٹرز کی 700 آسامیوں کی تخلیق حتمی مراحل میں ہے اور تمام اضلاع کی جانب سے بیوٹیفیکیشن پلانز جمع کرا دیے گئے ہیں۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری کے دوسرے مرحلے ”ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری 2.0“ کا باضابطہ اجراءبھی کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ دوسرے مرحلے میں مزید دس پبلک سروس ایریاز کو شامل کیا گیا ہے، جن میں سیکنڈری ہسپتال، کالجز، واٹر سپلائی، ویسٹ کولیکشن، مین ہولز، اریگیشن کینالز کی ڈیسلٹنگ، سرائیز، تحصیل دفاتر، سروس ڈیلیوری سنٹرز اور ڈسٹرکٹ بیوٹیفیکیشن پلان شامل ہیں۔ دوسرے مرحلے میں مجموعی طور پر 29 پبلک سروس ایریاز کے لیے 285 انڈیکیٹرز کی ٹریکنگ شامل کی گئی ہے اور واضح اہداف کے ساتھ ٹائم لائنز کا بھی تعین کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ اراکین صوبائی کابینہ، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، صوبہ بھر سے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے کانفرنس میں شرکت کی۔
